وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ انہیں پیٹرول پر 95 روپے اور ڈیزل پر 203 روپے اضافے کی تجویز دی گئی جو انہوں نے مسترد کردی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا بوجھ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج کی تاریخ میں پیٹرول فی لیٹر 544 روپے ہونا چاہیے تھا جو حکومت آپ کو 322 روپےمیں دے رہی ہے جبکہ ڈیزل کی فی لیٹرقیمت 790 روپے ہونی چاہیے تھی جو حکومت آپ کو 335 روپے میں فراہم کررہی ہے۔ اب ہمُ دیکھتے ہیں اعداد و شمار کیا کہتے ہیں اس وقت اوپیک باسکٹ سے ہم کروڈ آئل خریدتے ہیں اس کا ریٹ ہے 116 ڈالر فی بیرل 26 مارچ 2026
ایک بیرل میں 159 لیڈ ہوتا ہے ڈالر کا ایکسچینج ریٹ 26 مارچ 2026 کو 279.20 روپے – اس کا مطلب ہے 32387.20 روپے فی بیرل اب اس کو لیٹر میں 203 روپے میں پاکستان میں پڑتا ہے -20 روپے ریفانری کے فی لیٹر لیوی پر 20 روپے 87 پیسے بڑھا کر 105.37 روپے کر دی ہے -کسٹم اور دیگر چارجز 15 سے 17 روپے -کلائمنٹ سپورٹ چارجز 2.50 روپے -فریٹ کارگو ان لینڈ ڈپو تک چارجز 8 سے 10 روپے-آئل مارکیٹنگ کمپنی اور ڈیلر کمیشن 15 سے 18 روپے -ٹوٹل ٹیکس اور دیگر چارجز 368.90 روپے سے 375.90 روپے -اس میں گورنمنٹ ٹوٹل ٹیکسز اور دیگر 130.50 روپے سے 132.50 روپے -بغیر گورنمنٹ ٹیکسز اور دیگر کے پیٹرول فی پیڑ بنتا ہے 238.50 روپے سے 245 روپے
اس حساب سے دیکھے حکومت ٹیکسز سمیت پیٹرول دے رہی ہے 321.17 روپے فی لیے اور حکومت کو کاسٹ کرتا ہے ٹیکسز سمیت 368.90 روپے سے 375.90 روپے اس حساب سے حکومت کو خسارہ ہو رہا ہے 47.73 روپے سے 54.19 روپے
لیکن اگر گورنمنٹ ٹیکسز نکال دیا جائے تب حکومت کو کو 130.50 سے 132.50 روپے فی لیٹر وصولی ہو رہی ہے اس میں سے حکومت کے مطابق خسارہ نکال دے تو تو حکومت کو ٹیکس اور دیکر وصولی فی لیٹر ہو رہی ہے 78.31 روپے سے لے کر 82.77 پیسے فی لیٹر اسکا مطلب ہے حکومت کو درحقیقت خسارہ نہیں ہو رہا وصولی میں کمی ہو رہی ہے
دوسرے جانب مختلف حکومتیں اپنی عوام کو ٹیکس معطلی اور ٹیکس میں کمی کر کے اپنے عوام کو ریلیف دے رہی ہیں اس کی تازہ مثال
بھارت اور ویتنام نے ایندھن پر ٹیکس میں کمی اور معطلی کا اعلان کر دیا۔
بھارتی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارامن نے کہا ہے کہ عوامی ریلیف کے لیے پیٹرول اور ڈیزل پر مرکزی ایکسائز ڈیوٹی کم کر دی ہے۔
دوسری جانب ویتنام کی وزارتِ خزانہ کی جانب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول پر ٹیکس عارضی طور پر معطل کر دیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی اور خصوصی ٹیکس معطلی 15 اپریل تک مؤثر رہے گی۔


