جدید اور کلاسیکی ادوار میں بنیادی فرق ’’چگونہ گفتن‘‘ اور ’’چہ گفتن‘‘ والا ہے؛ یعنی کیسے کہنا ہے اور کیا کہنا ہے۔کلاسیکی عرصے میں ’’کیسے کہنا ہے‘‘ پر توجہ دی جاتی جب کہ جدید دور میں ’’کیا کہناہے ‘‘ مرکز بن گیا۔ کلاسیکی فن کینن کو مشعلِ راہ بناتا، جو کینن تک پہنچ جاتا آرٹ بن جاتا ، مگر جدید دور میں ’ کیا کہنا ہے‘ کو ادبی مسئلہ بنایا گیا۔ ظاہری بات ہے کہ کیا کہنا ہے پر توجہ جاتے ہی اُسے کس طرح کہنا ہے والا معاملہ دوسرے درجے پر چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ اگر’کہنا‘ (اظہار)ترجیح ہوجائے تو قرینہِ اظہار بھی اسی ’کہنے‘ کے ساتھ طلوع ہوتا ہے جو کینن سے مختلف بلکہ بعض اوقات یک سر اُلٹ بھی ہو سکتا ہے۔ جدید عہد میں اسی لیے کلاسیکی کینن کو رد کرکے نیا شعری ذوق ترتیب دینے کی کوشش کی گئی۔ ذوق چوں کہ صدیوں میں پیدا ہوتا ہے لہٰذا اسی لیے جدیدیت والوں نے ناکامی کی شکل میں ’ابتدائی ‘شکست کا سامنا بھی کیا۔ اس نئے تصور فن کے ساتھ ہی زبان پر حاکمیت کاتصور بھی پرانا ہو گیا۔ نئی زبان نے گویا پرانی زبان سے حدِ فاصل قائم نہیں کی بلکہ ایک نئے عہد کا آغاز کر دیا۔
اردو کلاسیکی عہد میں قادر الکلامی کا تصور محض اظہار کی تکنیکی و ہیئتی نزاکتوں پر عبور تک محدود ہے۔قادر الکلام شاعر سے مُرادوہ تخلیق کار ہے، جسے تخلیقی زبان کے متنوع اسالیب پر مہارت حاصل ہو۔ ’قادر الکلامی ‘ فکری جدّت یا موضوعاتی بلند خیالی کی بجائے فنی رموز سے آگاہی کواصل فن قرار دیتی ہے۔
ایک لمحے کے لیے خیال پیدا ہوتا ہے کہ قادر الکلامی ، خیال و فکر میں بالیدگی و معنی خیزی کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ زبان و بیان پرحاکمیت کے بغیر کیسے جوہر کو فن بنایاسکتا ہے؟ یہ خدشہ اس لیے جلدرفع ہو جاتا ہے کیوں کہ قادر الکلامی زبان و بیان اور اظہار کے ایسے قرینوں کو وضع کرتی ہے کہ اُس کا براہِ راست تعلق معنی کی بجائے فنی چابک دستی تک رُک جاتا ہے۔معنی وفکر کی جمال آفرینی کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ مثلاً ابولاعجاز صدیقی صاحب نے ان نکات کو ۹ حصوں میں یوں تقسیم کیا ہے:
1۔طوالتِ کلام: دو غزلے، سہ غزلے، چہار غزلے، حتیٰ کہ دہ غزلے تک لکھے جاتے
2۔ قافیہ پیمائی: تمام ممکن قافیے استعمال کرتے اور ایک ہی قافیے کو مختلف اور متعدد طریقوں سے باندھنے کی کوشش
3۔سنگلاخ زمینوں میں طبع آزمائی
4۔زیادہ سے زیادہ اصناف میں طبع آزمائی
5۔ زیادہ سے زیادہ اوزان و بحور میں طبع آزمائی
6۔ التزام بالالتزام: یعنی کوئی غیر ضروری پابندیاں اپنے اوپر عائد کرکے نظم و نثر لکھنا، مثلاً غزل کے ہر شعر میں کسی رنگ یا بُو کا بالالتزام ذکر کرنا، عربی فارسی الفاظ سے کامل احتراز، کسی حرف مثلاً ’ب‘ سے کامل احتراز وغیرہ
7۔ لفظی اور معنوی صنعتوں کا بالقصد اہتمام
8۔ادعائے برتری یا ادعائے برابری کے طور پر مسلم الثبوت اساتذہ کے شاہکاروں کا جواب لکھنا
9۔ بدیہہ گوئی
کلاسیکی عرصے کا ادب بڑا حصہ قادر الکلامی کے نام پرتخلیقی فنی رموز کی ہیئتی نمائندگی کرتا ہے فکری یا فلسفیانہ جمالیات کی نہیں۔حتیٰ کہ فکر ، تخیل، معنی آفرینی اور مضامین آفرینی کے خدائے سخن غالب اور میرکے ہاں بھی زبان کے اظہاری ذائقوں کا استعمال دکھائی دیتا ہے۔
جدیدیت نے جب نئی زبان کا تقاضا کیا تو اس کے ساتھ ہی ’قادر الکلامی ‘کا کلاسیکی اسکول بھی ختم ہوگیا۔


