“یومِ مزدور صرف ایک چھٹی کا دن نہیں بلکہ ایک تاریخی فیصلہ ہے جسے محنت کش طبقے نے اپنے پسینے سے حاصل کیا ۔”
دنیا کی ترقی، بلند و بالا عمارتیں، جدید صنعتیں، اور چمکتی معیشتیں—یہ سب کسی ایک دن میں وجود میں نہیں آئیں۔ ان کے پیچھے لاکھوں کروڑوں محنت کشوں کا پسینہ، ان کی تھکن، اور ان کے خواب پوشیدہ ہوتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ جن ہاتھوں نے دنیا کو سنوارا، وہی ہاتھ اکثر محرومی، ناانصافی اور نظراندازی کا شکار رہتے ہیں۔ اسی احساس کو زندہ رکھنے کے لیے ہر سال یکم مئی کو یومِ مزدور منایا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ دن واقعی اپنے مقصد کو پورا کر رہا ہے؟
یومِ مزدور کی تاریخ ہمیں ان تلخ حقائق کی یاد دلاتی ہے جب مزدوروں کو 12 سے 16 گھنٹے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا، نہ مناسب اجرت، نہ تحفظ، اور نہ ہی کوئی بنیادی حقوق میسر تھے۔ 1886 میں شکاگو کے مزدوروں نے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی، 8 گھنٹے کام کے مطالبے پر احتجاج کیا، اور اپنی جانوں کی قربانی دی۔ یہی وہ لمحہ تھا جس نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور مزدوروں کے حقوق کی ایک عالمی تحریک کا آغاز ہوا۔ تب سے لے کر آج تک، یکم مئی ان قربانیوں کی یاد اور مزدوروں کے حقوق کے عزم کی علامت بن چکا ہے۔
اگر حالیہ تناظر میں دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں تقریباً 3.6 سے 3.7 ارب افراد لیبر فورس کا حصہ ہیں، یعنی وہ لوگ جو یا تو کام کر رہے ہیں یا کام کی تلاش میں ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد غیر رسمی شعبوں میں کام کرتی ہے، جہاں نہ کوئی سیکیورٹی ہے، نہ مستقل آمدن، اور نہ ہی قانونی تحفظ۔ جبکہ پاکستان میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ یہاں تقریباً 8 کروڑ سے زائد افراد لیبر فورس کا حصہ ہیں، مگر ان میں خواتین کی تعداد نہایت کم ہے، جبکہ مردوں کی شرکت کہیں زیادہ ہے۔ یہ عدم توازن نہ صرف معاشرتی رکاوٹوں کو ظاہر کرتا ہے بلکہ ہمارے نظام کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ بچوں سے مشقت لینا، کم اجرت دینا، اور غیر محفوظ ماحول میں کام کروانا آج بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگرچہ قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسے میں یومِ مزدور محض ایک رسمی تعطیل بن کر رہ جاتا ہے، جس میں تقاریر تو بہت ہوتی ہیں، مگر عملی اقدامات کم دکھائی دیتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا یومِ مزدور کا مقصد صرف ماضی کو یاد کرنا ہے، یا ہمیں حال کو بدلنے اور مستقبل کو بہتر بنانے کا عہد بھی کرنا چاہیے؟ میرے خیال میں، اس دن کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ ہم محض تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک عملی تبدیلی کی بنیاد رکھیں۔
حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں کے لیے منصفانہ اجرت، محفوظ کام کے حالات، اور صحت و تعلیم کی سہولیات کو یقینی بنائیں۔ صرف قوانین بنانا کافی نہیں، ان پر سختی سے عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں آبادی کا بڑا حصہ محنت کشوں پر مشتمل ہے، وہاں مزدوروں کی فلاح کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
دوسری طرف، معاشرے کا بھی ایک اہم کردار ہے۔ ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ گھریلو ملازمین، دیہاڑی دار مزدور، اور فیکٹری ورکرز—یہ سب ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں۔ اگر ہم ان کے ساتھ عزت، انصاف اور ہمدردی کا برتاؤ کریں، تو ایک مثبت تبدیلی خود بخود جنم لے سکتی ہے۔
میری نظر میں، یومِ مزدور کو صرف ایک دن کے طور پر منانا کافی نہیں۔ اسے ایک مسلسل تحریک میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ ایسا دن جو ہمیں ہر سال یہ یاد دلائے کہ محنت کی قدر صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ عمل سے کی جاتی ہے۔ ہمیں اپنے نظام، اپنی پالیسیوں، اور اپنے رویوں میں ایسی تبدیلی لانی ہوگی جو واقعی مزدوروں کی زندگی بہتر بنا سکے۔
اختتامیہ کے طور پر، میں یہی کہنا چاہوں گی کہ اگر ہم واقعی ایک ترقی یافتہ اور مہذب معاشرہ بننا چاہتے ہیں، تو ہمیں اپنے محنت کش طبقے کو وہ مقام دینا ہوگا جس کے وہ حقدار ہیں۔ یومِ مزدور ہمیں صرف ایک تاریخ نہیں دیتا، بلکہ ایک پیغام دیتا ہے—کہ محنت کی عزت کریں، مزدور کے حقوق کا تحفظ کریں، اور ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں کوئی بھی ہاتھ محرومی کا شکار نہ ہو۔


