ماں: شفقت و محبت کی پیکر /ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

ماں کا عالمی دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار منایا جاتا ہے۔امسال یہ دن مورخہ 10 مئی بروز اتوار منایا جائے گا۔تقریباً 100 سے زائد ممالک اس دن کو ہر سال بڑی دُھوم دھام سے مناتے ہیں۔اگرچہ اِس دن کو منانے کی تاریخ کچھ ممالک میں فرق ہے۔اِس امر کے باوجود بھی یہ دِن ماں کی مُحبت اور قربانی کے اعتراف طور پر حسین لمحوں میں ڈھل جاتا ہے۔ اس دن دُنیا بھر میں جذبات کا سیلاب اُمڈ آتا ہے۔ خوشیاں دوبالا ہو جاتی ہیں۔ پُھولوں کی خرید و فروخت میں خاطرخواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔اظہار کی رُت گاؤں گاؤں ، شہر شہر یوں پھیل جاتی ہے، جیسے پھول کی خوشبو ہوا کے ذریعے دُور دُور تک اپنا احساس فراہم کر رہی ہوتی ہے۔
اِس دن انسانی جذبات کی کُھلی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔ ماں اور بچوں کے درمیان مُحبت کا رشتہ پیوست ہوتا ہے۔جسم و رُوح مکمل طور پر ہم آہنگی کا لباس پہن کر زندگی کی معنویت کے اغراض و مقاصد اُجاگر کرنے میں پیش پیش ثابت ہوتے ہیں۔انسان کے انگ انگ میں حرکت کے قوانین کی یوں پرورش ہوتی ہے جیسے فطری جبلت کے اصول و قاعدے ، جس میں نہ تربیت کی ضرورت اور نہ ملامت کا چکر بلکہ خود بخود ایک ایسا عمل حرکت میں آ جاتا ہے۔ جیسے زندگی کو ایک نئی توانائی مل گئی ہے۔
مثلا آنکھوں میں آنسوؤں کے چہل قدمی ، چہرے پر خوشی کے آثار ، ہاتھوں میں تحائف ، رُوح میں خوشی ، زبان پر اظہار کے موتی ایک الگ سی تصویر بنا دیتے ہیں۔وقت حالات اور جگہ محبت کی ایک ایسی مثلث بنا دیتے ہیں۔جہاں جذبات کے زاویے آپس میں یوں مل جاتے ہیں ہیں ، جیسے بچھڑے ملنے کے بعد بغل گیر ہوتے ہیں ۔تنگ دستی کے دروازے کُھل جاتے ہیں۔ شعور و پاکیزگی ایک دوسرے کا دامن تھام لیتے ہیں۔ لبوں پر مُسکان کی چاندی کِھل جاتی ہے۔
اگرچہ لفظ ماں کائنات کا ایک سنہری حرف ہے جو اپنے اندر اِحساس و وفا کے چشمے ، محبت کے خزانے ، اظہار کی کونپلیں ، خُوشی کے کِھلتے پُھول ، اظہار کے ان گنت طریقے ، زیرِ لب دعاؤں کے بُخور اور قربانی کی مشق محبت کی لازوال داستان خواب کی طرح تعبیر کے موسموں میں ڈھل جاتی ہے۔اگر ماں کی مُحبت کا ازالہ کرنا مقصود ہو تو پیدا ہونے سے لے کر لحد تک قربانی کے لمحات کی گنتی شروع کر دیں۔شاید لفظوں کی گنتی ختم ہو جائے گی لیکن ماں کے احسانات کا قرض کبھی ختم نہ ہوگا۔ کائنات کی طرح یہ اپنے اندر احساسات ، محسوسات ، کرشمات اور جذبات کا خزانہ رکھتی ہے۔ جسے وہ لمحہ با لمحہ استعمال کرتی ہے۔اپنی خوشی کا ہر لمحہ اولاد کے لیے قربان کر دیتی ہے۔ ہمیشہ جذبات کے پر پھیلا کر حالات کا مقابلہ کرتی ہے۔نہ جانے قدرت نے اس ہستی کو ایسا دل کیوں دیا ہے۔جہاں ہر فاصلہ سمٹ جاتا ہے۔نفرت کوسوں میل دور بھاگ جاتی ہے۔تاریکی کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔دلوں میں اطمینان آ جاتا ہے۔زندگی بھر کے تجربات و مشاہدات بردباری ، ایمانداری اور سچائی کے ساتھ نتھی ہو جاتے ہیں۔ اس کے پاس ایک ایسا دل ہے جس کے رُوح و قلب سے ہمیشہ احساس و وفا کے چشمے بہتے ہیں۔ رحم اور ہمدردی جیسی صفات باطنی و خارجی مشاہدات کا عمدہ نچوڑ پیش کرتی ہیں۔
