خلیج کی شطرنج/علی عباس کاظمی

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک ایسی شطرنج ہے جس میں مہرے اکثر وہی ہوتے ہیں جو بظاہر کھیل کا حصہ نہیں لگتے۔ ریاستیں فیصلے کرتی ہیں، عالمی طاقتیں حکمتِ عملیاں بناتی ہیں مگر ان سب کے بیچ سب سے زیادہ قیمت عام انسان ادا کرتا ہے۔ حالیہ حالات میں خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات میں پیش آنے والے واقعات اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ جب طاقت، خوف اور مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں تو انصاف اکثر سب سے پہلے قربان ہوتا ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں خلیجی ریاستوں نے اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ پر انحصار کیا۔ فوجی اڈے دیے گئے، دفاعی معاہدے کیے گئے اور ایک ایسا تاثر قائم کیا گیا کہ یہ اتحاد ان ممالک کو ہر قسم کے بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے گا۔ لیکن آج صورتِ حال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ وہی اڈے جو کبھی تحفظ کی علامت تھے اب ممکنہ خطرات کا مرکز بن چکے ہیں۔ ایران جیسے علاقائی طاقت کے بیانات اور اقدامات نے اس خدشے کو مزید گہرا کر دیا ہے کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں نشانہ ان ریاستوں کی سرزمین بھی بن سکتی ہے۔ اس پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی تناظر میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ردِعمل کا رخ ان قوتوں کی طرف نہیں جاتا جو اصل تنازع کی جڑ ہیںبلکہ ان کمزور طبقات کی طرف مڑ جاتا ہے جو نہ تو پالیسی سازی میں شریک ہیں اور نہ ہی کسی عسکری فیصلے کا حصہ۔

متحدہ عرب امارات ایک ایسا ملک ہے جو دنیا بھر میں اپنی ترقی، نظم و ضبط اور مذہبی رواداری کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو اپنی عبادات اور روایات پر عمل کرنے کی آزادی حاصل ہےجو اس کی ایک نمایاں اور مثبت پہچان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ کسی مخصوص گروہ کے ساتھ مختلف نوعیت کا برتاؤ ہو رہا ہے تو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی اور ایک فکری تضاد پیدا کرتی ہے۔متحدہ عرب امارات میں پاکستانی بالخصوص اہلِ تشیع کے حوالے سے سامنے آنے والے حالیہ واقعات اس حوالے سے ایک قابلِ غور پہلو کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو خود کو رواداری، ترقی اور عالمی ہم آہنگی کی علامت کے طور پر پیش کرتا رہا ہے وہاں اگر کسی مخصوص عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد کو محض شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہو تو یہ نہ صرف اس امیج بلکہ بنیادی انسانی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔

پاکستان واپس آنے والےمتاثرہ افراد کی کہانیاں سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ محض انتظامی نہیں بلکہ انسانی المیہ بن چکا ہے۔ اچانک کالز، شناخت کی تصدیق کے بہانے طلبی، پھر گرفتاری اور ملک بدری۔۔۔یہ سب کچھ ایسے ہو رہا ہے جیسے کوئی مجرموں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہو، حالانکہ ان افراد کا جرم صرف ان کا عقیدہ یا وہاں پر مذہبی اجتماعات میں شرکت بتایا جا رہا ہے۔ ان کے معاشی حقوق، بقایا جات اور سالہا سال کی محنت ایک لمحے میں بے معنی ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خلیجی معیشت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر آج وہی لوگ غیر یقینی اور بے بسی کا شکار ہیں۔یہ صورتحال ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہےکہ کیا ریاستی سلامتی کے نام پر بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟ اگر خطرہ واقعی بیرونی ہے تو اس کا جواب اندرونی کمزور طبقات کو نشانہ بنانا کیسے ہو سکتا ہے؟ اس طرزِ عمل سے نہ تو اصل خطرہ ٹلتا ہے اور نہ ہی استحکام پیدا ہوتا ہے بلکہ اس کے برعکس معاشرتی تقسیم اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔

مزید تشویش ناک پہلو اس معاملے پر پراسرارخاموشی ہے۔ جہاں سوشل میڈیا پر متاثرہ افراد کی ویڈیوز اور بیانات گردش کر رہے ہیں، وہیں مرکزی میڈیا، خصوصاً پاکستان میں اس معاملے کو وہ توجہ نہیں دے رہا جس کا یہ مستحق ہے۔ یہ خاموشی محض صحافتی غفلت نہیں بلکہ ایک اجتماعی بے حسی کی علامت بھی بن سکتی ہے۔ جب مسائل کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔پاکستان جیسے ملک کے لیے، جہاں لاکھوں افراد روزگار کے لیے خلیجی ممالک کا رخ کرتے ہیں، یہ مسئلہ محض ایک فرقے یا گروہ تک محدود نہیں رہتا۔ یہ ہر اس شخص کا مسئلہ ہے جو بیرونِ ملک محنت کر رہا ہے، اپنے خاندان کا سہارا بنا ہوا ہے اور اپنی شناخت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے۔ اگر آج کسی ایک گروہ کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو کل یہ دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے۔

یہاں حکومتِ پاکستان کی ذمہ داری بھی واضح ہوتی ہے۔ سفارتی سطح پر مؤثر آواز اٹھانا، متاثرہ شہریوں کے حقوق کا دفاع کرنا اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ اسی طرح عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا فرقے تک محدود نہیں بلکہ ایک اصولی معاملہ ہے۔۔۔انسانی وقار کا، انصاف کا، اور مساوات کا۔یہ بھی ضروری ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنی ترجیحات کا جائزہ لیں۔ کیا ہم صرف اس وقت آواز اٹھاتے ہیں جب مسئلہ براہِ راست ہمیں متاثر کرے؟ یا ہم اصولوں کی بنیاد پر بھی کھڑے ہو سکتے ہیں؟ سچ بولنا، حق کا ساتھ دینا اور مظلوم کے لیے آواز اٹھانا محض اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ خوف پر مبنی پالیسیاں کبھی دیرپا استحکام نہیں دے سکتیں۔ اصل طاقت انصاف، شفافیت اور برابری میں ہوتی ہے۔ اگر خلیجی ریاستیں واقعی اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتی ہیں، تو انہیں اپنے اندر موجود تنوع کو قبول کرنا ہوگا نہ کہ اس سے خوفزدہ ہونا ہوگا۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ وہ معاشرے زیادہ دیر تک قائم رہتے ہیں جو اپنے کمزور طبقات کو تحفظ دیتے ہیں نہ کہ انہیں قربانی کا بکرا بناتے ہیں۔

یہ وقت ہے کہ ہم اس معاملے کو صرف ایک خبر کے طور پر نہ دیکھیں، بلکہ ایک آئینہ سمجھیں۔۔۔ایسا آئینہ جس میں ہم اپنی اجتماعی ترجیحات، اپنی خاموشیوں اور اپنے اصولوں کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ مسئلہ کہاں پیش آ رہا ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس پر کہاں کھڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں