خلافت بطور سیاسی نظام: تاریخی تسلسل اور عصری اہمیت کا تحقیقی جائزہ/زاہد سرفراز

تعارف

خلافت اسلامی سیاسی نظریے کا مرکزی تصور ہے، مگر یہ ایک افسوسناک حقیقت ھے کہ عام طور پر بیشتر مباحث اس کے ابتدائی دور یعنی خلافت راشدہ تک ہی محدود رہتی ہیں۔ یہ ایک عام فہم غلطی ہے کہ خلافت صرف چار خلفائے راشدین پر مشتمل تھی، جبکہ تاریخی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ خلافت بحیثیت ایک سیاسی اور انتظامی ادارہ 1924ء تک مسلسل قائم رہی۔ (مورخ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں 1300 سال سے زائد کی مدت میں 90 سے زائد خلفاء کا تذکرہ کیا ہے)۔ یہ تحریر اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے خلافت کی سیاسی ضرورت، تاریخی تسلسل، اور جدید دور میں اس کے قیام کی عدم کوششوں پر تنقیدی نظر ڈالتی ہے۔

خلافت کی فوری ضرورت: تاریخی شواہد

رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ابھی آپ کا جنازہ بھی ادا نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی تدفین عمل میں آئی تھی کہ انصار و مہاجرین نے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو کر خلیفہ کے انتخاب کو اولین ترجیح قرار دیا۔ (صحیح بخاری، کتاب الحدود، باب رجم الحبلی)۔ یہ واقعہ شدید ترین حادثے اور اجتماعی غم کے باوجود پیش آیا، جو اس بات کا واضح تاریخی ثبوت ہے کہ امت مسلمہ ایک لمحے کے لیے بھی سیاسی قیادت کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ علامہ ابن خلدون نے مقدمہ (الفصل الثالث فی أن الخلافة واجبة شرعاً) میں اس واقعے سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ صحابہ کرام کا اجماع اس بات پر منعقد ہوا کہ امام کا تقرر واجب ہے، اور اسے ترک کرنے پر تعزیر کا استحقاق ہوتا ہے۔

یہاں ایک اہم علمی نکتہ یہ ہے کہ اس موقع پر کسی نے یہ تجویز پیش نہیں کی کہ “فی الحال غم کا موقع ہے، بعد میں کوئی نظام بنا لیں گے”۔ بلکہ سراسیمگی کے عالم میں بھی سیاسی اتھارٹی کے قیام کو مذہبی اور عملی دونوں اعتبار سے لازمی سمجھا گیا۔ امام غزالی نے الاقتصاد فی الاعتقاد میں صراحت کی ہے کہ “امامت کی ضرورت شرعاً و عقلاً ثابت ہے، کیونکہ بغیر امام کے لوگ فساد اور ظلم میں مبتلا ہو جائیں گے”۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خلافت کوئی آرائشی عہدہ نہیں بلکہ مفارقت کے بعد بھی امت کے اتحاد، دفاع اور عدالتی نظام کے تسلسل کے لیے ناگزیر تھا۔

خلافت کا تاریخی تسلسل: امویوں سے عثمانیوں تک

عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت نے اپنی جوہری حیثیت کھو دی۔ حالانکہ اہل سنت کے نزدیک خلیفہ کا تقرر شرعی طور پر واجب ہے، اور امت پر لازم ہے کہ وہ ایک امام (خلیفہ) کی بیعت کرے۔ (امام نووی، شرح صحیح مسلم، کتاب الامارہ)۔ اموی، عباسی، اور بعد ازاں عثمانی خلفاء نے اس روایت کو تسلسل بخشا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی مسلم سیاست میں خلافت کے ادارے کو کمزور کیا گیا یا اس کے خلاف بغاوتیں ہوئیں، نتیجتاً سیاسی انتشار، خانہ جنگیاں اور بیرونی حملے بڑھے۔ مورخ طبری نے اپنی تاریخ میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر فتنے کے دوران قیادت کے بحران نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔

سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد 1924ء میں مصطفٰی کمال اتاترک نے خلافت کا خاتمہ کیا تو اس وقت عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آیا، مگر افسوس کہ کوئی مؤثر متبادل نظام پیش نہ کیا جا سکا۔ (محمد حمید اللہ، “خلافت و ملوکیت”، ص 210)۔ اس ردعمل میں ہندوستان میں تحریک خلافت (1919-24) شامل تھی جس میں علمائے دیوبند اور اہل حدیث نے بھرپور حصہ لیا۔

اس کے بعد حالیہ اسلامی تاریخ میں ہمارے پاس خلافت سے ملتا جلتا ایک ماڈل صرف ایران میں موجود ہے جسکے تحت ایران دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جہاں اسلامی انقلاب کے بعد سے باقاعدہ ایک شرعی نظام نافذ العمل ہے جو سنی شیعہ کے تعصب کے باعث ہماری نظروں سے اوجھل رہا مگر امریکہ ایران جنگ نے ہماری آنکھوں پر پڑے تعصب کے ان پردوں کو چاک کر دیا جس سے ہمیں معلوم ہوا کہ ایران کا سیاسی نظام دنیا کا مضبوط ترین سیاسی نظام ہے جو رہبر انقلاب اور ایران کی دیگر اعلی سطحی قیادت کی شہادتوں اور امریکہ اسرائیل کی چالیس روزہ خوفناک بمباری کے باوجود بھی اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ہے جبکہ یہ جنگ چھیڑی ہی اس لیے گئی تھی کہ اس عظیم نظام کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔ اسلامی تاریخ میں چودہ سو سال بعد چشم فلک نے اسلام کے میدان جنگ کا وہ نظارہ پھر سے دیکھا کہ ایک رہنما شہید ہوتا ہے تو دوسرا آگے بڑھ کر اس کا علم تھام لیتا ہے اور یہی ہماری روایت ہے۔ (قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد اسماعیل قاآنی کی فوری ذمہ داری سنبھالنا، امام حسین علیہ السلام کے واقعہ کربلا سے مشابہت رکھتا ہے)۔ ایران کا یہ نظام مجموعی اسلامی دنیا کا واحد تاریخی ورثہ ہے جس سے تمام اسلامی ممالک کو بغیر کسی تعصب کے مستفید ہونا چاہیے۔

محقق ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق: “مسلم امت کو بغیر کسی تعصب کے ایران کے تجربے سے سبق لینا چاہیے کہ شرعی نظام بیرونی جارحیت کے خلاف کس طرح مضبوطی سے کھڑا رہ سکتا ہے” (بحوالہ: اسلامی نظامِ سیاست، ص 245)۔

مغربی جمہوریت کی درآمد اور علمی مغالطے

1924ء کے بعد جس چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا وہ یہ کہ مسلم معاشروں نے خلافت کی جگہ مغربی سرمایہ دارانہ جمہہوریت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسے “اسلام کے ہم آہنگ” قرار دینے کی کوششیں شروع کر دیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مغربی جمہوریت سیکولر اقدار، قومی ریاستوں کے تصور اور خودمختاری کے غیر الٰہی تصورات پر مبنی ہے جو اسلامی نظریہ سیاست سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ (ڈاکٹر محمد عمارہ، “الاسلام والدیمقراطیة”، ص 45)۔

یہ ایک علمی مغالطہ ہے کہ جمہوریت اور خلافت ایک ہی چیز ہیں۔ جمہوریت میں حاکمیت عوام کو سونپی جاتی ہے، جبکہ اسلامی نظام میں حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے اور خلیفہ اس حاکمیت کو نافذ کرنے کا ذمہ دار ہے، عوام کی غیر مشروط مرضی کا پابند نہیں۔ بلکہ عوام اس نظم کی مشروط پابند ہے جو خلیفہ کو اپنی اطاعت کا بیعت کی صورت میں باقاعدہ حلف دیتی ہے کہ اگر وہ اللہ کے حکم کے مطابق ان کو چلائے گا تو وہ بغیر کسی حیل و حجت کے ہر دو صورت میں اس کی اطاعت کے پابند ہوں گے۔ (سورۃ النساء: 59، اور سورۃ المائدہ: 44)۔

موجودہ خرافات اور فکری ابتری

آج کل اسلامی نظام کے دوبارہ قیام پر جو بے شمار مواد لکھا جا رہا ہے، اسے پڑھ کر ایک محقق حیران رہ جاتا ہے۔ کچھ گروہ خلافت کو “ناممکن” قرار دیتے ہیں، تو کچھ اسے “انتہا پسندی” سے جوڑ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ “اسلامی ریاست” کے نام پر قبائلی یا قومی مفادات پیش کرتے ہیں تو کچھ روایتی خلافت کی جگہ “اسلامی جمہوریت” جیسی نئی تراکیب پیش کرتے ہیں۔

یہ سارا الجھاؤ دراصل دو چیزوں سے پیدا ہوا ہے: ایک تو مغربی تعلیم یافتہ طبقے کا یہ عقیدہ کہ جمہوریت ہی واحد قابل عمل نظام ہے، دوسرا خلافت کے تاریخی ماڈل کو بغیر سمجھے مسترد کر دینے کا رجحان۔ علامہ اقبال نے 1930 کے الہ آباد خطبے میں واضح کیا تھا: “مسلمانوں کے لیے جمہوریت کا نام نہاد مغربی ماڈل قبول کرنا خودکشی کے مترادف ہے، جب تک اسلامی اصولوں پر ایک حقیقی سیاسی نظام قائم نہیں ہوتا”۔

علمی نتیجہ

تحقیق سے یہ ثابت ہے کہ خلافت ایک نہ صرف ممکن بلکہ تاریخی طور پر طویل العمر رہنے والا نظام تھا جو صدیوں تک کامیابی سے چلا۔ اس کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا میں کوئی متفقہ سیاسی نظام نہیں آیا۔ آج جو جمہوریتیں، آمریتیں یا شاہی نظام مسلم ممالک میں پائے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی خالصتاً اسلامی سیاسی فکر پر مبنی نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ خلافت کے کلاسیکی اصولوں (جیسے شوریٰ، بیعت، عدل، اور احتساب) کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، نہ کہ جمہوریت کی اندھی تقلید کی جائے۔ جب تک مسلم امت خلافت کو بطور فریضہ اپنی سیاسی فکر کا حصہ نہیں بنائے گی، اس وقت تک سیاسی استحکام، انصاف اور ترقی کے خواب ادھورے رہیں گے۔ (امام شاطبی، الاعتصام، ج 2، ص 320)۔

حوالہ جات کے لیے تجویز کردہ مصادر

· ابن خلدون، مقدمہ (باب الخلافة والامامة)

· مودودی، اسلام کا سیاسی نظام

· محمد حمید اللہ، خلافت و ملوکیت

· طه حسین، الفِتنة الکبری (سیاق و سباق کے حوالے سے)

· ڈاکٹر اسرار احمد، اسلامی نظامِ سیاست

· ڈاکٹر محمد عمارہ، الاسلام والدیمقراطیة (مقارنہ مطالعہ)

اپنا تبصرہ لکھیں