ادب اور صحافت کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کے شعور کی تعمیر ہمیشہ قلم، کتاب اور اخبار کے ذریعے ہوئی۔ تہذیبوں نے اپنے حافظے کتابوں میں محفوظ کیے اور معاشروں نے اپنی اجتماعی سوچ اخبارات کے ذریعے پروان چڑھائی۔ مگر آج انسان جس برق رفتار دور میں داخل ہو چکا ہے، وہاں معلومات کی فراوانی تو بے شمار ہے مگر مطالعے کی گہرائی ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کتب بینی اور اخبار بینی کی وہ خوبصورت روایت دم توڑتی محسوس ہوتی ہے جو کبھی گھروں، چائے خانوں، لائبریریوں اور بیٹھکوں کی رونق ہوا کرتی تھی۔ایک وقت تھا جب صبح کا آغاز اخبار سے ہوتا تھا۔ گلی کے نکڑ پر سائیکل کی گھنٹی بجاتا اخبار فروش محض خبریں نہیں لاتا تھا بلکہ لوگوں کے شعور، دلچسپی اور دنیا سے تعلق کا ذریعہ بنتا تھا۔ بزرگ حضرات چشمہ درست کرتے ہوئے اداریہ پڑھتے، نوجوان کھیلوں کے صفحات پر نظریں جماتے، خواتین میگزین اور فیچر صفحات کا انتظار کرتیں اور بچے رنگین ضمیموں میں اپنی دنیا تلاش کرتے۔ اخبار صرف کاغذ نہیں تھا، وہ ایک تہذیبی علامت تھا۔ اسی طرح کتاب بھی صرف مطالعے کا وسیلہ نہیں بلکہ انسان کے اندر ایک دوسری دنیا آباد کرنے کا نام تھی۔
معلومات اب مطالعے سے نہیں بلکہ اسکرولنگ سے حاصل کی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے خبر کو اتنا تیز کر دیا ہے کہ صبح کے اخبار کی تازگی رات ہی کو مر چکی ہوتی ہے۔ جو واقعہ چند لمحے پہلے پیش آیا، اس کی ویڈیو، تبصرہ، تجزیہ اور افواہ ایک ساتھ دنیا بھر میں پھیل چکی ہوتی ہے۔ اگلے دن اخبار میں وہی خبر قاری کو پرانی محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے پرنٹ میڈیا کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ملک کے بڑے بڑے اخباری ادارے، جو کبھی صحافت کی طاقت کی علامت سمجھے جاتے تھے، اب مالی بحرانوں کا شکار ہیں۔ کہیں دفاتر محدود کیے جا رہے ہیں، کہیں عمارتیں فروخت ہونے کی خبریں گردش میں ہیں اور کہیں سینکڑوں کارکن خاموشی سے بے روزگار کیے جا رہے ہیں۔ یہ صرف اداروں کا بحران نہیں بلکہ ایک پورے فکری نظام کے زوال کی داستان ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تبدیلی کو محض “ترقی” کا نام دے کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت میں ہم مطالعے سے دور اور سطحی معلومات کے قریب ہوتے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا نے انسان کو خبر تو دے دی مگر شعور چھین لیا۔ وہاں ہر شخص صحافی بھی ہے، تجزیہ نگار بھی اور جج بھی۔ تصدیق، تحقیق اور ذمہ داری جیسے اصول تیزی کی دوڑ میں کہیں کھو گئے ہیں۔ جھوٹی خبر اور سچی خبر کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ چند سیکنڈ کی ویڈیو، جذباتی سرخی اور اشتعال انگیز پوسٹ لاکھوں لوگوں کی رائے بدل دیتی ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں مطالعہ کم اور ردعمل زیادہ پیدا ہو رہا ہے۔کتاب کا مزاج ٹھہراؤ مانگتا ہے جبکہ سوشل میڈیا انسان کو بے صبر بنا رہا ہے۔ ایک قاری جب ناول، فلسفہ یا تاریخ پڑھتا ہے تو اس کے اندر سوال جنم لیتے ہیں، سوچ پختہ ہوتی ہے، برداشت پیدا ہوتی ہے۔ مگر مختصر ویڈیوز، چند جملوں پر مشتمل پوسٹس اور چیختی ہوئی سرخیاں انسان کے ذہن کو منتشر کر دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کی نسل معلومات کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی فکری پیاس کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
اخبارات کے زوال کی ایک بڑی وجہ خود میڈیا کا رویہ بھی ہے۔ جب صحافت غیر جانبداری چھوڑ کر مفادات کی اسیر ہو جائے، جب خبر کی جگہ بیانیہ لے لے، جب سوال کرنے کے بجائے مخصوص مؤقف دہرایا جائے تو عوام کا اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔ بہت سے نجی چینلز اور اخبارات آہستہ آہستہ ایسے محسوس ہونے لگے جیسے وہ عوام کی آواز نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کے ترجمان ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اب خبروں پر کم اور سوشل میڈیا پر زیادہ یقین کرنے لگے ہیں، بھلے وہاں سچ کم اور شور و غوغا زیادہ ہو۔
یہ صورتحال صرف صحافت کا بحران نہیں بلکہ معاشرتی المیہ بھی ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ مطالعہ چھوڑ دیتا ہے تو اس کی فکری بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔ کتاب انسان کو تنہائی میں سوچنے کا ہنر دیتی ہے، جبکہ سوشل میڈیا انسان کو ہجوم میں گم کر دیتا ہے۔ کتاب انسان کو دلیل سکھاتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل دنیا اکثر جذبات بھڑکاتی ہے۔ اخبار قاری کو مختلف زاویوں سے سوچنے پر مجبور کرتا تھا، مگر اب الگورتھم انسان کو صرف وہی دکھاتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتا ہے۔ یوں معاشرہ مکالمے کے بجائے تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے۔اس سارے منظرنامے کا سب سے دردناک پہلو میڈیا ورکرز کی بے بسی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے اپنی زندگیاں خبروں، فیچرز، کالموں اور پروڈکشن رومز میں گزار دیں، آج غیر یقینی مستقبل کے اندھیروں میں کھڑے ہیں۔ نوجوان شاید کسی نئے شعبے میں جگہ بنا لیں مگر پچاس یا ساٹھ برس کی عمر میں ملازمت کھو دینے والا شخص کہاں جائے؟ اس کے بچوں کی فیسیں، گھر کے اخراجات، دوائیں اور ذمہ داریاں کس دروازے پر دستک دیں؟ یہ صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی المیہ ہے۔
افسوس تو یہ ہے کہ معاشرہ بھی اس زوال پر زیادہ افسردہ دکھائی نہیں دیتا۔ شاید اس لیے کہ ہم آہستہ آہستہ کتاب اور اخبار کی اہمیت بھولتے جا رہے ہیں۔ آج گھروں میں لاکھوںروپے کے موبائل اور ٹی وی تو موجود ہیں مگر کتابوں کی الماریاں غائب ہوتی جا رہی ہیں۔ بچے کہانیاں سننے کے بجائے مختصر ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ نوجوان ادبی نشستوں کے بجائے ٹرینڈنگ موضوعات میں مصروف ہیں اور بڑے لوگ بھی سنجیدہ مطالعے کے بجائے لمحاتی تفریح کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ اگر اخبار اور کتاب ختم ہو گئے تو آنے والی نسلوں کا فکری سرمایہ کیا ہوگا؟ سوشل میڈیا لمحاتی حافظہ رکھتا ہے۔ وہاں ہر چیز چند گھنٹوں بعد دفن ہو جاتی ہے۔ مگر کتاب صدیوں بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ اخبار تاریخ کا ابتدائی مسودہ ہوتا ہے۔ اگر یہ روایتیں ختم ہو گئیں تو شاید آنے والے زمانے کے پاس معلومات تو ہوں گی مگر تاریخ کا شعور نہیں ہوگا۔
اس کے باوجود امید کا دروازہ مکمل بند نہیں ہوا۔ دنیا کے کئی ممالک میں ڈیجیٹل دور کے باوجود کتابوں کی اہمیت برقرار ہے۔ وہاں لائبریریاں آباد ہیں، لوگ آج بھی مطالعہ کرتے ہیں، اخبارات اپنی ساکھ کی بنیاد پر زندہ ہیں۔ ٹیکنالوجی دشمن نہیں، مگر اس کے استعمال کا شعور ضروری ہے۔ سوشل میڈیا سہولت ہے مگر مطالعے کا متبادل نہیں۔ موبائل خبر دے سکتا ہے مگر فکر نہیں دے سکتا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ گھروں، اسکولوں اور جامعات میں دوبارہ مطالعے کی روایت زندہ کی جائے۔ بچوں کو کتاب سے محبت سکھائی جائے۔ اخبارات کو بھی اپنی ساکھ، تحقیق اور غیر جانبداری بحال کرنا ہوگی تاکہ عوام کا اعتماد واپس آ سکے۔ ورنہ وہ دن دور نہیں جب عظیم اخباری عمارتیں خاموش کھنڈرات بن جائیں گی، لائبریریاں ویران ہو جائیں گی اور انسان معلومات کے شور میں شعور کی آواز کھو بیٹھے گا اور یہ صرف میڈیا کا زوال نہیں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی سوچ اور سمجھ بوجھ کم ہونے کی علامت ہے اور سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اس بڑھتے ہوئے اندھیرے کو محسوس کرنا بھی آہستہ آہستہ چھوڑ رہے ہیں۔


