انسان کس بلا کا نام ہے ؟-ڈاکٹر مختیار ملغانی

انسان کیا ہے ؟ کیا یہ بغیر پنکھ والا دوپایا ہے ؟ سوچنے والا سرکنڈا ، لواطاتی فکر کا حامل درندہ یا پھر میڈونا آئیڈیالوجی کا علمبردار فرشتہ ؟

انسان نے اپنے آپ کو ہمیشہ خدا کی شبیہہ اور مشابہت کے طور پر سمجھا۔ اور چونکہ خدا کی تعریف ممکن نہیں تو انسانی فطرت بھی تعریف کے پیمانوں سے پھسلتی نظر آتی ہے ، انسان کا اپنے آپ کیلئے معمہ ہونا اس کے روحانی ، اخلاقی اور حتی کہ جسمانی پہلو سے بھی ایک بحران کی علامت ہے ۔

” اپنے آپ کو پہچانو ” کے نعرے تلے انسان بار بار اپنے روحانی اندھیرے کو روشن کرنے کی سعی کرتا ہے ، درست است کہ خود کو پہچاننے والی چابی سے بلاشبہ کئی تالے کھولے جا سکتے ہیں لیکن سوال دشوار ایں است کہ کیا یہ چابی انسان کی دسترس میں ہے بھی ؟

انسان نے زبان کی بدولت شعور پایا تو ایسا نہیں کہ اس کے سامنے انسانوں کی ایک ہی قسم تھی جہاں سے انسانی فطرت کی حقیقت کو کشید کیا جا سکتا تھا ، انسانوں میں بھی رنگا رنگ اقسام تھیں اور ہر قسم اپنی فطرت میں دوسری سے جدا تھی ، کم ازکم سات آٹھ بارے تو آج تصدیق سے کہا جا سکتا ہے ، حیوان ناطق ان میں سے ایک ہے ، شعور پانے والی پہلی نسلوں کو کئی الجھنوں کا سامنا رہا ہوگا ، بادی النظر میں معلوم یہ ہوتا ہے کہ جنابِ مسیح وہ پہلی بڑی شخصیت تھے جنہوں نے انسانوں کی ان مختلف اقسام کی فطرت کو یکجا کرتے ہوئے ایک آفاقی رنگ دینے کی کوشش کی ۔

انسان کبھی جنت میں تھا یا نہیں ، اس بحث کو ایک طرف رکھ دیجئے، لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ جنت میں واپسی کیلئے کوشاں ضرور یے، حتیٰ کہ لبرل طبع فرد بھی ، جو اسی زندگی کو جنت بنانا چاہتا ہے ، جس کا سلوگن راحت ہے اور راحت کا تصور سب سے پہلے چونکہ جسم سے متعلق ہے تو دنیوی آسانیوں اور آسائشوں کی جدوجہد بھی جنت سماں تخلیق کرنے کی کوشش ہے ، جسم کو مرکز بنا کر راحت کی جدوجہد میں مذہب کو پیٹھ پیچھے دھکیلنا ایک فطری ردعمل ہے، اپنی قسمت کا خود مالک بننے کی کوشش میں یہاں سے فرد دو قطبوں کے درمیان ہانپنے لگا ہے ، اجتماعیت اور انفرادیت ۔

اجتماعیت کا پرکشش تصور ایک ایسی مشین کی صورت اختیار کر چکا ہے کہ کامیابی اور نتیجہ خیز زندگی اسی سماج سے ہی جڑے ہیں، سماج اس قدر مضبوط فینومن ہے کہ باقاعدہ محسوس ہوتا ہے گویا سماج ہی آفاقی اصولوں کا سر چشمہ ہے ، اور سماج کی تکمیل کا راز فرد کی انفرادیت کو آخری قطرے تک نچوڑ کے رکھ دینا ہے جیسے گنے کے جوس والی مشین کام کرتی ہے ، ورنہ سماج کاملیت کو نہیں پہنچ پاتا ۔ لیکن کئی اذہان کیلئے یہ چیز قابلِ قبول نہیں کہ ان کی انفرادیت کو تہہ و بالا کر دیا جائے، ایسی شخصیات اس سماج کو گنے کے جوس والی مشین کے طور پر تو دیکھتے ہیں لیکن اس سے کام وہ ایسا لیتے ہیں کہ یہ مشین ان کی انفرادیت میں فقط رس گھولنے تک محدود رہے، خوش نصیبی اور راحت کشید کرنے کا کام لیتے ہیں وہ اس مشین سے ، دونوں صورتوں میں مگر زندگی کا مقصد پھر نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے ۔مقصد محدود ہوتے ہوئے صرف مادی کامیابی سے منسلک ہو رہتا ہے اور کسی طور اندر کا خالی پن اس سے نہیں بھرتا، اس مقام پہ انسان شعور رکھتا ہو تو اسے واقعی محسوس ہوتا ہے کہ وہ خسارے میں ہے ۔

سوشلزم، اور لبرلزم ، دونوں افکار کی ابتداء قدیم یونان سے ہوئی ، بالترتیب اجتماعیت اور انفرادیت اس کا سر چشمہ ہیں ، انفرادیت جب بحران سے ٹکرائی تو سوشلزم نے جنم لیا اور اجتماعیت کو اسلوبِ زندگی ٹھہرایا ، اجتماعی تصور ڈوبتا نظر آیا تو لبرلزم نے آنکھ کھولی ۔

سوشلزم میں انفرادی شعور کی کوئی اہمیت نہیں ، قوت ارادی کو غلام بنا کر آزادی پانے کی خواہش اس فکر کا بنیادی نکتہ ہے، سقراط نے مگر اجتماعی قسمت پر چار حرف بھیجتے ہوئے انفرادی شعور کی ترجیح پر زور دیا کہ خوشی کا اصل ٹھکانہ انسان کے جذبات کی تسکین کے ساتھ ساتھ اس کی رائے کے احترام میں پوشیدہ ہے ، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کی بنیادوں میں مذہبی قنوطیت کا بڑا دخل ہے کہ قسمت سے انکار ممکن نہیں اور دہر انسان پہ غالب ہے ، آج انفرادیت پسند مگر اس بات سے انکاری ہے تو اس کی الجھن شدید تر ہے، انفرادیت پسندی کیلئے پلیٹ فارم مگر بابلی تہذیب میں پروان چڑھی فکر ، سونے کا مسلک یا سونے کی پرستش یعنی cult of gold نے مہیا کیا ، سونے کا مسلک ایک علیحدہ موضوع ہے ، اس پہ کسی دن تفصیل سے بات کریں گے ۔

سقراط کے وقت کا انفرادیت پسند ایک اخلاقی آدمی سے آج معاشی آدمی میں بدل گیا ہے ، منڈی کا شراکت دار ، پروٹیسٹنٹ اخلاقیات کے سرمایہ دارانہ نظام نے دنیا میں خالصتا ، مقدار ، کی بادشاہت کو قائم کیا جہاں سمجھ سے بالاتر اصول لاگو ہیں ، بظاہر جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے ، گویا کہ ، مقدار، کی یہ بادشاہت اب انسان کا آخری ٹھکانہ منوانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، بابلی سونے کا مسلک اب کاغذ کے روپیوں میں بدل چکا ہے، اور روپے کی روزمرہ بنیادوں پر گرتی ہوئی قیمت کنعانی تہذیب کا وہ بت ہے جسے قربانی کا شرمناک بت کہا جاتا کہ بچوں کی قربانی وہاں چڑھائی جاتی ۔ کئی لبرل محققین کے نزدیک اب بڑے بڑے میٹروپولیٹن شہروں میں کوکا کولا کی بوتلیں ہاتھ میں لئے خود پسند ، بے نام جھومتے نوجوان ہی نئی صدی کا اثاثہ ہیں جو خاندان، وطن اور تاریخ جیسی” خرافات ” سے خود کو آزاد کرتے چلے جائیں گے ۔ سوشلزم کے آہنی دیوتاؤں کو کولا کی پلاسٹک بوتل سے شکست دی جائے گی ۔

توکل انسانی اقدار میں عظیم ترین وصف ہے اور تکبر انسانی فطرت کا بدترین پہلو ، توکل کو پانا کسی بھی دوسرے وصف سے مشکل ہے اور تکبر کا انسانی فطرت میں اترنا نہایت آسان ، خود کو پہچاننے کی تگ و دو میں انسان پہ یہ راز افشاں ہوتا ہے کہ اس کی فطرت میں عظمت کا خبث بدرجہ اتم موجود ہے ، عظمت ایک پہلو سے عدل و حق کا پیمانہ بھی ہے، کسی انسان کی عظمت کو اس کے دشمنوں کے انتخاب سے پہچانا جا سکتا ہے، اول روز سے انسان نے فطرت ، قسمت ، دہر ، وقت اور موت کو اپنا دشمن جانا، دشمنوں کا انتخاب بتا رہا ہے کہ انسان کس قدر عظمت کا حامل ہے .

اٹھارویں انیسویں صدیوں کے فلسفیانہ افکار نے پھر مافوق البشر عظمت کو منزل مقرر کیا ، بیسویں صدی میں ٹیکنالوجی نے اس کا بھرپور ساتھ دیا، آگ اور مادے کا قدیم مسلک اب کارخانوں میں عملی طور پر لاوا اگل رہا تھا ۔
انسان کے اندر اپنے روحانی ہونے کا ایک احساس موجود ہے، دوسری طرف مادی جسم اس کے سامنے ہے، روح اور مادے کا یہ تضاد کئی ایسے سوالوں کو جنم دیتا ہے جن کے جواب انسان کے پاس نہیں ، اسی تضاد کو مٹانے اور سوالوں کے جواب پانے کی غرض سے تاریخی ارتقاء کے دوران جادوگر، کیمیادان، پجاری اور دیگر مردان خردمند توانائی کو مادے اور مادے کو توانائی میں بدلنے کی جدوجہد کرتے رہے، مگر آج دن تک بات نہ بن پائی کہ ان سوالوں کا کوئی دو ٹوک جواب دیا جا سکے، تھوڑا غور کیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان سوالوں کے جوابات جاننے کی خواہش انسان کی موت سے جڑی ہو، انسان اگر فانی نہ ہوتا تو ایسی کسی جدوجہد کا تکلف ہی نہ کرتا ، گویا کہ لافانی ہونے کی خواہش ہی اس تمام جدوجہد کی اصل وجہ ہے ۔

اپنی اس ناتوانی سے دو دو ہاتھ کرتے ہوئے انسان نے ایک متوازی فطرت کو اپنے لئے تخلیق کیا جس میں وہ لافانی ہے اور اپنی قسمت کا خود خالق اور مالک ، فنون لطیفہ اور میدان جنگ اسی متوازی فطرت کے عکاس ہیں، ٹیکنالوجی نے آج روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کو سامنے لا کر شکل مذید واضح کر دی ہے کہ مافوق البشر عظمت انسان کا فقط خواب نہیں ۔ فاؤسٹ کا خواب مگر یہ روبوٹ قطعاً نہیں ہو سکتا کہ مادے کی یہ منہ زوری کائناتی توانائیوں میں ہلچل کا باعث بن سکتی ہے ، ہمارے استاد حیدر جمال مرحوم کے الفاظ میں ” یہ عظمت کامل تباہی کو دعوت دے رہی ہے ” کہ یہ کائناتی اصولوں کے خلاف ہے، روح کے لافانی ہونے کے باوجود انسانی شعور کیلئے موت کا خوف ضروری ہے، تمام راحتیں پانے کے باوجود بھی دل میں ” مونجھ ” کا عنصر لازمی چیز ہے، شعور سے موت کا خوف اور دل سے مونجھ جاتی رہی تو انسان کاملیت کی سیڑھی سے چار قدم نیچے اتر آئے گا اور پھر مافوق البشر عظمت کی دوڑ پاتال کی سمت چل پڑے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں