میں ایک مزدوُر ہوں۔ صدیوں پرانی میری تاریخ ہے۔تاریخ کے ہر دور نے مُجھے سُنہری حروُف سے لکھا ہے۔تقاریب میں میرے قصیدے پڑے جاتے ہیں۔چند منٹ کی تقاریر نے مُجھے عزت و آبرو کی خُوش گوار ہوا مہیا کی ہے۔ پھر مُجھے وہی حبس شدہ ماحول ملا ہے۔لوگ مُجھے مختلف ناموں سے پُکارتے ہیں۔مثلاً ترکھان ، لوہار ، موچی ، جولاہا ، خاکروب ، چوکیدار اور ان کی مانند کئی نام۔ دُنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ میں نے روز اوٙل سے لے کر تا حال نہ تو اپنے نام کو بدلا اور نہ اپنے کام کو۔ نہ اپنی پہچان کو دُھندلا ہونے دیا اور نہ لوگوں کی زبانوں پر میرا نام ہٹا۔یہ میری تاریخ ہے جو ماضی حال اور مستقبل کی گواہ بن کر رہے گی۔ انسانیت کی خدمت کرنا میرا فرض ہے۔ میں اِس فرض کو نبھاتے نبھاتے لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہوں۔لیکن یہ دنیا ، قومیں اور معاشرے ماضی کی طرح قائم و دائم ہیں۔ لوگوں کو جب بھی میری ضرورت پڑتی ہے۔مُجھے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔شب و روز خُوب کام لیتے ہیں۔ کام لینے کے لیے میری خُوب تعریفیں کرتے ہیں۔ جب کام مکمل ہو جاتا ہے تو مُجھے فارغ کر دیتے ہیں۔ کیونکہ اب اِن کو میری ضرورت نہیں۔ اُنھیں مُجھ سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔بلکہ انھیں تو کام سے واسطہ تھا۔ وہ ختم ہوا تو میری حیثیت بھی ختم ہو گئی۔ میری بس اتنی سی اوقات ہے۔
شاید وہ میری دیانت داری سے واقف نہیں ہیں۔ میں تو چوبیس گھنٹے دستیاب رہنے والا ایک مزدور ہوں۔دن بھر کام کاج کرتا ہوں۔ دوسروں کا خیال رکھتا ہوں۔
اگر میں ماضی سے حال تک اپنی رُوداد بیان کروں۔تو میرا دِل چھلنی چھلنی ہو جائے گا۔زبان میں لکنت آ جائے گی۔بدن میں اعصابی لرزہ شروع ہو جائے گا۔میرے احساسات اور جذبات مُجروح ہو جائیں گے۔ میں جب بھی اپنے ماضی کو دیکھتا ہوں تو مُجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔میں پسینے سے شرابُور ہو جاتا ہوں۔ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔میں دوسروں کے وطیروں سے پریشان ہو جاتا ہوں۔ مُجھے مخاطب کرنے کے لیے اِن کے اندازِ بیان میں ایک رُعب و دبدبہ پایا جاتا ہے۔اُن کے بلانے میں کرختگی اور مزاج میں ٹیڑھا پن پایا جاتا ہے۔
وہ جب بھی مُجھے پکارتے ہیں۔ میں مارے خوف کے بھاگ کر چلا جاتا ہوں۔اپنے سے طاقت ور کا خیال بھی ہوتا ہے اور بچوں کے پیٹ بھرنے کی فکر بھی۔میں قدرت سے کیا شکوہ کروں۔شاید اُس نے میرے ہاتھ پاؤں میں قسمت کے چھالے پیدا کیے ہیں۔کندھوں پر فکروں کی گٹھڑی ہے۔میں ہر صُبح و شام محنت کی چکٙی میں پسنے والا آلہ ہوں۔میرا یہ سفر صدیوں سے شروع ہوا ہے لیکن اس کا اختتام بھی صدیوں پر محیط ہے۔ وقت آتا اور چلا جاتا ہے۔واپس نہیں آتا۔اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود بھی نہ تو اِس کی چال میں فرق آیا اور نہ ہی اِس کے گزرنے میں۔
