فارن افیئرز میں شائع ایک اہم مضمون میں پگاہ بنی ہاشمی نے ایران کی موجودہ صورتحال کا نہایت گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران اس وقت صرف بیرونی دباؤ، امریکہ، اسرائیل اور معاشی پابندیوں کا سامنا نہیں کر رہا بلکہ ایک شدید اندرونی بحران سے بھی گزر رہا ہے جو طویل مدت میں زیادہ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
مصنفہ کے نزدیک ایران ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں اس کے تین ممکنہ راستے بنتے ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ ریاست مزید سختی اختیار کرے، سکیورٹی اداروں کا کردار بڑھ جائے اور عوامی آزادیوں کو مزید محدود کر دیا جائے، جس سے وقتی استحکام تو آ سکتا ہے مگر اندرونی بے چینی بڑھتی رہے گی۔ دوسرا امکان بتدریج اصلاحات کا ہے، جس میں نظام اپنی بقا کے لیے کچھ لچک دکھائے، نوجوانوں اور متوسط طبقے کو جزوی ریلیف دے اور عالمی سطح پر محدود مفاہمت کی کوشش کرے۔ تیسرا اور سب سے خطرناک راستہ وہ ہے جہاں معاشی دباؤ، عوامی بے اطمینانی اور سیاسی تقسیم مل کر ایک بڑے نظامی بحران کو جنم دیں جو ریاستی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔
یہ تجزیہ واضح کرتا ہے کہ ایران کا مستقبل صرف جنگی میدان میں نہیں بلکہ اس کے اپنے معاشرے، معیشت اور ریاستی اداروں کی اندرونی کیفیت میں طے ہوگا۔ اگر اندرونی دباؤ میں کمی نہ آئی تو بیرونی خطرات سے قطع نظر، ایران کو ایک بڑے اور غیر متوقع موڑ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران شدتِ جذبات سے مغلوب ہو کر یا اندرونی کشمکش کے زیرِ اثر کچھ نامناسب اور غیر دانشمندانہ جنگی اقدامات کر رہا ہے جو اسے بہت سے ہمدرد عناصر سے بھی محروم کر رہا ہے۔ سعودیہ کے غیر فوجی انڈسٹریل سیکٹر پر حملہ ایران کے اندر کے تضادات کو واضح کر رہا ہے۔ قبل ازیں میں بارہا یہ لکھ چکا ہوں کہ ایران کی شکست یا توڑ پھوڑ اندرونی طور پر ہی ممکن ہے۔ بیرونی قوتیں مل کر بھی اسے مکمل شکست نہیں دے سکتیں۔ ایران کو اب بھی اپنی اندرونی کمزوریوں کو مصلحت آمیز انداز سے دور کرنا ہوگا۔ ایرانی یوتھیاز اس کی استقامت کو توڑ سکتے ہیں۔
ہمارے لیے سب سے پہلے پاکستان ہے۔۔۔ مگر پاکستان کو بہر قیمت و بہر صورت اس جنگ سے دور رہنا چاہیے۔ ایران اور ایرانی ختم نہیں ہونے جا رہے لہٰذا اس جنگ میں ہماری شمولیت سے اس جنگ کے شعلے اور لپٹیں براہِ راست پاکستان میں در آئیں گی۔ ایرانی نہ بھی کچھ کریں تو سامراجی قوتیں پاکستان میں انتشار کو ضرور ہوا دیں گی۔
نیز ہمارا تیسرا بارڈر اور اندرون ملک بھی غیر محفوظ ہونے جا رہا ہے۔ خدا خیر کرے۔


