پیپلز پارٹی: نظریاتی ورثہ، عالمی سیاست اور بدلتی سمت/شہباز الرحمن

پیپلز پارٹی کو کس سمت لے جایا جا رہا ہے، یہ ایک سوچنے والا ذہن بخوبی محسوس کر سکتا ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی—ایک ایسا رہنما جس کا وژن صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا بلکہ عالمی سطح پر بھی اثرانداز ہوتا تھا۔ ان کے تعلقات شاہ فیصل جیسے رہنماؤں سے تھے، جبکہ معمر قذافی جیسے انقلابی لیڈرز ان کے قریبی ساتھیوں میں شامل تھے۔
یہ وہی بھٹو تھے جنہوں نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک اور مایوس قوم سے وعدہ کیا کہ “ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹمی طاقت حاصل کریں گے”، اور اسی عزم نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنایا۔
آج جب ہم عالمی حالات—خصوصاً امریکہ، اسرائیل اور ایران کے تناظر میں—دیکھتے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو عالمی سطح پر اس اہم بیانیے کا حصہ کیوں نہیں بنایا جا رہا؟ اس کی ایک وجہ بعض حلقوں کے مطابق آصف علی زرداری کے دورِ حکومت میں ایران کے ساتھ تعلقات، جیسے ایران گیس پائپ لائن منصوبہ، اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) جیسے اقدامات ہو سکتے ہیں۔
تاہم، ایک گہرا تجزیہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اصل وجہ شاید نظریاتی ہے۔ پیپلز پارٹی آج بھی ایک حد تک سوشلسٹ نظریات کی نمائندگی کرتی ہے، جو عالمی طاقتوں—خاص طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے حامی حلقوں—کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ یہی وہ جماعت ہے جس کے کارکنوں نے جنرل ضیاء الحق کے دورِ جبر میں بھی ہمت نہیں ہاری اور کئی کارکنوں نے جلاوطنی اختیار کی، حتیٰ کہ کچھ نے لیبیا جیسے ممالک میں سیاسی پناہ لی۔
لہٰذا، اگر آج پیپلز پارٹی کو عالمی سیاست میں محدود کیا جا رہا ہے تو اس کی وجوہات محض وقتی نہیں بلکہ تاریخی، نظریاتی اور جغرافیائی سیاست سے جڑی ہوئی ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں