ایک مزدور کی کہانی/سراجی تھلوی

صبح کی سفیدی پھیلنے سے پہلے لبِ سڑک پر کھڑا سوچ رہا ہے: آج اگر مزدوری نہ ملی تو کس منہ سے گھر جاؤں؟
آج تو بجلی کا بل بھی بھرنا ہے۔ اوہ خدایا! بچوں کی اسکول فیس بھی ادا کرنی ہے۔
مہینے کا آخر چل رہا ہے، راشن بھی لینا ہے۔

انہی غمِ روزگار کے بکھیڑوں میں الجھی زندگی سے شکوہ کناں مزدور بوجھل قدموں کے ساتھ چل پڑتا ہے کہ شاید آج کی مزدوری تگڑی ملے گی۔ امید و بیم کے درمیان پھنسا مزدور رات کی تاریکی پھیلنے تک خون پسینہ بہاتا ہے۔

چھٹی کے وقت جانے سے پہلے اپنی مزدوری لینے منشی کے پاس پہنچتا ہے:
“منشی صاحب! آج کی مزدوری ملے گی؟”
“کل آجانا، آج یومِ مزدور کی چھٹی ہے۔ بینک بند ہے، سیٹھ بھی گھر پر ہے۔”

مزدور سوچ میں پڑ جاتا ہے: میرے نام پر چھٹی؟ مگر میں صبح کی سفیدی نکلنے سے پہلے گھر سے نکلا اور رات کی تاریکی پھیلتے خالی ہاتھ گھر جاؤں؟ گھر پر بیوی بچے روٹی کے انتظار میں ہوں گے۔

بے چارہ مزدور پھر انہی سوچوں میں گم سُم، بوجھل قدموں کے ساتھ گھر کے لیے نکلتا ہے۔ مگر ہاتھ خالی، تھکن سے چور، کیونکہ آج یومِ مزدور ہے۔

میں کھڑکی سے نیچے دیکھ رہا تھا۔ وہ مزدور لڑکھڑاتے قدموں سے دھیمی آواز میں خود کلامی کر رہا تھا۔ غور سے سنا تو خود کلامی نہیں، کوئی شعر تھا اس کی زبان پر:

نیند آئے گی بھلا کیسے اسے شام کے بعد
روٹیاں بھی نہ میسر ہوں جسے کام کے بعد

بس اس وقت سے میں سوچ رہا ہوں: کیا یومِ مزدور کا مطلب دیہاڑی نہ ملنا ہے؟ پھر یہ چھٹی وہی نوکری پیشہ افراد، دولت و سرکار کے پروردوں کے لیے ہے؟

اب تو مجھے ان مبہم الفاظ اور خوش نما عبارتوں سے الجھن محسوس ہوتی ہے۔
کاش یومِ مزدور کے نام پر مزدور پیشہ افراد کی داد رَسی ہوتی، ان کے زخموں کا مرہم، دکھوں کا مداوا ہوتا، ان کے مسائل حل ہوتے۔ ان کی مزدوری اتنی تو ہو کہ گھر کے چولہے جل سکیں۔ ورنہ ان خوش نما لفظوں اور مبہم نعروں سے مزدوروں کی داد رَسی نہیں ہوتی۔

اپنا تبصرہ لکھیں