اسلامی جمہوریہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنے قیام کے وقت امید، قربانی اور خوابوں کی روشن کرن تھا۔ یہ وہ سرزمین تھی جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہاں عدل ہوگا، یہاں انسان کو عزت ملے گی، یہاں غریب اور امیر ایک ہی قانون کے تابع ہوں گے، یہاں اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک فلاحی معاشرہ قائم ہوگا۔ مگر آج جب ہم اپنے گرد و پیش پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک کے خوابوں پر مفادات کی گرد جم چکی ہے۔ عوام کے چہروں سے مسکراہٹیں چھن چکی ہیں، گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں اور امید کی آخری شمع بھی بجھتی دکھائی دیتی ہے۔
آج پاکستان میں مہنگائی کا سب سے خطرناک روپ پٹرول کی آئے دن بڑھتی ہوئی قیمتیں بن چکی ہیں۔ ہر پندرہ دن بعد قوم پر ایک نیا پٹرول بم گرا دیا جاتا ہے۔ حکومت جب بھی معاشی ناکامیوں کو چھپانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے پٹرول مہنگا کر دیتی ہےحالانکہ اس ایک فیصلے سے پورا نظامِ زندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، سبزی، آٹا، چینی، دودھ اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز عوام کی پہنچ سے دور ہو جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے حکومت نے غریب آدمی کے سانس لینے پر بھی ٹیکس لگا دیا ہو۔سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ صرف غریب اور متوسط طبقہ اٹھاتا ہے جبکہ حکمرانوں کے پروٹوکول، سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے اور شاہانہ اخراجات بدستور جاری رہتے ہیں۔ عوام موٹر سائیکل میں چند لیٹر پٹرول ڈلوانے سے پہلے سو بار سوچتی ہے۔حکمران ہر بار عالمی منڈی، آئی ایم ایف اور معاشی مجبوریوں کا بہانہ بناتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ قربانی ہمیشہ غریب ہی کیوں دے؟ کیا اس ملک کی اشرافیہ، جاگیردار، سرمایہ دار اور مراعات یافتہ طبقہ کبھی کسی “مشکل فیصلے” کی زد میں آیا؟ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دراصل اس ناکام معاشی نظام کی علامت ہے جہاں عوام کے خون پسینے کو نچوڑ کر ایوانوں کی روشنیاں برقرار رکھی جاتی ہیں۔
ہر آنے والی حکومت قوم کو یہی کہانی سناتی ہے کہ خزانہ خالی ہے، ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے، سابقہ حکمران سب کچھ لوٹ کر لے گئے ہیں، اس لیے اب قوم قربانی دے۔ یوں عوام پر ایک اور ٹیکس بم گرا دیا جاتا ہے۔ کبھی بجلی مہنگی، کبھی پٹرول مہنگا، کبھی آٹا، کبھی چینی۔۔۔ سوال یہ ہے کہ قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟ کیا ایوانوں میں بیٹھے لوگ اس قوم کا حصہ نہیں؟ کیا ان کے محلات، پروٹوکول، شاہانہ اخراجات اور بیرونی دورے قومی خزانے پر بوجھ نہیں؟یہ ایک ایسا المیہ بن چکا ہے جہاں حکمران بدلتے ہیں مگر نظام نہیں بدلتا۔ چہرے نئے آتے ہیں مگر پالیسیاں وہی رہتی ہیں۔ اقتدار میں آنے سے پہلے یہی سیاستدان انقلاب، انصاف اور خوشحالی کی ڈگڈگی بجاتے ہیں مگر اقتدار میں آتے ہی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے لگتے ہیں۔ قوم سے کہا جاتا ہے کہ “مشکل فیصلے” ناگزیر ہیں مگر یہ مشکل فیصلے کبھی اشرافیہ کے لیے نہیں ہوتے۔ ان کے بچے بیرون ملک پڑھتے ہیں، ان کے علاج لندن اور دبئی میں ہوتے ہیں، ان کی جائیدادیں محفوظ رہتی ہیں جبکہ غریب آدمی اپنے بچے کی فیس اور دو وقت کی روٹی کے لیے دربدر پھرتا ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر کسان خود بھوکا مر رہا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں زمین سونا اگلتی ہے، مگر عوام آٹے کی لائنوں میں کھڑی ہوتی ہے۔ دنیا کے قیمتی ترین معدنی ذخائراور زرخیز زمینیں ۔۔۔ سب کچھ اس ملک کے پاس موجود ہے۔ پھر آخر ایسا کیا ہے کہ یہ قوم قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے؟ آخر کیوں ایک ایٹمی طاقت اپنے شہریوں کو بنیادی سہولتیں دینے سے قاصر ہے؟ سوال یہ نہیں کہ وسائل کہاں ہیں، سوال یہ ہے کہ وسائل پر قابض کون ہے؟
یہ ریاست اس وقت دو حصوں میں تقسیم محسوس ہوتی ہے۔ ایک پاکستان امیروں کا ہے جہاں قانون بھی جھکتا ہے، عدالتیں بھی نرم پڑ جاتی ہیں اور احتساب بھی معاف کر دیتا ہے۔ دوسرا پاکستان غریبوں کا ہے جہاں معمولی جرم پر جیل، بے عزتی، دھکے اور ذلت مقدر بنتی ہے۔ ایک مزدور بجلی کا بل ادا نہ کرے تو میٹر کاٹ دیا جاتا ہےمگر اربوں کی کرپشن کرنے والے پروٹوکول کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔یہی وہ طبقاتی تقسیم ہے جس نے قوم کے اندر نفرت، محرومی اور بے یقینی کو جنم دیا ہے۔ غریب کے بچے سرکاری اسکولوں میں ٹوٹی کرسیوں پر بیٹھتے ہیں جبکہ اشرافیہ کے بچے بیرون ملک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایک طرف عوام ہسپتالوں میں دوائی کے لیے ترستی ہے، دوسری طرف حکمران علاج کے لیے قومی خزانے سے بیرون ملک روانہ ہو جاتے ہیں۔ یہ صرف معاشی ناانصافی نہیں بلکہ ایک اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔
پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ صرف غربت نہیں۔۔۔ بلکہ انصاف کی عدم موجودگی ہے۔ جب قانون کمزور کے لیے تلوار اور طاقتور کے لیے ڈھال بن جائے تو ریاست کھوکھلی ہو جاتی ہے۔احتساب اگر سیاسی انتقام بن جائے، پولیس اگر محافظ کے بجائے خوف کی علامت بن جائے، تو عوام کے دل سے ریاست کا احترام ختم ہونے لگتا ہے۔اس ملک میں ہر ادارہ سوالوں کی زد میں ہے۔ پولیس پر رشوت کے الزامات، سرکاری دفاتر میں سفارش، عدالتوں میں تاخیر، تعلیمی نظام میں تباہی، صحت کے شعبے میں بدانتظامی۔۔۔ آخر کون سا شعبہ ہے جو کرپشن سے پاک ہے؟ قوم ٹیکس دیتی ہے مگر بدلے میں اسے کیا ملتا ہے؟ ٹوٹی سڑکیں، مہنگی دوائیں، بے روزگاری، لاقانونیت اور مسلسل ذلت۔مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی پالیسیاں بھی اکثر خودمختار دکھائی نہیں دیتیں۔ ہم اپنی ضرورت کی سستی گیس اور بجلی ہمسایہ ممالک سے نہیں لے سکتے کیونکہ عالمی طاقتیں ناراض ہو جاتی ہیں۔ ایک آزاد ملک اگر اپنی معیشت، توانائی اور خارجہ پالیسی میں آزاد فیصلے نہ کر سکے تو پھر آزادی کا مفہوم کیا رہ جاتا ہے؟ قومیں صرف جغرافیہ سے آزاد نہیں ہوتیں۔۔۔ فیصلوں سے بھی آزاد ہوتی ہیں۔
یہاں ہر وہ آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے جو سوال اٹھاتی ہے۔ جو صحافی سچ بولے، وہ غدار۔ جو نوجوان احتجاج کرے، وہ شرپسند۔ جو دانشور آئین اور انصاف کی بات کرے، وہ مشکوک۔۔۔ یوں لگتا ہے جیسے اس ملک میں “دَڑ وَٹ،دیہاڑے کڈھ” ایک پسندیدہ رویہ بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ زندہ قومیں سوال کرتی ہیں، احتساب مانگتی ہیں اور اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں۔لیکن صرف قوانین بدلنے سے انقلاب نہیں آتا۔ انقلاب قوموں کے شعور سے پیدا ہوتا ہے۔ جب تک عوام ذات، برادری، فرقے اور وقتی نعروں سے اوپر اٹھ کر اجتماعی سوچ اختیار نہیں کریں گے۔۔۔ تب تک حالات نہیں بدلیں گے۔ قومیں ووٹ صرف جذبات پر نہیں بلکہ کارکردگی پر دیتی ہیں۔ اگر عوام بار بار انہی چہروں کو آزماتے رہیں گے تو نتیجہ بھی وہی نکلے گا جو دہائیوں سے نکل رہا ہے۔
آج ہمارے ہاں سوال کرنا جرم بنتا جا رہا ہے۔ یہی فرق زوال اور عروج کے درمیان دیوار کھڑی کرتا ہے۔پاکستان آج ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلہ صرف حکمرانوں نے نہیں بلکہ قوم نے بھی کرنا ہے۔ اگر یہ قوم اب بھی خاموش رہی، اگر اس نے اب بھی شعور کی شمع نہ جلائی، اگر اس نے اب بھی اپنے حق کے لیے آواز بلند نہ کی، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ کیونکہ گونگی قومیں تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں۔۔۔ صرف محکوم رہتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ملک میں انسان دوست قیادت پیدا ہو، ادارے مضبوط ہوں، قانون برابر ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور سب سے بڑھ کر عوام کو عزت دی جائے۔ جب تک غریب کے چہرے پر سکون کی مسکراہٹ نہیں آتی، تب تک ترقی کے تمام دعوے جھوٹے ہیں۔ ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو پھر قومیں خاموش نہیں رہتیں، انقلاب جنم لیتا ہے۔


