اٹلی میں غیر ملکیوں کے خلاف نفرت ایک خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ماحول پہلے ہی کشیدہ تھا مگر اس مہینے پیش آنے والے دو مختلف واقعات نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔ ان دونوں واقعات نے نہ صرف اطالوی معاشرے کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کو بے نقاب کیا بلکہ یہ بھی دکھا دیا کہ انصاف، ہمدردی اور انسانی جان کی قدر کا پیمانہ سب کے لیے ایک جیسا نہیں رہا۔
16 مئی کو اٹلی کے شہر مودنہ میں ایک خوفناک واقعہ پیش آیا۔ سلیم الکدری نامی ایک نوجوان نے اپنی گاڑی راہگیروں پر چڑھا دی۔ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ لوگ فضا میں اچھلتے ہوئے دور جا گرے۔ آٹھ افراد زخمی ہوئے جبکہ دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی، جن میں ایک خاتون اپنی دونوں ٹانگیں گنوا بیٹھی۔ حادثے کے بعد سلیم گاڑی سے نکل کر بھاگنے لگا مگر راہگیروں نے اسے دبوچ لیا۔ اس دوران اس نے چاقو سے ایک اطالوی شہری پر حملہ بھی کیا اور اسے زخمی کر دیا۔
یہ واقعہ سامنے آتے ہی اٹلی کی امیگرنٹس مخالف سیاسی جماعتوں اور سوشل میڈیا کے نفرت فروش حلقوں نے اسے فوری طور پر “اسلامی دہشت گردی” سے جوڑنا شروع کر دیا۔ مگر پولیس کی ابتدائی تحقیقات ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔ اکتیس سالہ سلیم الکدری شدید ذہنی اور نفسیاتی مسائل کا شکار تھا۔ اکنامکس میں ڈگری رکھنے کے باوجود بے روزگار تھا۔ وہ بیرگامو میں پیدا ہوا، اٹلی ہی میں تعلیم حاصل کی اور راورینا میں رہائش پذیر تھا۔ اس کے گھر پر چھاپہ بھی مارا گیا مگر کوئی ایسا ثبوت نہ ملا جس سے اس کا تعلق کسی شدت پسند تنظیم سے جوڑا جا سکے۔
لیکن شاید مسئلہ حقیقت نہیں بلکہ نام ہے۔ اگر نام سلیم ہو تو سوال فوراً مذہب تک پہنچ جاتے ہیں۔ اگر چہرہ مشرق وسطیٰ یا جنوبی ایشیا جیسا ہو تو پورا بیانیہ بدل جاتا ہے۔ اس واقعے میں نفرت پھیلانے والوں کے لیے سب سے بڑی پریشانی یہ بن گئی کہ سلیم کو قابو کرنے والوں میں مصری اور پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ شہر کا مئیر ان غیر ملکیوں کی تعریف کر رہا ہے، مگر سوشل میڈیا پر بیٹھے نفرت کے سوداگر اب بھی ہر غیر ملکی کو خطرہ قرار دے کر ملک بدر کرنے کے مطالبے کر رہے ہیں۔
دوسری طرف اٹلی کے ہی شہر تارانتو میں چند روز قبل ایک اور واقعہ پیش آیا، مگر اس پر نہ وہ شور مچا، نہ وہ غصہ دکھائی دیا، نہ وہ قومی بحث چھڑی۔ مالی سے تعلق رکھنے والے افریقی باشندے باکری ساکو کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ وہ صبح پانچ بجے اپنی پرانی سائیکل پر کام پر جا رہا تھا کہ چند اطالوی نوجوانوں نے اسے روک لیا۔ پہلے تلخ کلامی ہوئی، پھر مکوں، ٹھڈوں اور لاتوں سے اسے مارا گیا۔ اس نے بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کی مگر حملہ آوروں نے تیز دھار آلے سے اسے قتل کر دیا۔ حملہ آوروں میں کم عمر لڑکے بھی شامل تھے۔
اس واقعے کے بعد شہر کے چرچ کے پادری نے ایک ایسا جملہ کہا جو پورے معاشرے کے لیے آئینہ ہے۔ اس نے کہا کہ “باکری ساکو کا قتل ایک سانحہ ضرور ہے، مگر اس سے بڑا سانحہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی شخص اس جگہ پھول رکھنے یا افسوس کرنے بھی نہیں گیا جہاں ایک انسان کی لاش گری تھی۔”
اٹلی میں روایت ہے کہ جہاں کوئی حادثہ ہو یا کسی کی موت واقع ہو، وہاں لوگ پھول رکھ کر اظہار افسوس کرتے ہیں۔ مگر باکری ساکو کے لیے کوئی نہ آیا۔ جیسے اس کی جان، جان ہی نہ ہو۔ جیسے اس کا خون سرخ نہیں تھا۔ جیسے اس کی موت صرف ایک معمولی خبر ہو۔
یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسانیت کی اصل آزمائش ہوتی ہے۔
سلیم الکدری کے بارے میں محلے والوں کے انٹرویوز سے معلوم ہوا کہ وہ شدید تنہائی کا شکار تھا۔ اس کے دوست نہ ہونے کے برابر تھے۔ وہ ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی امراض کی ادویات استعمال کرتا تھا مگر کچھ عرصے سے اس نے دوائیں بھی چھوڑ دی تھیں۔ پڑوسیوں کے مطابق وہ اکثر اکیلا گاڑی چلاتا رہتا، بہت زیادہ سگریٹ نوشی کرتا اور خود میں گم رہتا تھا۔ اس کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی شخص بھی نہیں تھا۔ نہ اسے نماز پڑھتے دیکھا گیا، نہ روزے رکھتے۔ ایک دوست کے مطابق تو شاید وہ خدا پر یقین بھی نہیں رکھتا تھا۔
مگر یہ باتیں خبر نہیں بنتیں۔ اگر بنیں بھی تو زیادہ دیر زندہ نہیں رہتیں۔ کیونکہ آج کے میڈیا اور سیاست کو انسانی نفسیات، سماجی ناانصافیاں اور ذہنی بیماریوں سے زیادہ آسان ہدف چاہیے۔ اور وہ آسان ہدف ہے: اسلام، مسلمان اور غیر ملکی۔
ایک بہت اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر سلیم الکدری جیسا حملہ آور اطالوی نام رکھتا، سنہرے بالوں اور نیلی آنکھوں والا ہوتا، تو کیا پورے اٹلی میں عیسائیت پر بحث شروع ہو جاتی؟ کیا ہر ٹی وی چینل پر پادریوں کو بلا کر پوچھا جاتا کہ ان کے مذہب نے نوجوانوں کو کیا سکھایا؟ کیا ہر اطالوی کو اجتماعی طور پر جواب دہ ٹھہرایا جاتا؟ یقیناً نہیں۔
تب فوراً اس کی ذہنی حالت، خاندانی مسائل، نفسیاتی بیماری، سماجی تنہائی اور معاشرتی ناکامیوں پر گفتگو شروع ہو جاتی۔ مگر جیسے ہی نام سلیم، احمد یا محمد ہو، جرم ایک فرد کا نہیں رہتا بلکہ ایک پوری تہذیب کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی دہرا معیار ہے جو مغربی معاشروں کے اندر خاموشی سے زہر گھول رہا ہے۔
یہ مان لینے میں کوئی عار نہیں کہ یورپ میں امیگرنٹس کے مسائل موجود ہیں۔ جرائم بھی ہوتے ہیں اور بعض اوقات سنگین واقعات بھی پیش آتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ انصاف کا پیمانہ کیا واقعی سب کے لیے ایک ہے؟ اگر ایک غیر ملکی جرم کرے تو پورا میڈیا اس کی نسل، مذہب اور شناخت کھنگالنے لگتا ہے، مگر جب باکری ساکو کو صرف اس کی سیاہ جلد اور کمزور حیثیت کی وجہ سے قتل کر دیا جاتا ہے تو پورا معاشرہ خاموش کیوں ہو جاتا ہے؟ اس کے خون پر وہ غصہ کیوں نظر نہیں آتا جو دوسرے واقعات پر فوراً بھڑک اٹھتا ہے؟
اصل خطرہ صرف نفرت انگیز سیاست نہیں بلکہ وہ اجتماعی بے حسی ہے جو آہستہ آہستہ معاشروں کی روح کو کھا جاتی ہے۔ جب ایک مقتول کے لیے لوگ پھول رکھنے بھی نہ جائیں، جب ایک ذہنی مریض نوجوان کی تباہی میں معاشرتی ناکامی کا پہلو نظر ہی نہ آئے، جب ہر حادثے کو نفرت کے ایندھن میں بدل دیا جائے، تو سمجھ لینا چاہیے کہ بیماری صرف چند افراد میں نہیں رہی بلکہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔
یورپ نے دنیا کو انسانی حقوق، آزادی اظہار اور مساوات کے بڑے بڑے سبق دیے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنے ہی دعووں کے آئینے میں خود کو دیکھے۔ کیونکہ انصاف تبھی معتبر ہوتا ہے جب وہ نام، نسل، مذہب اور رنگ سے بالاتر ہو۔ ورنہ دہرا معیار آخرکار صرف نفرت کو جنم دیتا ہے، امن کو نہیں۔


