جیکبز کی کتاب
“The Death and Life of Great American Cities” (1961)
دراصل اس دور کی جدید منصوبہ بندی (Modernist Planning) اور اربنائزیشن
کے خلاف ایک ارگیومنٹ ہے ۔
Jane jacobs
کے مطابق ایک صحت مند اور زندہ (organic) شہر وہ ہوتا ہے جہاں زندگی رکی ہوئی نہیں بلکہ بہتی رہتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ایک ہی محلے میں گھر، دکانیں، چھوٹے کاروبار اور کام کی جگہیں ساتھ ساتھ ہوں ۔۔۔اسی کو وہ mixed-use neighborhood کہتا ہے۔ یعنی آپ کے گھر کے قریب ہی کریانہ، سکول، دفتر یا چھوٹی دکان موجود ہو، لوگ پیدل آئیں جائیں، رکیں، بات کریں، منڈلیاں لگیں، گپ شپ ہو۔۔ ایسی جگہوں پر دن میں بھی زندگی ہوتی ہے اور رات میں بھی، اس لیے تعلق بنتا ہے اور ایک قدرتی حفاظت بھی پیدا ہوتی ہے ۔ چھوٹی گلیاں، زیادہ موڑ، اور چلنے کے قابل راستے لوگوں کو ایک دوسرے سے ملاتے ہیں، اور مختلف لوگ۔۔۔۔امیر، غریب، مختلف پیشوں والے۔۔۔ایک ہی جگہ رہ کر ایک زندہ urban ecosystem بناتے ہیں اور ایک مضبوط کمیونٹی۔۔
جب گلیوں میں دکانیں، گھر اور پیدل چلنے والے لوگ ہوں گے، تو سڑکیں خود بخود محفوظ ہو جاتی ہیں۔ لوگ اپنی کھڑکیوں اور دکانوں سے نظر رکھتے ہیں، جس سے جرائم میں کمی آتی ہے۔مختلف عمر کی عمارتیں (Mixed-Age Buildings) ضروری ہیں۔ جیکبز کے مطابق، ایک ہی محلے میں پرانی اور نئی عمارتیں ہونی چاہئیں تاکہ مختلف قسم کے کاروبار (مہنگے اور سستے) ساتھ ساتھ پنپ سکیں۔چھوٹے بلاکس اور چھوٹی گلیاں پیدل چلنے والوں کو زیادہ راستے دیتے ہیں، جس سے سماجی میل جول بڑھتا ہے
اس کے برعکس جدید شہری منصوبہ بندی، جو اکثر سرمایہ دارانہ (capitalist) ماڈل سے جڑی ہوتی ہے، شہروں کو ٹکڑوں میں بانٹ دیتی ہے: رہائش الگ، بازار الگ، دفاتر الگ۔
لمبی سیدھی سڑکیں اور car-based planning لوگوں کو پیدل چلنے اور رکنے سے دور کر دیتی ہیں۔ یکساں (uniform) ہاؤسنگ سوسائٹیاں، ایک جیسے گھر یا فلیٹس، اور اونچی isolated عمارتیں نہ صرف یکسانیت (monotony) پیدا کرتی ہیں بلکہ طبقاتی تقسیم (social segregation) بھی بڑھاتی ہیں۔۔۔امیر الگ، غریب الگ۔ بڑے بڑے housing projects اور “planned” مگر بے روح (sterile) ماحول انسان کو کمیونٹی سے کاٹ دیتے ہیں، لوگ صرف گاڑی سے آتے ہیں اور بند گھروں میں چلے جاتے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ وہ اجتماعی زندگی ختم ہونے لگتی ہے جو روایتی بستیوں میں قدرتی طور پر موجود تھی۔ اس طرح جدید اربنائزیشن صرف تعمیر کا فرق نہیں بلکہ ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جو انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھاتا ہے، رشتوں کو کمزور کرتا ہے اور کمیونٹی لائف، اجتماعیت کو کاٹتا ہے۔
جیکب کے مطابق جب رہائش اور کام کی جگہ کو بالکل الگ کر دیا جاتا ہے (Residential, Commercial, Industrial Zones)، تو شہر بے جان ہو جاتا ہے۔ شام کے بعد کاروباری علاقے بھوت نگر (Ghost Towns) بن جاتے ہیں۔ پرسنل کارز کی بالادستی (Car Dependency) ہوتی ہے۔ وسیع سڑکیں اور پارکنگ کے بڑے پلاٹ پیدل چلنے والوں کو بے دخل کر دیتے ہیں۔ جب آپ کار میں ہوتے ہیں، تو آپ محلے سے نہیں گزرتے، بلکہ صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے ہیں۔سماجی تنہائی (Social Isolation) پیدا ہوتی ہے۔ یکساں ہاؤسنگ سوسائٹیاں یا اونچی دیواروں والے کمپاؤنڈز (Gated Communities) لوگوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیتے ہیں، جس سے “کمیونٹی” کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔
جین جیکبز کا نظریہ یہ ہے کہ شہر ایک کمپلیکس ایکو سسٹم ہے، اسے مشین کی طرح پلان نہیں کیا جا سکتا۔ ایک صحت مند شہر وہ ہے جہاں تنوع (Diversity) ہو، لوگ پیدل چلیں، اور زندگی سڑکوں پر نظر آئے۔ مگر ہم ترقی کے نام پر مسلسل اپنے شہروں کی روح (سماجی تعلق) کھو رہے ہیں۔