اس کے اندر اُمید کی نہ ختم ہونے والی شمع جلتی رہتی ہے۔وہ اولاد کی ہر بات برداشت کر کے عہد و پیماں کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔وہ موسموں کی پرواہ کیے بغیر مقصدیت کا حدود اربع پانے کے لیے سرگرم رہتی ہے۔وہ گرمی اور سردی کی پرواہ کیے بغیر فرض شناسی کا مظاہرہ کرتی ہے۔موسم تو آتے اور چلے جاتے ہیں۔لیکن اس کے اندر وفا کے موسم کا ایک ایسا چراغ ہے جس کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ وہ شب و روز جلتا ہی رہتا ہے۔اس پر مایوسی کی لہریں گردش کریں ، دُکھوں کی ہوا چلے ، آزمائشوں کا سورج پگھلے ، نفرت کی بجلی گرے۔اس کے مضبوط اعصاب زندگی کی ہر مشکل کو ناکارہ بنا دیتے ہیں۔
حیرت ہے اس کے اندر جو چراغ جلتا ہے ، نہ وہ بُجھتا ہے۔نہ اس کا تیل ختم ہوتا ہے۔نہ اس کے شُعلے میں کمی آتی ہے۔
ماں کے تصورات میں اولاد کی بہتری کے سپنے ، کامیابی کے خواب ، روشن خیالی کی اُمید اور خوش حالی کا مقصد پنہاں ہوتا ہے۔ اُس کی ہر ممکن کوشش اُسے ایک ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔جب سبھی اُس کے اعتراف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔گُل پاشی کر رہے ہوتے ہیں۔جذبات کی دولت نچھاور کر رہے ہوتے ہیں۔تحائف کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔یہ کہانی ایک گھر سے شروع ہو کر قوموں کی کایا پلٹنے تک سفر کرتی ہے۔عروج و زوال کی داستان لکھتی ہے۔
ایک سال کے انتظار کے بعد جب یہ دن دل کے دروازے پر دستک دیتا ہے تو دروازہ خُوشی سے کھل جاتا ہے۔تعریف و توصیف سے بھر جاتا ہے۔ عزت و آبرو کی فضا پھیل جاتی ہے۔ارد گرد شور مچ جاتا ہے۔چہروں پر مُسکراہٹ کے پُھول اور لبوں پر اظہار کی کونپلپں پھوٹ آتی ہیں۔
ائیں اس دن تھوڑا سا وقت نکال کر اپنی ماں کی قربانیوں کو یاد کریں۔بکھری یادوں کو اکٹھا کریں۔خوشی کے موسم تلاش کریں۔اظہار کا طریقہ ڈھونڈیں۔کچھ کہنے کی جسارت کریں۔قول و اقرار کا ڈھنگ سیکھیں ۔ دل میں محبت کے دیپ جلائیں۔مزاج و عادات میں تبدیلی لائیں۔یہی حسن فطرت اور ماں کی محبت کا تقاضا ہے جو عزت و عظمت کی انوکھی مثال بن کر گواہی دے گا۔اس سے قبل بہت دیر ہو جائے۔اپنی ماں سے کچھ کہہ دیجئے۔کچھ سن لیجئے۔کچھ مانگ لیجئے۔ہو سکتا ہے دعاؤں کا بُخور تمہاری ہر مُشکل حل کر دے۔ کیونکہ ماں محبت و شفقت کی پیکر ہے۔نہ بُجھنے والا چراغ ہے۔محبت کا چشمہ ہے۔کامیابی کا گُلشن ہے۔تُم ایک پُھول ہو اُس کی محبت کی خوش بُو عام کر دو۔کائنات میں دوسری مسکراہٹ تُمہاری وفاداری کی دوسری ہوا ہے جو ماں کے دل کے موسم کو خُوش گوار بنا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں