روزہ اور بھوک ہڑتال ایک اہم مسئلہ ہیں، جہاں دونوں کو ایک ہی چیز کا نام دے کر ایک دوسرے کے مفہوم کو بے معنی بنایا جا رہا ہے۔ کہیں صبح سے لے کر شام تک روٹی کی تلاش میں بھوکے ننگے لوگ نظر آتے ہیں جو آہیں بھر بھر کر بنانے والے کی اس مخلوق کے جبر، ظلم، ناانصافی، تلخ رویے اور ہوس کی زینت چڑھنے کا شکوہ اپنے ننگے جسم اور افلاس کی چکی میں پسنے سے کر رہے ہیں۔ وہ بھی بیچارے روزانہ اپنے بھوکے ہونے کے نشان جسم، کپڑوں اور چہروں سے عیاں کرتے ہیں۔ ہاتھ پھیلاتے، منہ بسورتے، ترلے کرتے اور کام کرنے کی بجائے لولے لنگڑے ہونے کا احتجاج کرتے ہیں۔
وہیں دوسری طرف صبح سویرے سے لے کر شام تک صیام کے نام پر بھی کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ منہ بسورنا، بہانے بنانا، سستی کا عزم رکھنا، ہاتھ پھیلانا اور منطق کا جادو چلا کر احتجاج کی کال دینا، یہ سب اگر بھوک ہڑتال نہیں تو اور کیا ہے؟
روزہ رکھ کر بھی وہی غیبت، وہی جھوٹ، وہی غصہ، وہی بُرے اخلاق، وہی حرص و لالچ، وہی انا، دکھاوا، کام چوری (کام نہ کرنا) اور ناسمجھ کرتوت؛ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر کسب کو بروئے کار رکھنا، عبادت گاہ میں ٹک ٹاک ، سلیفی ، سر پر ٹوپی اور نیت کھوٹی تو سمجھ لو یہ روزہ نہیں، بس ایک بھوک ہڑتال ہے۔ جو اکثر سڑکوں پر احتجاج کرتے وقت، دفتروں میں علامتی کالی پٹی باندھ کرکام چھوڑ اور چور کا نعرہ لگانے کا روپ اپنے معانی عیاں کرتی ہے۔
صبح سے لے کر اسلم، اکرم، سلمہ، اقصیٰ، شمع اور فرزندِ اکمل سب انھی لاحاصل کاموں میں اپنے ایامِ زندگی میں بھوک پیاس میں گزارتے پائے گئے۔ چوراہی صاحب ریڑھی پر پھل فروخت کرتے وقت بولتے ہیں کہ روزہ لگا ہے۔ سنُنے والے نے سمجھا کہ اسے روزہ کم بلکہ وہ روزے کو زیادہ لگا ہوا ہے۔ ایک طرف چوری اور اوپر سے سینہ زوری کہ میں نے روزہ رکھا ہے۔
قریب سے گزرتے ہوئے ایک نامعلوم بزرگ نے یہ الفاظ سنُے اور کہنے لگا:
“مجھے تو لگتا ہے یہ روزہ گھر رکھ کر بھول چکا ہے۔”
اس وقت حال و بے حال ہے اور بالکل وہی حال ہے جو بھوک ہڑتال کرتے وقت ایک ہڑتالی کا ہوتا ہے۔ یہاں اس لفظ میں سے “ہڑ” نکال لیں تو “تالی” بن جاتا ہے۔ یہ وہی عکس ہے جو لوگ رمضان میں استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر جب روزہ صرف بھوک پیاس برداشت کرنے تک محدود ہو جائے اور دل، زبان، آنکھ، کان اور رویوں میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ باقی بھوک ہی بچتی ہے، فلمیں چلتی ہیں، پیاس تڑپتی ہے، انسانیت مرتی ہے اور ہیرے کی منڈی چلتی ہے۔جہاں غریب کی بھوک اور امیر کے نمائشی صیام کی دکان بکتی ہے۔
تو براہِ راست چوراہی صاحب بھی وہی چور کا سابقہ، راہ جاتے راہی کا واسطہ دیتے، چور بازار میں مذہب، ایمان، عقیدہ اور اعتماد کی قسمیں کھا کھا کر گرد و پیش کرتے نظر آتے ہیں۔ ہر سال بڑے شوق سے روزے رکھنا، صبح سحری کرنا، شام کو افطاری کرنا اور لوگوں کو بار بار بتانا کہ وہ کتنی سختی سے روزہ رکھ رہا ہے، لیکن رویے میں نہیں صرف سختی ہی نکلتی۔
سر پر پگڑی، منہ کی حالت بگڑی، دوسروں کی برائی؛ چور چوراہے پر بلند آواز سے خدا رسول کی قسم کھا ئی ۔ ایک سے بڑھ کر بھی ایک نمبر چیز فروخت نہ کرے پائی تو سمجھ جاؤ وہ بھوک ہڑتال پر ہے۔
بھوک ہڑتال ایک خاموش چیخ ہے جو ہونے کے باوجود اپنے آپ پر حاوی ہو کر ایک احتجاجی نعرہ بلند کرنا مقصود رکھتی ہے۔ یہ وہ چیخ ہے جو زبان سے نہیں بلکہ پیٹ کے خالی پن اور جسم کی کمزوری سے سنائی دیتی ہے۔ بھوک ہڑتال کرنے والا یہ پیغام دیتا ہے کہ اگر اس کے بنیادی حقوق تسلیم نہیں کیے گئے تو وہ مخصوص مدت تک اپنا کھانا پینا چھوڑ دے گا۔ اسی لیے تاریخ میں کئی تحریکوں میں بھوک ہڑتال نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
تاریخ نے بھوک ہڑتال کو بھی یاد رکھا اور ان کرداروں کو بھی جو روزے کے نام پر صبح سے شام تک ایسا کرنے کا لبادہ پہنے نظر آتے ہیں۔ خدا بھوک ہڑتال اور روزہ دونوں کو جانتا ہے، مگر تاریخ بھی ایسوں کو بہت قریب سے جانتی ہے جیسے لباس جسم کو ، کردار شخصیت کو، زنگ لوہے کو، دیمک لکڑی کو، مہنگائی غریب کو، ذلالت ذلیل کو، رسوائی تہذیب کو، اور سویا سپریم کو۔ جیسے یہ افطاری کے وقت اپنا حقیقی روپ سموسے، پکوڑے اور روح افزا کی بوتل پر نظر آتےہیں۔ یہ وہی تضاد ہے جو روح افزا کی بوتل میں روح کے نہ ہونے کا ہے۔
جسم بھوک سے نڈھال ہے مگر دل، کردار، دماغ اور خیال مالا مال ہیں کیوں کہ یہاں دادا کی جاگیر، اماں کی بنائی کھیر، معشوق کی کال مع تصویر، الف، بے ، پے اور رانجے کی ہیر، دن رات لگاتار راہ جاتے پریاں سرعام بغل گیر ۔ سب کے سب ایک متحرک لائن میں لگے ذات پات، اونچ نیچ، گروہی تعصبات اور سیلفی لینے کے چکر میں مگن ہیں۔ سارا دن فلمیں، ڈرامے، چکر، شکر اور آخر میں مکر۔ سر پر ٹوپی، ہاتھ میں سوٹی اور لفظوں میں تقدیر کھوٹی کا بلند نظریہ یہ سب بھوک ہڑتال کو ننگا کر رہے ہیں۔
دن کو بھائی بھائی اور باقی وقت میں چارپائی—یہ وہ کردار کے پہلو ہیں جہاں بتایا جا رہا ہے کہ سب نے مر جانا ہے مگر میں (انا) نہیں مرنا۔ اسی کے نہ مرنے کا نتیجہ یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں روزہ ایک رسمی عمل بن چکا ہے۔ سارا دن بھوکے پیاسے رہنا اور شام کو افطار کے وقت اس قدر اسراف اور فضول خرچی کرنا کہ گویا رب کے ساتھ صرف سلام دعا رکھی ہے۔ جب چاہا اپنی مرضی کی، اس کی بتائی باتوں کو دبا کر اپنی ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اجارہ داری چمکائی۔
اسی اجارہ داری میں پہلے دھوبی، بعد میں نائی اور پھر قصائی۔
مہنگی افطار پارٹیاں، انواع و اقسام کے کھانے اور نمود و نمائش کی ثقافت نے روزے کو ایک سماجی تقریب بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ روزہ روحانی عبادت کے بجائے صرف جسمانی بھوک برداشت کرنے کا عمل رہ گیا ہے۔
اس تضاد میں وہی رہ گیا جو آج کل کسی سے پوچھیں کہ فلاں کے ساتھ کیسی ہے؟
تو جواب ملتا ہے:
“بس سلام دعا ہے، مگر کوئی خاص جانتا نہیں ہوں۔ بس راہ جاتے ہی سلام ہوا ہے۔”


