یہ کہانی کل شب کی نہیں ہے۔ یہ ہفتوں مہینوں کی بھی نہیں ہے۔ شاید برسوں میں بھی اس کا احاطہ مشکل ہے۔ غالب امکان ہے دہائیاں بھی کم پڑ جائیں بلکہ صدیوں کا قصہ ہے۔ پہلی بار جب زلزلہ آیا تھا ، آٹھ اکتوبر تھا ، دو ہزار پانچ کی بات ہے ، سکول کی اسمبلی کا وقت تھا۔ صبح صبح ایک صاحب اپنی بھینس کو پیاز کھلا رہے تھے ، میں نے پہلی بار بھینس کو یوں زبردستی پیاز کھلاتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسمبلی میں نوعیت کی پیشکش تھی ، یکے بعد دیگر کب ختم ہوئی محسوس نہیں ہو سکا تھا۔۔۔ ہماری اسمبلی کے گراؤنڈ سے چند قدم نیچے ان کی گوشت کی دکان کے عقبی رقبے میں ایسا ہو رہا تھا، اور یہ معمول سے ہٹ کے تھا۔۔ وہ بھینس پیاز نہیں کھا رہی تھی۔۔ وہ بار بار اچھلتی کودتی تھی اور پیاز باہر آتے جا رہے تھے۔۔۔ اسی اثناء میں آٹھ اکتوبر آٹھ بج کے باون منٹ پہ زمین نے ہچکولے لیے تھے۔۔ یوں لگا بھینس بھاگ رہی ہے اور سب اس لیے بھاگ رہے ہیں۔۔ اس سے پہلے زلزلے کا صرف تذکرہ سنا تھا ، ہوتے ہوئے پہلی بار آزمایا تھا۔۔ ہم سکول سے گھر آچکے تھے تب بھی علم نہیں ہوا تھا یہ ہو کیا رہا ہے۔۔ اس کے بعد کئی مہینوں اس کے اثرات رہے۔۔ ہمارے اوپر سے جہازوں کے جہاز کشمیر کا رخ کرتے تھے۔۔ جیسا کہ کچھ نیا ہوا ہے۔۔ دنیا نیا رخ لے رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔۔ ہم سے بڑے یعنی بچوں کے والدین اور بزرگ و دیگر سینئرز نے زندگیوں میں زلزلہ تجربہ کیا ہوگا تو ان کے لیے نئی بات نہیں تھی۔۔ یہی ماجرا کورونا کا ہے۔۔ یہ ایک الگ داستان ہے بلکہ کئی اقساط میں داستانوں کی سی ڈیز ہیں۔۔ ہم کورونا کے دنوں میں امدادی کارروائیوں میں جت گئے۔۔ ڈس انفیکٹنٹ سپرے سے لے کر پیکجز کی گھر گھر فراہمی ہمارا معمول بن گیا تھا۔۔ ہم نے گھر گھر اور مساجد اور چرچز کا رخ بھی کیا۔۔ وہاں بھی ہم نے صفائی ستھرائی کو موضوعِ سخن بنایا۔۔ کورونا ڈیز میں کچھ عرصہ ترلائی کلاں تنہائیوں میں بھی گزارا۔۔ ایک نئی جگہ میں ایک نیا تجربہ ایک نیا رنگ دے رہا تھا۔۔ اسی طرح برفانی طوفان نے مری کو جکڑا۔۔ اس کے اثرات بھی مرتب ہوئے تھے۔۔ یہ سب تجربات تھے اور نئے نئے تھے۔۔ نئی سوچ ، نئے زاویے ، نئی تاریخ رقم ہو رہی تھی۔۔ اسی طرح متوقع عالمی جنگ پاکستان کی دہلیز پہ آ کر مذاکرات میں تبدیل ہو گئی ہے یا ایسی خبریں گردشِ ایام میں ہیں۔۔ لیکن یہ جنگ ابھی سے نہیں شروع ہوئی۔۔ ہمیں تین سال پیچھے جانا ہو گا جب اکتوبر چوبیس میں یہ شروع ہوئی بلکہ مزید کئی دہائیوں پیچھے جانا پڑے گا بلکہ ہابیل کابیل تک بھی بات پہنچ جائے گی ، مزید زور دیا تو ممنوعہ پھل کے درخت کو چھیڑنے کے عوض جنت سے بے دخلی والا معاملہ بھی آج مورخہ تئیس اپریل دو ہزار چھبیس میں ہونے والے مذاکرات سے نتھی کیے جا سکتے ہیں۔۔ کڑیاں ملانے سے کیا نہیں ہو سکتا۔۔ لیکن ہمیں اتنا پیچھے جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ مبالغہ یہاں محض مبالغے کا صیغہ ہے۔۔ نکتہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے جب کوئی نیا تجربہ ہوتا ہے تو اس کے دیرپا اثرات ہوتے ہیں جیسے کچھ سالوں سے جنگ کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں چونکہ کئیوں کی زندگی میں یہ پہلا سا تجربہ ہے۔۔ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی تو اس کے نتائج بھی صدیوں پہ محیط ہوتے۔۔۔ جسے کل رکنا تھا آج موقع بن جانا غنیمت ہے۔۔۔ ہم آج کی بات کریں تو پاکستان ہمارا ملک ہے۔۔ یہ ویسا ہی ملک ہے جیسے باقی ممالک ہیں۔۔ جیسی سیاسی جماعتیں اور فورسز یہاں ہیں ویسی ہی باقی خطوں میں بھی ہیں۔۔ بلا شبہ دنیا ترقی کے زینے چڑھتی ہے۔۔ جو پیچھے رہ جاتے ہیں وہ تیسری دنیا ہے جو کوشش کرتے رہتے ہیں وہ دوسری کہلاتے ہے۔۔ یہ تقسیم بھی انسانوں نے بنائی ہے۔۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ پلک جھپک میں پہلی دنیا تیسری اور تیسری پہلی ہو جاتی ہے۔۔ یہ مبالغہ بھی ہو سکتا ہے اور یہاں مبالغے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔۔ مقصود محض یہ ہے کہ قوموں کا زوال و عروج تاریخ کا حصہ ہے۔۔ اس کے پیچھے کیا حکمتیں ہیں ، کیسا داؤ پیچ ہے ، دنیا کا بانی جانتا ہے۔۔ اور اس کی مخلوق کسی حد تک جاننے کی تگ و دو کرتی ہے۔۔ میرا نکتہ اس قصے میں دب رہا ہے لہذا نکتے پہ آتے ہیں۔۔ نکتہ یہ ہے کہ جنگ تاریخ کا حصہ ہے۔۔ ہونی نہیں چاہیے آئڈیل ازم یہی کہتا ہے۔۔ لیکن ہوتی ہیں تو جنگ کے دوران جنگ کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں۔۔ کبھی ایمپائرز تھیں۔۔ بادشاہتیں تھیں۔۔ بعد میں جمہوریت آ گئی ہے۔۔ پراپیگنڈا ہے لیکن بہترین آمریت سے بہتر شکل ہے۔۔ آہستہ آہستہ شعور نیچے تک پہنچ گیا ہے۔۔ اب عوام سوال کرتی ہے اور شکوہ جواب شکوہ کی صورت سامنے آتی ہے۔۔ دنیا کے تمام لوگ مشکل گھڑی میں اپنے قبائل مٹی ملک قوم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔۔ پاکستان اس گھنائونی دنیا اور اس کے گھنائونے دستور میں اپنا کیا ہی کردار نبھا سکتا ہے؟ کیا پاکستان کوئی الگ دنیا ہے؟ کیا اس کے پڑوسی نہیں ہیں؟ کیا اڑوس پڑوس والے نیوکلیئر پاورز نہیں رکھتے؟ کیا ان کے اسلحے بے زنگ ہیں؟ کیا ان کے اندر کا وحشی نہیں جاگتا؟ کیا پاکستان نے ماضی قریب میں مسلط کی گئی جنگ کا مضبوطی سے سامنا نہیں کیا؟ کیا ایسا نہ ہوتا تو وہ مزید پیش قدمی نہ کرتے؟ ایسے میں کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہوتی تو وہ قومی مفاد سامنے رکھتے اور اپوزیشن بھی ساتھ کھڑی ہوتی۔۔ اور جو بھی ایسا کرتا وہ لائق تحسین ہوتا چونکہ دنیا اس وقت ‘بیلنس آف پاور’ یا ‘جس کے لاٹھی اس کے بھینس’ یا ‘محبت اور جنگ میں سب جائز ہے’ جیسی دستوری شقوں پہ رواں دواں ہے۔۔ کیا چین کو نہیں کہا تھا کہ ہماری دوستی شہد سے میٹھی ہے؟ اور ہمالیہ سے بلند ہے؟ کیا افغانستان کے ساتھ ہماری تاریخ یکجا نہیں ہے؟ کیا عالمی طاقتوں نے وہاں گھناؤنے کام نہیں کیے؟ کیا اس میں پاکستان کا کردار نہیں تھا؟ کیا ہجرت نہیں ہوئی تھی؟ کیا مہمان نوازی نہیں ہوئی؟ کیا مہمانانِ گرامی کو واپس بے دخل نہیں کیا؟ کیا یہ دونوں ممالک دشمن بن کے پنپ سکتے ہیں؟ کیا مذاکرات کی کوششیں نہیں ہوئی ہیں؟ یہ سوالات اپنی جگہ ، اصل بات یہ ہے بہرحال پڑوس ہے اور تاریخ یکجا ہو جاتی ہے ، جیو سٹریٹجک مفادات کے تحت چیزیں بنتی بگڑتی رہتی ہیں! ایک طرف یہ سب تو دوسری جانب اکھنڈ بھارت اور زائنسٹ ایجنڈے کی باتیں کرنے والے اور سازشوں کی پوٹلی ہمارے پیچھے نہیں ہے؟ کیا وہ پاکستان کے برابر ہے یا رقبے و آبادی و دیگر کئی اعتبارات سے بڑی پوٹلی ہے؟ ایسے میں ایک حکومت ہے۔۔ وہ اگر جائز ہے تو پھر قصہ تمام ہے اور اگر ناجائز ہے اور دھاندلی کی پیداوار ہے تو یہ کہانی محض چار سال پرانی نہیں ہے۔۔ جب جب حکومت بنتی بگڑتی ہے۔۔ اس میں قومی و بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ شامل ہو جاتی ہے چونکہ پاکستان کسی سیارے میں نہیں ہے بلکہ دنیا کے ہی ایک حصے پہ ہے۔۔ اور جو آج ریاست مخالف پڑیا بیچنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں کل اسی ریاست کو تقدس کی مالا پہنانے میں کتنا وقت لیں گے؟ جب بات بیرونی سطح پہ آتی ہے تو اندرونی نظام کی خرابیوں کی بجائے بیرونی سطح پہ ہونے والے معاملات کو زیر بحث لایا جاتا ہے وگرنہ عدمیت پہ مبنی ‘داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں’ سے لے کر سفارتکاری سے جڑی کہاوتیں جیسے ‘نہ تورانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی’ تو موجود ہی ہیں۔۔ پاکستان دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ایک ملک ہے جس کے ارد گرد دیگر ممالک ہیں ، اور دیگر ممالک کی طرح بہت ساری کمزوریوں کے باوجود ‘پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے’ کو بنیاد بنا کر اپنے تئیں جیسی تیسی سفارت کاری کی کوشش کر رہا ہے اور اس اقدام پہ تحسین کے لائق ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ دیگر ممالک کا کردار نہیں ہے لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے پاکستان نے کوئی کردار نہیں ادا کیا ، یہ دونوں صورتیں اپنی جگہ قائم ہیں، جب بھی جنگ کا راستہ ہموار ہوتا ہے بہرحال اس جنگ کے خاتمے کا بھی کردار نبھانا ہوتا ہے چونکہ آج نہیں تو کل بہرحال میز پہ ہی مسئلے سلجھ سکتے ہیں۔۔ پاکستان میں بہت سارے مقامی مسائل کے باوجود جب پاکستان کی نمائندگی کے لیے پاکستان کا نمایندہ بیرونی زمین پہ وارد ہوا تو قومی سیاست بارے سوال کیا گیا جس کا جواب یہ تھا کہ وہ ہمارا قومی ایشو ہے اور ابھی بہرحال ملک کی نمایندگی کا وقت ہے۔۔ ہماری تمام تر سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہیں اور لائق تحسین بھی ہیں اور جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے لیکن کبھی کبھی ان وابستگیوں سے بالاتر ہو کر کسی کامن ایجنڈے پہ کھڑا ہونا ضروری ہوتا ہے اور اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اندرونی سطح پہ قومی ایشوز جیسے دھاندلی، کرپشن یا طبقاتی تقسیم کمپرومائز کیے جا چکے ہیں۔۔ پاکستان نے اپنے حصے کی شمع جلانے کی کوشش کی ہے جس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں ابھی موضوعِ بحث نہیں بن رہا البتہ پاکستان کا کردار اور سفارت کاری کی کوشش کو دنیا نے سراہا ہے، اور عوام کو بھی اس پہ بہرحال فخر ہونا چاہئے چونکہ بھری دنیا میں جنگی کیفیت کے غلبے تلے اپنی بساط بھر یہی کاوش ہوسکتی ہے گویا: اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے۔۔ شکوہِ ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا!


