سماجی معاہدے (Social Contract) کا نظریہ محض ایک خشک قانونی دستاویز یا سیاسیات کی کتابوں تک محدود کوئی تصور نہیں ہے، بلکہ یہ وہ زندہ جاوید رشتہ ہے جو ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان حقوق اور فرائض کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ سیاسی مفکرین، بالخصوص جان لاک، تھامس ہوبز اور روسو کے مطابق، ریاست کا وجود اس لیے عمل میں آیا تھا کہ وہ شہریوں کے جان، مال، عزت اور بنیادی حقوق کا تحفظ کر سکے۔ اس معاہدے کے تحت عوام اپنی مطلق آزادی کا ایک حصہ ریاست کے سپرد کرتے ہیں، اور بدلے میں ریاست انہیں انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کی پابند ہوتی ہے۔
جب ریاست یا اس کے مقتدر ادارے اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنے لگتے ہیں اور شہریوں کو “خادم” کے بجائے “رعایا”، “بلڈی سویلین”یا “کیڑے مکوڑے” سمجھنا شروع کر دیتے ہیں، تو یہ سماجی معاہدہ فکری، اخلاقی اور قانونی طور پر ختم ہو جاتا ہے۔ آج کی دنیا میں ہائبرڈ نظاموں کا ابھرنا اسی معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے، جہاں جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر آمریت کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک میں جہاں ایگزیکٹو ادارے سیاسی مداخلت کے زیر اثر ہوتے ہیں، وہاں مخالفین کو کچلنے کے لیے قانون کو بطور ہتھیار استعمال کیا جاتا ہے، جسے علمی اصطلاح میں “Lawfare” کہا جاتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ صورتحال اس کی ایک بدترین مثال پیش کرتی ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف قائم کیے گئے بیسیوں مقدمات، جنہیں “انتقامی کلسٹر کیسز” (Revenge Cluster Cases) کا نام دیا گیا ہے، اسی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں۔
جب ریاست کسی ایک سیاسی لیڈر کو میدانِ سیاست سے باہر کرنے کے لیے درجنوں مقدمات کا جال بنتی ہے، تو عدالتوں کے لیے بھی بریت کا فیصلہ کرنا ایک غیر معمولی چیلنج بن جاتا ہے۔ اس عمل میں ایگزیکٹو اور بعض اوقات عدلیہ کے مخصوص عناصر مل کر ملزم کے لیے زمین تنگ کر دیتے ہیں۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ اس سماجی معاہدے کی موت ہے جس پر ریاست کی بنیاد کھڑی ہوتی ہے۔
ہائبرڈ نظاموں میں عوامی بیانیہ تبدیل کرنے اور اپوزیشن کو “ملک دشمن” ثابت کرنے کے لیے اکثر “فالس فلیگ” آپریشنز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ نو مئی جیسے واقعات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد تحریک انصاف جیسی بڑی سیاسی قوت پر زمین تنگ کرنا تھا۔ ان واقعات کی آڑ میں سیاسی تنظیم کو توڑنا، کارکنوں کو غیر قانونی طور پر قید کرنا اور پارٹی میں “شکست و ریخت” کا مصنوعی عمل شروع کرنا دراصل اس ریاستی جبر کا حصہ ہے جو عوام کو ان کے بنیادی جمہوری حقوق سے محروم کرتا ہے۔
جب انتخابی دھاندلی کے ذریعے ایک ایسی حکومت مسلط کی جائے جو براہ راست اس جبر کی “مستفید” (Beneficiary) ہو، تو وہ حکومت عوامی جوابدہی کے بجائے اپنے “محسن” اداروں کو جوابدہ ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں عوام کا ریاست سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے اور بے یقینی کی فضا جنم لیتی ہے۔
عمران خان کو عرصہ دراز سے اڈیالہ جیل میں بند رکھنا، انہیں بنیادی طبی سہولیات، ذاتی معالجین اور فیملی سے ملاقات کی اجازت نہ دینا، نہ صرف پاکستانی قانون بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہے۔ جب ریاست اپنے ہی شہریوں کو “دشمن” سمجھ کر ان پر تشدد کرے اور انہیں سیاسی عمل سے دور رکھے، تو وہ ریاست نہیں بلکہ ایک “پولیس اسٹیٹ” کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں کارکنان کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست قانون کو عوام کی بہتری کے بجائے ان کی سرکوبی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
جمہوری اور آئینی ڈھانچے میں اسٹیبلشمنٹ، سول بیوروکریسی اور عدلیہ دراصل عوام کے ٹیکسوں سے چلنے والے ادارے ہیں، جن کا کام عوام کی خدمت ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں یہ “خادم” خود کو عوام کا “ماتحت” سمجھنے کے بجائے “حاکم” سمجھنے لگے ہیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جن ممالک میں افسر شاہی اور عسکری ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں، وہاں ترقی اور خوشحالی کا عمل رک جاتا ہے اور ادارے “ریاست کے اندر ریاست” بن جاتے ہیں۔
آئین اور قانون ریاست اور عوام دونوں پر فرائض عائد کرتے ہیں۔ اگر عوام ٹیکس ادا کر کے ریاست کو چلاتے ہیں، تو ادارے اس بات کے پابند ہیں کہ وہ عوام کی مرضی اور آئین کے تابع رہیں۔ جب ادارے اپنی طاقت کے زعم میں عوام کو حقیر سمجھیں گے، تو وہ دراصل اس سماجی بنیاد کو کھو دیں گے جس پر ان کا اپنا وجود قائم ہے۔
اگر عدلیہ محض “تکنیکی وجوہات” کی بنیاد پر انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہے، تو معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا تصور دم توڑ دیتا ہے۔ عدالت کو توازن اور عدل قائم کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ہائبرڈ نظاموں میں “عدالتی قبضے” (Judicial Capture) کا مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ غیر قانونی ریاستی اقدامات کو قانونی لبادہ پہنایا جا سکے۔ جب قانون سے ماورا کاموں پر عدالتیں خاموش رہیں یا تماشائی بن جائیں، تو عوام کا ریاست پر یقین ختم ہو جاتا ہے۔ آئین ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی دیتا ہے، اور اگر اس رائے پر کوئی غیر قانونی پابندی لگائی جائے، تو عدلیہ کا کام اس جبر کو روکنا ہے۔
ہائبرڈ نظاموں میں “خوف اور دہشت” کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں قیادت کا کام قوم کو خوف دلانا نہیں بلکہ ہمت دینا ہے۔ جب تحریک انصاف کی قیادت خود “خوف اور دہشت” کا شکار ہو کر مصلحت پسندی کی باتیں کرے، تو وہ قوم کا حوصلہ پست کرتی ہے۔ اگر قیادت اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی اور عدلیہ کے غلط اقدامات پر ان کا نام لینے سے کتراتی ہے تو وہ عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔
پی ٹی آئی کی قیادت کو چاہیے کہ وہ عمران خان کی طرح مخالف کو نام لے کر للکارے اور عوام کو یہ یقین دلائے کہ ان کی طاقت کے سامنے کوئی مصلحت یا بیساکھی نہیں ٹھہر سکتی۔ عمران خان نے جس جرات سے طاقتوروں کو بے نقاب کیا ہے، وہ اس “سیاسی بیداری” کی علامت ہے جو عوام کو ان کی اپنی طاقت سے روشناس کرواتی ہے۔
جنوبی ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی فوجی یا غیر منتخب اداروں نے سویلین بالادستی کو چیلنج کیا، ملک عدم استحکام کا شکار ہوا۔ میانمار میں جرنیلوں نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا، جس کا نتیجہ خانہ جنگی اور معاشی تباہی کی صورت میں نکلا۔ اسی طرح مصر میں عوامی مینڈیٹ کو کچلا گیا، جس سے سماجی انارکی پیدا ہوئی۔ جبکہ لاطینی امریکہ دہائیوں تک فوجی آمریتوں نے سیاسی عمل کو روکے رکھا، لیکن آخر کار عوامی طاقت ہی غالب آئی۔
پاکستان میں بھی عمران خان کی رہائی اور حقیقی آزادی کا حصول تب ہی ممکن ہے جب ادارے اپنی آئینی حدود میں واپس جائیں اور عوام کی طاقت کو تسلیم کریں۔
ریاست کا وجود عوام سے ہے، اور کوئی بھی ادارہ ریاست سے برتر نہیں ہو سکتا۔ عوام غلط نہیں ہوتے، وہ ٹیکس ادا کر کے ملک چلاتے ہیں۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان اس بات کا اعلان ہے کہ عوام اب مزید مصلحت پسندی اور خوف کی فضا کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ خوف اور دہشت کی فضا کو صرف اللہ پر ایمان اور حق کی خاطر ڈٹ جانے سے ہی ختم کیا جا سکتا ہے۔
ریاست اور عوام کا رشتہ لگی لپٹی باتوں پر نہیں بلکہ دو ٹوک سچائی پر مبنی ہونا چاہیے۔ حق کا علم بلند رکھنا اور ظلم کے سامنے کلمہ حق کہنا ہی وہ واحد راستہ ہے جو پاکستان کو ترقی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ریاست کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دشمن باہر نہیں، بلکہ وہ رویے ہیں جو عوام کو ریاست سے بدظن کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ڈائیلاگ، اظہارِ رائے کی آزادی اور عدل و انصاف کو ترجیح دی جائے تاکہ ریاست اور عوام کے درمیان ٹوٹے ہوئے رشتے کو دوبارہ جوڑا جا سکے۔ عوام کی طاقت کے سامنے کوئی “بیساکھی” یا “مصلحت” نہیں ٹھہر سکتی۔
ڈریں مت، اللہ پر ایمان رکھیں، حق کی خاطر جئیں اور حق کا علم بلند کر کے جئیں۔