ماضی سے حال تک میں نے خوش حالی کے خواب دیکھے۔بدقسمتی سے اُن کی تعبیر نہ ہو سکی۔میں نے زندگی کے ہر موڑ پر اپنی حیثیت کو چھان کر دیکھا۔قسمت کھوٹی ہی نکلی۔عُمر بھر لوگوں کے گھر بناتا رہا لیکن خود بے گھر رہا۔میں نے بادشاہوں کے محل تعمیر کیے۔ میرے حصٙے میں جھونپڑی کا قرعہ نکلا۔ میرے دُکھ برداشت سے باہر ہیں۔ آزمائشوں کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ ہے۔ جسم و رُوح کو ہر وقت قید و بند کی صُحبتیں برداشت کرنا پڑتی ہیں۔کام کر کر کے میں چکنا چُور ہو جاتا ہوں۔اپنے بدن کو ہر روز ایک نئی سزا سے گزارتا ہوں۔طرح طرح کی باتیں سُنتا ہوں۔میں غمگین ہو جاتا ہوں۔سسکیاں بھرنے لگتا ہوں۔اپنی قسمت پر نوحہ کرتا ہوں کہ شاید مجھے قدرت نے ایسے ماحول میں رکھنا ہے۔جہاں نہ کوئی میری عزت ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ ہے۔لوگ مُجھے دولت کی لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔میں بیل کی طرح حُکم مانتا ہوں۔مُجھے بھی خوش حالی چاہیے۔لیکن شاید وہ سوچتا کہ یہ محدود و مجبور معاملہ ہے۔خواب سے تعبیر تک سفر ممکن نہیں۔کیونکہ میرے وجود کے ارد گرد فکروں کا ہجوم ہے۔ مصروفیت کی رسٙیوں نے مُجھے بُری طرح باندھ رکھا ہے۔میری بد قسمتی کا عالم یہ ہے کہ میں عیدوں، تہواروں اور اپنے دن کے منائے جانے پر بھی چھٹی نہیں کر سکتا۔حالانکہ ماہرین اِلیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے مُجھے اتنا خراج تحسین پیش کر رہے ہوتے ہیں۔جیسے وہ میرے سبھی حقوق و فرائض پورے کر رہے ہیں۔اُن کی تجاویز ایک گھنٹے بعد ہی راہ عدم ہو جاتی ہیں۔اُن کا وجود اور سانسیں ختم ہو جاتی ہیں۔مہنگائی کے اس عبرت ناک دور میں میں اپنا عُذر کسے پُیش کروں۔ میری کوئی سننے والا تو ہے نہیں۔کیونکہ شنوائی تو صاحب حیثیت لوگوں کی ہوتی ہے۔غریب کے لیے تو وہی حقارت اور جُھوٹی تسلی ہوتی ہے۔ہر مکتبہ فکر کے لوگ مُجھے جُھوٹی تسلیاں دیتے ہیں۔ میرا حق کھا کر بڑے بڑے ڈکار لیتے ہیں۔میری تنخواہ پر قرعہ ڈالا جاتا ہے۔ہر قسم کی مراعات تو بڑے مرتبے والوں کے لیے ہے۔مگر افسوس ! جب میری باری آتی ہے تو کنٹریکٹ سسٹم متعارف کروا دیا جاتا ہے۔ اداروں میں تضاد و تعارض کی کُھلی فضا ہے۔ میں ہمیشہ اپنی قسمت پر کڑھتا ہوں۔ حالات میرے گلے میں کشکول ڈال دیتے ہیں۔میں ہمیشہ پریشان رہتا ہوں۔عزت اور غیرت تو میرے خون میں ہے لیکن بے بسی تنگ دستی کی دلدل میں پھینک دیتی ہے۔میں نکلنے کی بار بار کوشش کرتا ہوں۔لیکن میرے پاؤں میں اتنی قوت نہیں جو باہر آ سکیں۔
آج میں کس سے شکوہ کروں۔اپنی قسمت سے ، سیاست دانوں سے ، صاحبِ اختیار والوں سے ، اداروں سے یا فیکٹریوں کے مالکان سے۔جن کے فیصلے میرے ہاتھ پاؤں میں قسمت کے چھالے ڈال دیتے ہیں۔مُجھ پر افسوس نہ تو میں اچھا کپڑا پہن سکتا ہوں اور نہ اچھا کھا پی سکتا ہوں۔نہ اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کر سکتا ہوں۔قدرت نے مُجھے ایک حِس ضرور دے رکھی ہے۔وہ حلال و حرام میں فرق ہے۔میں نے اس فلسفے اور قاعدے کو حفظ کر لیا ہے۔میں سختی سے اس پر کاربند ہوں۔ آج میں اپنے دن کے موقع پر اپنا حق مانگتا ہوں۔ارباب اختیار آج میری آواز سنو۔ میرے حقوق پر غور و خوض کرو۔ان میں ترمیم کرو۔مُجھے میری وہ تمام مراعات ادا کرو تاکہ میں بھی خوش حال بن سکوں۔مجھے بھی خدا نے انسان پیدا کیا ہے بالکل تمہاری طرح۔منور رانا کے شعر سے اجازت چاہوں گا۔
سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے


