ادبی تنقید اور فکری اکھاڑے کی دنیا میں یہ خبر یقیناً خوشی اور اطمینان کا باعث بنے گی کہ روسی عبقری اور نقاد میخائیل باختن کی شہرہ آفاق کتاب “دستوئسکی کی شعریات کے مسائل” کا اردو ترجمہ بالاخر طبع ہو کر منظرِ عام پر آ چکا ہے، اور یہ کارنامہ پروفیسر ڈاکٹر مظہر علی طلعت نے سرانجام دیا ہے۔ چونکہ اردو ترجمے پر مشتمل یہ کتاب ابھی میری نظروں سے نہیں گزری، اس لیے مجھے یہ علم نہیں کہ مترجم نے اس کا انگریزی سے اردو قالب ڈھالتے ہوئے اس کے مستند انگریزی ایڈیشن میں شامل وین سی بوتھ کا وہ معرکہ آرا مقدمہ بھی شاملِ اشاعت کیا ہے یا نہیں۔ اگر تو وہ تاریخی مقدمہ اس ترجمے کا حصہ ہے، تو پھر اس کتاب کی حقیقی مابعد الطبیعاتی اور سماجی معنویت اردو قاری کے دل و دماغ میں بہت اچھے سے راسخ ہو سکے گی۔
مگر اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ ہی مروجہ لبرل اور بورژوا تنقید کے صنم کدوں سے وہی پرانی تحریف کاری بھی سر اٹھانے لگی ہے جس کا رَد کرنا ہماری فکری ترجیحات کا حصہ ہے۔ یہاں مجھے پروفیسر صلاح الدین درویش کی جانب سے اس ترجمے کی اطلاع اردو قاری کو دیتے ہوئے لکھی جانے والی ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر چند کاٹ دار گزارشات پیش کرنی ہیں، کیونکہ یہ پوسٹ اس کتاب کے بنیادی جوہر اور باختن کے مادی فلسفے کے بارے میں انتہائی مغالطہ آمیز، سطحی اور گمراہ کرنے والی ہے، جس کے زہریلے اثرات سے اس کتاب کو پڑھنے جا رہے معصوم اردو قاری کو بچایا جانا بے حد ضروری ہے۔
موصوف پروفیسر نے اپنی اس تحریر میں بڑے سحر انگیز، لچکدار اور ارتعاش انگیز جملوں کے پردے میں میخائیل باختن کی روح پر پسِ جدیدیت
(Post-modernism)
اور ردِ تشکیل
(Deconstruction)
کا چغہ مڑھنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یہ تحریر بظاہر تو باختن کی تائید کرتی نظر آتی ہے، لیکن بباطن یہ ان کے انقلابی اور مادی نظریات کا گلا گھونٹ کر انہیں ایک لایعنی، مرکز گریز اور لااداریاتی
(Non-ideological)
کھیل میں تبدیل کر دیتی ہے۔
آئیے، وین سی بوتھ کے نکتہ رس ہیئتی تدبر اور جدید ترقی پسند تنقید کے کاٹ دار اوزاروں سے اس تحریفِ نو کا ایک ایک مہرہ الگ کر کے اس کا رد لکھیں:
۱۔ “کرداروں کو ناول نگار کے نظریہِ حیات سے بچانے” کا لبرل فریب
پروفیسر صاحب نے سب سے پہلا وار یہ کیا کہ باختن کا اصل مقصد “کرداروں کو ناول نگار کے نظریہِ حیات، فلسفے اور فکری ترجیحات سے بچانا” تھا۔ یہیں سے اس لبرل ملمع کاری کی بو آتی ہے جو آرٹ کو نظریے سے پاک دیکھنے کی تمنا کرتی ہے۔
وین سی بوتھ نے باختن کا تعارف کرواتے ہوئے صاف لکھا تھا کہ باختن کے ہاں ہیئت اور کردار خود “مجسم نظریات”
(Formed Ideologies)
ہیں۔ دستوئسکی اپنے کرداروں کو اپنے نظریہِ حیات سے “بچاتا” نہیں ہے، بلکہ اس کا اپنا نظریہِ حیات اتنا وسیع، سماجی اور جدلیاتی ہے کہ وہ کائنات کو کسی ایک فرد کے نجی مونو لاگ کے بجائے ایک “عظیم سماجی مکالمے” کے روپ میں دیکھتا ہے۔ کردار مصنف کے نظریے سے بچ کر کسی خلا میں نہیں بھاگتے، بلکہ وہ مادی دنیا میں موجود مختلف طبقاتی, سماجی اور فکری موقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پروفیسر صاحب نے باختن کی “کثیر الاصواتی” کو لبرل سرمایہ داری کے اس کھوکھلے تصور “کثرتِ رائے” (Pluralism) سے بدل دیا جہاں ہر آواز کو محض ایک نجی اور الگ تھلگ وجود بنا کر پیش کیا جاتا ہے، تاکہ ان کا باہمی طبقاتی تصادم نظروں سے اوجھل ہو جائے۔
۲۔ پلاٹ کی دھجیاں اڑانے کا پسِ جدیدیت پسند واہمہ
تحریر کا یہ دعویٰ کہ “ایک منظم پلاٹ کی دھجیاں ایسا ناول اڑا دیتا ہے”، دراصل پسِ جدیدیت پسندوں کی اس ازلی خواہش کا عکاس ہے جہاں وہ ہر قسم کی وحدت، مرکز اور ساخت کو پاش پاش دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہاں وین سی بوتھ کا وہ نو ارسطوئی استدلال ان کا منہ چڑاتا ہے جہاں وہ کہتے ہیں کہ دستوئسکی کے ہاں روایتی ریاضیاتی یا لکیر کے فقیر پلاٹ (جیسے ریت گھڑی یا تاش کے پتوں کا کھیل) کی نفی تو ضرور ہے، مگر وہاں ایک برتر
“عمودی ساخت”
(Vertical Structure)
اور “اثر کی نامیاتی وحدت” موجود ہے۔ باختن پلاٹ کی دھجیاں اڑا کر ناول کو کسی پسِ جدیدیت پسند انتشارِ محض
(Chaos)
کے حوالے نہیں کرتا۔ وہ کہانی کو ناقابلِ گرفت نہیں بناتا، بلکہ وہ ارسطو کے اس اصول کے قریب پہنچ جاتا ہے جہاں “پلاٹ” محض جوڑ توڑ کا نام نہیں بلکہ انسانی افعال اور اقدار کا تال میل ہے، جس کی اپنی ایک گہری نظریاتی اور جمالیاتی وحدت ہوتی ہے۔
۳۔ “ردِ تشکیل” کی بھینٹ چڑھی ہوئی مکالمہ پسندی
موصوف نے اپنی تحریف کو عروج پر پہنچاتے ہوئے لکھا کہ “ڈائیلاگ ایسے تمام آئیڈیاز کی ردِ تشکیل کر کے ان کی مرکزیت کو ٹھکانے لگانے کے کام آتا ہے… اور معنوی حدود کو توڑنے کا باعث بنتا ہے”۔ یہ صریحاً جیک ڈیرڈا (Derrida) کے ردِ تشکیل کو زبردستی باختن کے سر تھوپنے کی کوشش ہے۔
جدید مارکسی نقادوں نے اس نکتے پر پسِ جدیدیت پسندوں کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ باختن کے نزدیک “ڈائیلاگ” یا مکالمہ کوئی لایعنی لسانی کھیل نہیں ہے جو معانی کو ہوا میں اڑا دے یا سچائی کی مرکزیت کو ہی ختم کر دے۔ باختن کے ہاں مکالمہ مادی دنیا میں سانس لیتے ہوئے، دکھ جھیلتے ہوئے اور آپس میں برسرِپیکار انسانوں کے مابین ہوتا ہے۔ دستوئسکی کا ڈائیلاگ معانی کو ٹھکانے نہیں لگاتا، بلکہ وہ حاکم طبقے کی اس “یک اصواتی مصلحت” کو توڑتا ہے جو اپنی مخصوص سچائی کو آفاقی بنا کر پیش کرنا چاہتی ہے۔ باختن کی مکالمہ پسندی معانی کا خاتمہ نہیں کرتی، بلکہ مادی اور سماجی سطح پر ایک برتر اور جامع سچائی
(Sympathetic Understanding)
تک پہنچنے کا وسیلہ بنتی ہے۔ اسے ڈیرڈا کا “الفاظ کا کھیل” سمجھنا باختن کے مادی جوہر کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔
۴۔ “اخلاقی اضافیت پسندی” کی جھوٹی ملمع کاری
(Moral Relativism)
تحریر کا یہ جملہ کہ “نہ مثبت کردار مثبت ہیں نہ منفی کردار منفی ہیں… جو منفی ہیں وہ مثبت بھی ہیں”، باختن کو ایک ایسے پسِ جدیدیت پسند سانچے میں ڈھالتا ہے جہاں اچھے اور برے کی تمیز ہی ختم ہو جاتی ہے اور اخلاقی گراوٹ ایک فیشن بن جاتی ہے۔
باختن نے کبھی یہ نہیں کہا کہ دستوئسکی کے ہاں اقدار کا کوئی ترازو ہی نہیں ہے۔ وین سی بوتھ کے الفاظ میں، ارسطو کی طرح باختن کی کثیر الاصواتی بھی “اقدار سے لبریز”
(Steeped in values)
ہے۔ وہاں اقدار گنوائی جاتی ہیں، ان کا ماتم کیا جاتا ہے اور ان کا جشن منایا جاتا ہے۔ دستوئسکی اپنے کرداروں کو محض اس لیے آزاد نہیں چھوڑتا کہ وہ کسی اخلاقی لااداریت کا شکار ہیں، بلکہ وہ انسان کو ایک ایسے
“غیر مکتفی وجود”
(Unfinalized Subject)
کے طور پر دیکھتا ہے جس کے اندر مادی اور روحانی طور پر بدلنے اور ابھرنے کی لامتناہی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اسے “مثبت منفی کی مٹھاس” بنا کر پیش کرنا دستوئسکی کے مابعد الطبیعاتی المیے اور باختن کی نظریاتی ہیئت پسندی کو سطحیت کی نذر کرنا ہے۔
حاصلِ کلام
موصوف پروفیسر کی یہ تحریر دراصل اس بورژوا جدیدیت پسندی کا شاہکار ہے جو آرٹ سے اس کا انقلابی, مادی اور سماجی دانت نکال کر اسے محض ایک خوبصورت، الجھا ہوا اور بے ضرر تفریحی کھلونا بنا دینا چاہتی ہے۔ وہ باختن کی “بقائے باہمی” کو ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ زندگی کا ملغوبہ قرار دیتے ہیں، جبکہ باختن کے نزدیک یہ بقائے باہمی انسانوں کا وہ “عظیم کارنیوال”(میلے کی روح) ہے جہاں سماج کی مسلط کردہ مصنوعی جکڑ بندیاں ٹوٹتی ہیں اور محنت کش انسان اپنی پوری کثیر الاصواتی کے ساتھ تاریخ کے افق پر جلوہ گر ہوتا ہے۔ یہ تحریر باختن کا تعارف نہیں کراتی، بلکہ باختن کے چہرے پر لبرل پسِ جدیدیت کا غازہ مل کر ان کے اصل مادی اور انقلابی رخ کو چھپانے کا کام کرتی ہے، جس کا رد کرنا ہر اس نکتہ رس نقاد پر فرض ہے جو نظریہ اور ہیئت کے چولی دامن کے ساتھ سے واقف ہے۔


