اللّٰہ تعالٰی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ۔اور زمین پر نائب کے عہدے پہ فائز کیا ۔نائب کی زمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اللّٰہ تعالٰی نے انسان کو مکمل شعور اور لاشعور کی قوت عطا کی۔اسی قوت کی بدولت انسان سوچ سمجھ اور محنت سے ہر کام کر سکتا ہے ۔کسی بھی کام کو کرنے کے لیے انسان جو راستہ یا سفر شروع کرتا ہے ۔اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انسانی سوچ سمجھ ،جنون،قوت کے ساتھ ساتھ رہبر اور رہنمائی کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔
کہتےہیں کہ سنگ تراش اگر ماہر ہوتو وہ بے جان پتھر کو بھی بولنا سکھا دیتا ہے لیکن ایک مخلص استاد وہ مصلح ہے جو انسان کے خاموش مگر منتشر ذہن کو حرف وبیان کی ایسی روشنی دیتا ہے کہ وہ معاشرے کا ضمیر بن جاتا ہے ۔
کچھ لوگ تاریخ پڑھتے ہیں اور کچھ لوگ تاریخ لکھتے ہیں ،لیکن ایک استاد وہ عظیم ہستی ہے جو تاریخ لکھنے والے قلم کار پیدا کرتا ہے ۔آج میں جس مقام کھڑی خود کو کالم نگار کہنے کی جرات کر رہی ہوں یہ دراصل میرے استاد محترم کی تراش خراش کا نتیجہ ہے ۔
کالم نگاری محض ایک فن نہیں ،بلکہ یہ دل کے جزبوں کو لفظوں کا لباس پہنا کر معاشرے کے سامنے پیش کرنے کا نام ہے ۔جب میں نے اس راستے پر چلنے کا قوی ارادہ کیا تو میرے پاس صرف لکھنے پڑھنے کی خواہش تھی ،لیکن یہ علم نہیں تھا کہ حرف کو ہنر میں کیسے ڈھالا جائے ۔اسی کشمکش کے دوران مجھے ایک ایسی شخصیت کی رہنمائی میسر آئی جنھوں نے قدم قدم پر میری رہنمائی کی۔اور مُجھے آزاد سوچنا سکھایا ۔وہ نام ہے محترم جناب ابوالحسن نعیم صاحب کا۔
کالم نگاری کا کورس جو کچھ عرصہ قبل شروع ہؤا تھا ۔اب اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے ۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ یہ صرف ایک کورس نہیں تھا بلکہ میری روحانی اور فکری بیداری کا ایک مختصر ،جامع اور یادگار سفر تھا ۔استاد محترم جناب ابوالحسن نعیم صاحب کی سرپرستی میں یہ سفر طے کرنا میرے لئے ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔ان کا پڑھانے کا انداز روایتی اساتذہ سے بالکل مختلف اور منفرد ہے ۔وہ صرف مشق(کالم) لکھنا نہیں سکھاتے بلکہ قاری کی نفسیات کو بھی سمجھنا سکھاتے ہیں ۔
انھوں نے بتایا کہ ایک اچھا کالم نگار وہ ہے جو اپنے جذبات پر قابو رکھ کر غیر جانبداری سے سچ لکھے ۔معاشرے کے پہلوؤں پر نظر ثانی کرے اور نا انصافی کے خلاف اپنے قلم کی طاقت سے امید کا دیا جلائے ۔
استاد محترم نے کالم کی ابتدائیہ کی اہمیت سے لیکر وسطانیہ کی گہرائی اور اختتامیہ کے پراثر ہونے کے تمام گر اتنی مہارت سے سکھائے کہ کالم لکھتے ہوئے وہ سب اصول میرے ذہن میں نقش ہوگئے ہیں ۔ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ شاگرد کی معمولی سی کوشش پر بھی اس کی دل سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔جس سے لکھنے والے کا اعتماد آسمان کا چھونے لگتا ہے ۔
آج جب یہ کورس ختم ہو رہا ہے تو دل میں ایک عجیب سی اداسی بھی ہے اور عزم بھی ۔کیونکہ سیکھنے کا سفر منزل سے زیادہ خوبصورت ہوتا ہے ۔روزانہ مشق لکھنا ،غلطیاں کرنا ،غلطیوں کو درست کرنا پھر سیکھنا اور روزانہ استاد محترم کی رہنمائی سے فیض یاب ہونا یہ سب سفر کی خوبصورتی ہے۔۔اور عزم اس بات کا کہ جو ہنر استاد محترم نے میرے سپرد کیا ہے اس کی لاج رکھنی ہے۔
میں یہ کالم اپنے استاد محترم ابوالحسن نعیم صاحب کے نام معنون کرتی ہوں ۔یہ کالم میرے پاس ان کے لیے ایک ادنیٰ سا ہدیہ تشکر ہے۔
آخر میں استاد محترم آپ کا بے حد شکریہ کہ آپ نے مُجھے صرف لکھنا نہیں سکھایا بلکہ آزاد اور وسیع سوچنا سکھایا ۔آپ نے میرے لفظوں کو وہ تاثیر اور ترتیب دی جو اب قارئین کے دلوں پر دستک دے گی ۔دعا ہے کہ اللّٰہ تعالٰی آپ کے علم ،عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے اور آپ کی علمی شفقت ہمیشہ سلامت رہے (آمین ثم آمین).


