آفات میں نقد امداد: مسئلہ بداعتمادی نہیں، نظام کی مضبوطی کا ہے/محمد امین اسد

انسانی بحران جب جنم لیتے ہیں تو وہ صرف گھروں کو نہیں اجاڑتے بلکہ سوچ کے سانچوں کو بھی ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ ایسے میں ایک جو سوال بار بار ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہےوہ یہ ہے کہ کیا ضرورت مند کے ہاتھ میں نقد رقم دینا واقعی ایک خطرہ ہے؟ ہمارے معاشرے میں ایک پرانی سوچ راسخ ہے کہ چیز ہاتھ میں ہو تو محفوظ ہے، اور رقم ہاتھ میں آئے تو ضائع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ جب راشن کے تھیلے تقسیم ہوتے ہیں تو دل مطمئن رہتا ہے، مگر جب کسی محتاج کو رقم دی جاتی ہے تو شکوک و شبہات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ لیکن کیا یہ اندیشہ حقیقت پر مبنی ہے، یا محض ایک نفسیاتی دھوکا جسے ہم نے حقیقت کا درجہ دے دیا ہے؟ جب ہم عالمی تجربات اور سنجیدہ تحقیقات کی روشنی میں اس سوال کو پرکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ اس قدر سادہ نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔

گزشتہ بیس برسوں میں انسانی امداد کے میدان میں ایک خاموش مگر اہم تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ نقد رقوم کی صورت میں امداد اب کوئی نیا تجربہ نہیں بلکہ ایک آزمودہ طریقہ بن چکی ہے۔ عالمی ادارہ برائے مہاجرین، عالمی ادارہ برائے خوراک اور ریڈ کراس و ریڈ کریسنٹ کی عالمی تحریک نے دنیا کے نہایت مشکل حالات میں اس طریقے کو اختیار کیا ہے۔ اسی دوران کیش لرننگ پارٹنرشپ نیٹورک جیسے اداروں نے اس میدان میں تحقیق، رہنمائی اور اصول وضع کیے ہیں۔ ان تمام کوششوں کا نچوڑ یہ ہے کہ نقد امداد اب ایک بے قابو خطرہ نہیں بلکہ ایک منظم اور سنجیدہ نظام کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

نقد امداد کے خلاف سب سے بڑا اعتراض یہ ہوتا ہے کہ یہ راستے ہی میں کہیں ضائع ہو سکتی ہے یا غلط ہاتھوں میں جا سکتی ہے۔ یہ خدشہ اپنی جگہ درست ہے، مگر یہ صرف نقد رقوم تک محدود نہیں۔ اشیائی امداد بھی اسی خطرے سے دوچار رہتی ہے، بلکہ کئی مرتبہ زیادہ۔ کالف نیٹورک کی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ نقد امداد میں ضیاع کی شرح نسبتاً کم رہتی ہے، جبکہ اشیائی امداد میں طویل ترسیلی مراحل کے باعث ضائع ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جب امداد خریداری سے لے کر گودام، پھر نقل و حمل اور آخرکار تقسیم تک کئی ہاتھوں سے گزرتی ہے تو ہر مرحلہ ایک نئی کمزوری پیدا کرتا ہے۔ اس کے برعکس نقد امداد، خصوصاً جب باقاعدہ مالیاتی نظام کے ذریعے دی جائے، ان مراحل کو کم کر دیتی ہے اور نگرانی کو آسان بنا دیتی ہے۔

اسی حقیقت کو Overseas Development Institute کی تحقیق بھی تقویت دیتی ہے۔ مختلف انسانی پروگراموں کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ نقد امداد میں بدعنوانی یا ضیاع کے زیادہ ہونے کا کوئی واضح ثبوت موجود نہیں۔ بلکہ جہاں مناسب نگرانی اور نظم موجود ہو، وہاں یہ طریقہ دیگر ذرائع کے برابر بلکہ بعض اوقات زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اصل مسئلہ طریقہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کارفرما نظام ہے۔

ان خدشات کے تدارک کے لیے انسانی امداد کے شعبے نے مضبوط حفاظتی انتظامات اختیار کیے ہیں۔ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں کے ذریعے امداد کی ترسیل اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس نظام میں ہر فرد کی شناخت کی تصدیق ہوتی ہے، ہر لین دین کا ریکارڈ محفوظ رہتا ہے، اور کسی بھی مرحلے پر جانچ پڑتال ممکن ہوتی ہے۔ تمام عالمی امدادی جیسے اداروں کے بڑے پروگراموں میں یہ طریقہ اب ایک معمول بن چکا ہے۔

عالمی سطح پر امداد فراہم کرنے والے اداروں نے بھی اس نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یورپین کمیشن نے بڑے پیمانے پر نقد امداد کے لیے واضح اصول وضع کیے ہیں، جن میں مختلف مراحل کو الگ رکھنا، شفافیت کو یقینی بنانا اور غیر جانب دار نگرانی کو فروغ دینا شامل ہے۔ اسی طرح گرینڈ بارگین نے عالمی سطح پر نقد امداد کو فروغ دینے، باہمی ہم آہنگی بڑھانے اور جوابدہی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل فراہم کیا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی نے بھی اس عمل کو مزید قابلِ اعتماد بنایا ہے۔ ڈیجیٹل ادائیگیاں، بائیومیٹرک تصدیق اور برقی واؤچرز نے نقد امداد کو زیادہ شفاف اور قابلِ نگرانی بنا دیا ہے۔ اب ہر مرحلہ ریکارڈ کا حصہ بنتا ہے اور اس کی جانچ ممکن ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محض ٹیکنالوجی کافی نہیں۔ متاثرہ لوگوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ، شکایات کے ازالے کے مؤثر نظام اور معلومات کی فراہمی اس عمل کو مکمل بناتے ہیں۔ جب لوگوں کو معلوم ہو کہ انہیں کیا ملنا ہے اور وہ کسی بے ضابطگی کی نشاندہی کر سکتے ہیں تو وہ خود اس نظام کے محافظ بن جاتے ہیں۔

نقد امداد کا ایک اور اہم پہلو اس کی افادیت ہے۔ مختلف تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب لوگوں کو رقم دی جاتی ہے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق بہتر فیصلے کرتے ہیں۔ ہنگامی حالات میں جہاں ضروریات ہر لمحہ بدلتی ہیں، یہ لچک بے حد قیمتی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس اشیائی امداد بعض اوقات لوگوں کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتی۔ اسی لیے جہاں مقامی منڈیاں فعال ہوں، وہاں نقد امداد زیادہ بہتر نتائج دیتی ہے۔

البتہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہر صورت میں نقد امداد ہی موزوں نہیں ہوتی۔ بعض حالات میں، خاص طور پر جہاں منڈیاں متاثر ہوں یا رسائی مشکل ہو، اشیائی امداد ناگزیر ہو جاتی ہے۔ اصل حکمت یہی ہے کہ حالات کے مطابق مختلف طریقوں کو متوازن انداز میں استعمال کیا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ نقد امداد کے بارے میں پائے جانے والے شکوک زیادہ تر تاثر کا نتیجہ ہیں، ٹھوس شواہد کا نہیں۔ انسانی امداد کے شعبے نے وقت کے ساتھ ایسے نظام تشکیل دیے ہیں جو شفاف، جوابدہ اور مسلسل بہتر ہو رہے ہیں۔ خطرہ ہر نظام میں ہوتا ہے، مگر مضبوط نظام اسے قابو میں رکھتے ہیں۔

بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے سوال کا زاویہ بدلنا ہوگا۔ یہ پوچھنے کے بجائے کہ نقد امداد مکمل طور پر محفوظ ہے یا نہیں، ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا یہ دیگر طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر، تیز اور باعزت ہے۔ اکثر ہنگامی حالات میں اس کا جواب ہاں میں ملتا ہے۔ انسان کو اس کی ضرورت کے وقت اختیار دینا محض امداد نہیں بلکہ اس کے وقار کا اعتراف ہے۔ اور جب یہ اختیار ایک مضبوط، شفاف اور جوابدہ نظام کے ذریعے دیا جائے تو یہ نہ صرف مدد پہنچاتا ہے بلکہ اعتماد بھی بحال کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر انسانی امداد محض بقا کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ ایک باوقار زندگی کی بنیاد بن جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں