ہے کوئی علاج اس کا؟ -محمد کوکب جمیل ہاشمی

کوئی انگشتری کو انگلیوں کے حلقے میں گھما کر تعلیم کے جن کو طلب نہیں کر سکتا۔ چاہے اسے عینک والے جن کی خدمات کیوں نہ حاصل ہوں۔ نہ ہی الہ دین کے چراغ کو انگلیوں سے رگڑنے پر عقل و بصیرت کا دیوتا دست بستہ عرض کرتا ہے کہ” کیا حکم ہے میرے آقا”. اس عالم بسیط کی بساط پر چلتے پھرتے پیادوں، دوڑتے بھاگتے قسمت کے دھنی بھاگوان لوگوں، بینا و بلیغ انسانوں اور اہل علم و دانش کے جھرمٹ میں سے بے بصر یا کوتاہ فہموں کی کثیر تعداد جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس طرح پیدل چلتی دکھائی دیتی ہے۔ جیسے ان جیسے لا علم اور بے خبر افراد اپنی بے خبری کے اثاثے کو چوری کے خوف سے سنبھال سنبھال کر رکھ رہے ہوں۔ وہ خوشی سے سرشار زندگی کے مزے لیتے ہوۓ، علم کی ناقدری پہ نازاں اور اہل فکر و فراست سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔
مطالعہ کتب ہو اور اس میں انہماک، انجذاب استغراق کے ساتھ غور و فکر کی عمیق گہرائی سےکچھ موتی ڈھونڈ لانے کی جستجو کی منشاء و غایت ہو تو ودیعت الٰہی سے بصیرت، انکشاف اور انشراح کے مصابیح روشن ہو جاتے ہیں۔ علوم و آگاہی کے نئے در ایسے کھلتے چلے جاتے ہیں کہ عقل خود اپنی دانش پر دنگ اور محو تماشہ بن جاتی ہے۔ تجسس اور تفکر پر تحقیق و تخلیق کی پرتیں بغیر انگلیوں کو حرکت دیۓ ہوا کے جھونکوں سے پلٹتے اوراق کی طرح کھلتی چلی جاتی ہیں۔ اور دیکھنے والے مبہوت و انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ کتابوں کا تجسس بھرا مطالعہ گوہر نایاب کو پانے، اور اہل علم کی تتبع کا لازمہ، فہم و ادراک کی بارش سے ذہن کو سیراب کرنے کا وہ گر ہے جو گڑ جیسا میٹھا اور شہد جیسا شافی ہوتا ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ زاویہ نگاہ مختلف ہونے پر سوچ کا اختلاف در پیش ہو سکتا ہے اور کبھی ماخوذ نتیجے کے انگ و رنگ پر انگلیاں بھی اٹھتی ہیں۔ انگشت نمائی کا جلتا دشت افکار کو سوختہ کرنے کو تیار دکھائی دیتا ہے، جس کی تپپیدہ آنچ احساس کی انگلیوں کو یوں بھسم کرنے لگتی ہے کہ دوبارہ زندگی میں انگلی پکڑ کر چلنے کے سفر کے از سر نو آغاز کا یارا نہیں رہتا۔ کبھی چمن خیال میں خوبصورت پھولوں سے مزئین آرائش کا وہ در وا ہوجاتا ہے کہ دیکھنے والے ششدر ہو کر استعجاب کے متطلاطم دریا میں غوطہ زن ہو جاتے ہیں اور آخر کار ان کے بھی جہان زیست چراغوں کی مانند فروزاں ہونے لگتے ہیں۔
مجھ سا کوئی انگوٹھا ٹیک، منہ میں انگوٹھا چوستے بچے کی طرح تجاہل عارفانہ میں نادانی کی باتیں کرتا ہے تو ہش کہہ کر کسی جانب سے سرزنش کا تیر کمین گاہ کی اوٹ سے آن پڑتا ہے مگر اصلاح کا تادیبی انداز بھلے کی بجاۓ تازیانے برساتا ہوا حواس باختہ کردیتا ہے۔ ایسے میں پھیکی چاۓ کی پیالی میں خالی چمچ چلانے سے مٹھاس کہاں سے آئے۔ کوئی انجانے میں فصاحت کے گل کیسے کھلاۓ، اسے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کر خاموش کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہماری انگلیاں چپ کرانے کے لئے نہیں، بڑے کام کی ہوتی ہیں، محض کسی پر اٹھانے کے لئے نہیں۔ انگلیاں نہ ہوتیں تو ازمن قدیم کے تجار ناہنجار کہلاتے۔ مگر وہ بھی لاکھوں میں ہوا کرتے تھے۔ دیکھا نہیں وہ لاکھوں کروڑوں کا حساب منٹوں سیکنڈوں میں انگلیوں پہ لگا لیا کرتے تھے۔ وہ بھی تو درک حساب تھا۔ اطباء و حکماء کی یہی انگلیاں مریض کی نبض پر رکھی جائیں تو تجربے اور مشاہدے کے بل پر مرض کی تشخیص کرکے فہم و فراست کی دھاک بٹھا دیتی تھیں۔ یہ سلسلہ اب بھی جاری و ساری ہے۔ علم دانوں نے اسے بھی جلا بخشی۔ نادانوں کے جو گروہ تسبیح کے دانوں پر انگلیوں کو حمائل کر کے حمد وثناء کی سعادت نہیں حاصل کر پاتے وہ کچھ نہ پا کر محض انگلیاں چٹخاتے رہ جاتے ہیں۔ اک شور کی گونج اٹھتی ہے، ایسے میں اہل نظر انگلیاں کانوں میں دینا ہی درست جانتے ہیں۔ وہ ایسا نہ کریں تو ہر آنگن میں پرائی مونا لیزا یا الزبتھ کی تصویریں آویزاں ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
انگریزوں کی ثقافت کی شیدا مستورات و حضرات انگریزی انگرکھا پہنے انگریزی بول چال کو قابلیت کا معیار گردانتے ہوۓ اپنے آپ کو کھو دینے میں مصروف ہیں، وہ اپنے نظریات پر زور دے کر دوسروں کو انگلیوں پہ نچاتے ہیں۔ اور ہم لا علمی کے کچوکوں سے اپنی زندگی کو اجیرن کرنے لگتے ہیں۔ محض علم کافی نہیں ہے تجدید علم کی افادیت اور آئین نو کی سوجھ بوجھ کے ساتھ روائتی تشریقی امتزاج پیش قدمی کے مراحل کو سہل کرتی ہے۔ لیکن اس میں سہل انگاری نقصان دہ ہے۔
علم کے دریا میں روانی بند ہو جائے تو امتحانوں میں نقل کا رجحان انجان مہمان
کی طرح دروازے پہ کھڑا دستک دینے لگتا ہے۔ نقل جاری رہتی ہے اور زندگی عقل سے عاری رہ جاتی ہے۔ محنت کرتے، ساری ساری رات امتحان کی تیاری میں کتابوں کے اوراق میں گم ہوتے بچوں کے، عالی پوزیشن والے خواب چھناکے کے ساتھ چکنا چور ہو جاتے ہیں، جب خبر عام ہوتی ہے کہ اج، کل اور پرسوں کے پیپرز آؤٹ ہو گئے تھے۔ ارمانوں پر اوس پڑ جاتی ہے۔ پوزیشن لینے والے خوف کا شکار ہو کر دل برداشتہ ہو جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ انکا کیا کیا بنے گا جب حیلہ ساز کامیاب ہو کر اچھی پوزیسننز پر براجماں ہونگے اور قابلیت و اہلیت کو قدموں تلے روند دیا جائیگا۔ ہے کوئی علاج اس کا؟

اپنا تبصرہ لکھیں