مزدور کا بھٹو زندہ ہے/اطہر شریف

لیبر پالیسی 1972 میں تشکیل دی گئی تھی جس میں یکم مئی کو سرکاری طور پر تعطیل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
یوم مئی مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے
ایوب خان کے دس سالہ دور میں صنعتی مزدور کی اجرت دس سال کے افراط زر کو نکال کر کے دیکھیں تو وہ وہی تھی جو دس پہلے تھی۔چند خاندانوں کو مضبوط کیا جنہوں نے اس دولت کو ملک کے دوسرے طبقوں کے ہاتھ میں جانے سے روکا۔ جو دولت صنعتی ترقی سے حاصل کی گئی وہ باہر کے ملکوں میں گئی۔ جب آپ ایک مخصوص طبقے کو مضبوط کرتے ہیں تو اس سے دولت نیچے سفر نہیں کرتی- پاکستان میں یکم مئی اور اس کی تاریخ کو متعارف کرانے کا سہرا پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جاتاہے، ایوب خان کے زمانے میں پاکستان میں 22 سرمایہ داروں کا ذکر ہوتا تھا-ایوب خان کے خلاف کامیاب تحریک چلی تو سارے پاکستان کے مزدوروں نے ملکر ایک نعرہ لگایا کہ سرمایہ داری مردہ باد۔ بھٹو نےروٹی، کپڑا اور مکان کا دلکش نعرہ لگاکر پورے پاکستان کے مزدوروں کو اپنے ساتھ ملالیا-1960 کی دہائی میں بھی سرمایہ دارانہ نظام بڑا مضبوط تھا جس کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو نے ایک مضبوط اور بڑا اقدام اٹھایا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو بانی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلی لیبر پالیسی 10 نومبر 1972 میں دی جس نے محنت کشوں کی حالت زار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس لیبر پالیسی کے اہم نکات

منافع میں مزدوروں کے حصہ میں 2.5 فیصد سے 4 فیصد تک اضافہ
دونوں مزدوروں یا آجروں کو لیبر عدالتوں میں معاملات لے جانے کی اجازت ہے
ورکرز ویلفیئر فنڈ آرڈیننس ، 1971 کے ذریعہ مزدوروں کے رہائش کے لئے فنڈز کی فراہمی اور کارکنوں کے لئے نمائندگی
آجر کے ذریعہ فی مزدور ایک بچے کے لئے میٹرک تک مفت تعلیم
کارکنوں کے لئے بڑھاپے کی پنشن کا تعارف
آف ڈیوٹی کارکنوں کے لئے موت اور چوٹ کے خلاف لازمی گروپ انشورنس
شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پرانے کارکنوں اور مزدوروں کو پنشن مہیا کی جائیں۔ انہوں نے مزدوروں کے لئے انشورنس پالیسیاں بھی متعارف کروائیں -شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس بات کو یقینی بنایا کہ پرانے کارکنوں اور مزدوروں کو پنشن مہیا کی جائیں۔ انہوں نے مزدوروں کے لئے انشورنس پالیسیاں بھی متعارف کروائیں جو کام کرتے ہوئے زخمی ہوگئے تھے
سوشل سیکورٹی اداروں ہسپتالوں کا قیام
اولڈ ایج اداروں کا قیام بڑھاپے میں پنشن -مشرق وسطہ ،عرب ممالک میں 175000 لیبر کا بھجنا جس سے ذرمبادلہ میں بے پناہ اضافہ
ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس حکومت پاکستان نے پہلی دفعہ ایمپلائز اولڈ ایج پنشنز آرڈیننس کا اجرا 1972 میں کیا تھا- پارلیمنٹ کا منظور شدہ قانون ایمپلائز اولڈ ایج بینفٹس ایکٹ 1976 لایا گیا۔ یہ سوشل انشورنس سسٹم دراصل آئین کی شق نمبر اڑتیس ، کے مقصد پر عمل درآمد کیلیئے شروع کیا گیا ہے
شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی حکومت کے دوران ٹریڈ یونینوں پر عائد پابندی ختم کردی۔اس سے پہلے برخاست کیے جانے والے 40،000 صنعتی کارکنوں کو دوبارہ بحال کیا گیا تھا۔شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کے دوران ایک بار نہیں بلکہ دو بار مزدوری اجرت میں اضافہ کیا گیا تھا۔شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کے دوران مزدوروں کو ان کے کاروبار کی آمدنی میں حصہ دیا گیا-
پاکستان میں ذوالفقارعلی بھٹو شہید مزدوروں اور کسانوں کے پہلے حقیقی لیڈر تھے جنہوں نے ان کو زبان کی طاقت دی انہیں سیاسی شعور دیا اور ان کیلئے انقلابی اصلاحات نافذ کرکے ان کو پاکستانی سماج میں عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کیے- پاکستان کے مزدور اور کسان آج بھی اپنے شہید لیڈر کو یاد کرتے ہیں بھٹو صاحب کے بعد پاکستان کا اور کوئی لیڈر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے مزدوروں اور کسانوں کی حقیقی معنوں میں کوئی خدمت کی ہو
پیپلزپارٹی کی حکومت نے 2011 میں خود مختار کارپوریشنوں میں ورکرز کو ساڑھے سات فیصد شیرز کا حصہ دیا۔ ان میں سب سے بڑی کارپوریشن OGDCL(OIL AND GAS DEVELOPMENT CORPORATION LIMITED) میں ہر مزدور ورکرز کا حصہ لاکھوں میں ملا۔
صوبہ سندھ میں 10 فروری 2018 کو پیپلز پارٹی کی حکومت نے پہلی سندھ لیبر پالیسی کا اعلان کیا جو کہ کم و بیش سہ فریقی مشاورت کے ذریعے ترتیب دی گئی ہے لیبر پالیسی کی دستاویز میں یہ باور کروایا گیا ہے کہ دستور پاکستان کے حوالے سے امور محنت کے حوالے سے جو کُل 8 آرٹیکل پر مشتمل قومی ذمہ داریاں ہیں بلکہ اقوام متحدہ کے یونیورسل ڈیکلریشن برائے انسانی حقوق کے آرٹیکل 23 میں درج 4 اہم و بنیادی نکات کی جانب نشاندہی کی گئی ہے دو حصوں پر مشتمل اس لیبر پالیسی کی چند نمایاں خصوصیات میں شعبہ کانکنوں کے مزدور، خواتین مزدور، بچوں کی مشقت اور جبری مشقت کے تحفظ کو زیر غور رکھتے ہوئے چند خصوصی اقدامات کیے جائیں گے-دارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے تمام مزدوروں سے متعلقہ سہ فریقی باڈیوں کی تشکیل میں 40 فی صد نمائندگی، آجر %40 فیصد اور اجیر %20 فیصد سرکاری افسران کی شمولیت، سندھ پروڈکیٹویٹی کونسل کا قیام
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے درست کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناکام پالیسیاں معیشت کو دفن کرنے کے درپے ہیں جب کہ حکومت نے غریب مزدوروں سے روٹی بھی چھین لی ہے-مزدوروں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کل مزدوروں کے حقوق پر نقب زنی عروج پر ہے جب کہ موجودہ حکومت مزدوروں کے مفادات کا متضاد بن چکی ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے مہنگائی آسمان پر پہنچا کر غریب مزدوروں سے روٹی ہی چھین لی۔17 جنوری 2021 کو سکھر میں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ مزدوروں کو ایک ہزار چوبیس فلیٹ مفت تقسیم کیے جائیں گے، اس کے علاوہ بینظیر مزدور کارڈ کا اجرا بھی جلد کیا جائے گا۔ -آج بھی مزدوروں ،محنت کشوں استحصال زدہ طبقوں کی نمائندہ واحد سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہیں –
بعض حلقوں کے خیال بھٹو اسلامی سوشلزم کی اصلاح کے بانی ہے.بھٹو خود اپنی کتاب poltical situation in pakistan میں لکتے ہے محمّد علی جناح نے ایک سے زیادہ دفعہ اسلامی سوشلزم کا ذکر کیا ہے.کے پاکستان سوشلسٹ طرز حکومت کی حامل اسلامی اسٹیٹ ہو گی.حکوت پاکستان نے قائداعظم کی تقار یر پر مشتمل جو کتاب شاہع کی ہے اس کے صفحہ نمبر 103 پر 26 مارچ 1948 کو چٹاگانگ والی تقریر درج ہے اس میں قائداعظم کہتے ہیں اسلامی سوشلزم کا نظام قاہم ہو گا۔ 27 مارچ 1948 کے نواہے وقت کو دیکھے اس میں بھی اسلامی سوشلزم کا ذکر ہے ۔19 دسمبر 1978 کو بھٹو نے سپریم کورٹ میں کہا لیات علی خان بھی اسلامی سوشلزم کے قاہل تھے۔ حسین شہید سہروردی بھی اسلامی سوشلزم کے حامی تھے۔بھٹو تو ان سب سے آگے اسلامی سوشلزم کا نفاذ کرنے کے بعد آگلے مراحلے کی جانب پش قدمی کر چکے تھےان چاروں کو اپنےراستے سے ہٹا دیا گیا۔ 19 دسمبر 1978 کو بھٹو نے سپریم کورٹ میں کہا لیات علی خان بھی اسلامی سوشلزم کے قاہل تھے۔ حسین شہید سہروردی بھی اسلامی سوشلزم کے قاہل تھے۔بھٹو تو ان سب سے آگے اسلامی سوشلزم کا نفاذ کرنے کے بعد آگلے مراحلے کی جانب پش قدمی کر چکے تھےان چاروں کو اپنےراستے سے ہٹا دیا گیا۔ 4 اکتوبر 1970 کو لاہورمیں ناصر باغ میں تقریر کرتے ہوہے کہا میں مرنے کے لیے تیار ہوں ۔ بھٹو نےکلمہ پڑھتے ہوہے کہا کہ میں شہاد ت کے لیے تیار ہوں۔ شاہد بھٹو 1970 کو جان چکے تھے۔کہ میں جو کچھ کرنے جا رہا ھوں اس کا نتجہ مو ت ہے۔۔

بھٹو کی حکومت نے فروری 1972 میں پہلی مرتبہ جامع لیبر پالیسی بنائی۔ اس کے بعد ملازمین کے بڑھاپے کے ادارے EOBI (ای او بی آئی) Employees’ Old-Age Benefits Institution جیسے اداروں کی تشکیل اور قانون سازی جو 1976 میں قائم ہوا تھا۔جس کے تحت پنشن اب تک مل رہی ہے ۔1972 میں لیبر پالیسی میں صنعت وسیع ٹریڈ یونینوں کی حوصلہ افزائی کی ایک شق تھی تاکہ قومی سطح پر کارکنان کو منظم کیا جاسکے۔ اس پالیسی نے نہ صرف کارخانوں کو پلانٹس اور فیکٹریوں کے انتظام میں حصہ لینے کے لئے فراہم کیا ہے بلکہ کمپنیوں کے منافع (ورکرز شرکت) ایکٹ کے تحت منافع میں 2.5 فیصد سے 4 فیصد تک اضافہ کیا بھٹو حکومت نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن NIIR (این آر آئی آر) National Institute of Industrial Research بھی قائم کیا۔ اس کا مینڈیٹ مزدوروں کی تعلیم کا اہتمام اور قومی سطح پر صنعتی یونینوں کے قیام کی سہولت فراہم کرنا تھا۔

بھٹو حکومت کا مزدورں کے بچوں کے لیے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ مفت تعلیم
ورکرز کے بچوں (تعلیم) کا آرڈیننس ، 1972
(1972 کا آرڈیننس نمبر 11)
[13 اپریل 1972]

مزدوروں کے بچے اور اس سے متعلق ذیلی معاملات۔
مزدور بچوں کی تعلیم۔ – حکومت میٹرک تک مفت تعلیم فراہم کرے گی اور اس کے بعد پولی ٹیکنک یا پیشہ ورانہ تربیت والے انسٹی ٹیوٹ میں ایک بچے کو کسی بھی سطح کی تعلیم سیکشن 3 میں دیئے گئے اسٹیبلشمنٹ میں ملازم ہر کارکن کے دو بچوں کو تعلیم فراہم کرے گی۔

وضاحت –– مفت تعلیم میں درسی کتب کی مفت فراہمی اور داخلہ فیس ، ٹیوشن فیس ، امتحان فیس اور اسکول کے فنڈ سے استثنیٰ شامل ہے۔
بھٹو نے کہا وقت ہی بتائے گا کہ میرا نام اور میرے وقار کے محافظ عوام ہیں اور میرا نام تاریخ کے دل میں ڈھرکتا رہے گا-

بھٹو کہتے تھے میں ہر اس گھر میں رہتا ہوں برسات میں جس کی چھت ٹپکتی ہے
SOURCE: Workers’ Children (Education) (Amendment), Act, 1973 (XXIV of 1973), s.3.
the Labour (Laws) (Amendment) Act, 1975 (XI of 1975), s.2 and Sch.
WORLD BANK
CIA WORLD
MINISTRY OF LABOUR

اپنا تبصرہ لکھیں