برِّصغیر کی سیاست ایک نئے عہد کے دہانے پر کھڑی ہے۔ دہلی کی گلیوں میں “کاکروچ جنتا پارٹی” کے طنزیہ نعرے ہوں، ڈھاکہ کی شاہراہوں پر طلبہ کے انقلابی جلوس، یا کھٹمنڈو کے چوکوں میں جین زیڈ کی بغاوت یہ سب واقعات الگ الگ نہیں، بلکہ ایشیا کے زخمی شعور کی ایک ہی چیخ کے مختلف آہنگ ہیں۔
یہ محض احتجاج نہیں، یہ اُس نسل کا اعلانِ جنگ ہے جو موروثی سیاست، خاندانی جمہوریت، ریاستی تکبر اور اشرافیائی جبر سے بیزار ہو چکی ہے۔
ہندوستان میں “کاکروچ جنتا پارٹی” کا طنز دراصل اس سیاسی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے جہاں عوامی اضطراب کو اکثر تمسخر سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب نوجوان اپنی بے بسی کو میمز، طنز اور علامتی مزاح میں ڈھالنے لگیں تو سمجھ لیجیے کہ ریاست اور عوام کے درمیان مکالمے کا پل ٹوٹ چکا ہے۔ یہ طنز دراصل خاموش انقلاب کی ابتدائی سرگوشی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں براہِ راست بولنے سے محروم ہو جائیں تو لطیفے توپوں سے زیادہ خطرناک ہو جاتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں جو کچھ ہوا، وہ جنوبی ایشیا کی سیاست کے لیے ایک لرزہ خیز استعارہ بن چکا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کے خلاف اٹھنے والی طلبہ تحریک دیکھتے ہی دیکھتے پورے سیاسی نظام کے خلاف عوامی بغاوت میں تبدیل ہو گئی، اور بالآخر شیخ حسینہ واجد کو اقتدار چھوڑنا پڑا۔
وہ اقتدار جو پندرہ برس تک فولادی ہاتھوں سے ریاست کو قابو میں رکھے ہوئے تھا، نوجوانوں کے نعرے، ڈیجیٹل مزاحمت اور عوامی غیظ و غضب کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ بعد ازاں طلبہ رہنماؤں نے نئی سیاسی جماعت بھی تشکیل دی تاکہ موروثی سیاست کے مقابل ایک نئی عوامی قوت پیدا کی جا سکے۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ حسینہ گریں یا باقی رہیں؛ سوال یہ ہے کہ آخر وہ کون سا لاوا تھا جو برسوں سے عوام کے سینے میں پک رہا تھا؟ جواب واضح ہے:
بے روزگاری، اداروں کی جانبداری، سیاسی اجارہ داری، اظہارِ رائے پر قدغن، اور نوجوان نسل کا مستقبل سے محروم ہو جانا۔
نیپال میں بھی یہی بے چینی نئی شکل میں ابھری۔ جین زیڈ کی تحریک نے صرف حکومت کو نہیں للکارا بلکہ پورے سیاسی ڈھانچے کو چیلنج کیا۔ خاندانی سیاست، اقربا پروری اور اشرافیہ کے تعیش کے خلاف نوجوان سڑکوں پر نکل آئے۔
کھٹمنڈو کی فضا میں یہ سوال گونجنے لگا کہ اگر جمہوریت صرف چند خاندانوں کی جاگیر ہے تو پھر عوام کا ووٹ آخر کس شے کا نام ہے؟
یہ تمام تحریکیں دراصل “ڈیجیٹل عوامی شعور” کی پیداوار ہیں۔ اب انقلاب خفیہ پمفلٹوں سے نہیں، موبائل اسکرینوں سے جنم لیتا ہے۔ فیس بک کی پوسٹ، ایک میم، ایک طنزیہ ہیش ٹیگ، یا ایک وائرل ویڈیو — یہ سب آج کے عہد کے سیاسی منشور ہیں۔ بنگلہ دیش کی تحریک میں سوشل میڈیا نے اجتماعی شناخت اور مزاحمتی بیانیے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔
پاکستان اگر ان واقعات کو محض ہمسایہ ممالک کا داخلی معاملہ سمجھ رہا ہے تو یہ خطرناک خوش فہمی ہو گی۔
پاکستان کا سیاسی منظرنامہ بھی اسی بے چینی سے لبریز ہے۔ یہاں بھی نوجوان نسل سیاسی اشرافیہ، معاشی بدحالی، بیروزگاری، طاقتور اداروں کی مداخلت، اور جمہوری عدم استحکام سے نالاں ہے۔ یہاں بھی سیاسی جماعتیں اکثر نظریات سے زیادہ شخصیات کے گرد گھومتی ہیں۔ یہاں بھی سوشل میڈیا ریاستی بیانیے کے مقابل متوازی عوامی عدالت بن چکا ہے۔
فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان میں اضطراب ابھی مکمل عوامی انقلاب کی صورت اختیار نہیں کر سکا، مگر فضا میں بارود کی بو صاف محسوس ہوتی ہے۔
برِّصغیر کی ریاستیں شاید ابھی تک یہ سمجھ رہی ہیں کہ انٹرنیٹ کا نوجوان صرف تفریح چاہتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ عزت، نمائندگی اور مستقبل مانگ رہا ہے۔ جب نسلِ نو کو روزگار کے بجائے محض نعرے ملیں، انصاف کے بجائے تاخیر ملے، اور جمہوریت کے بجائے سیاسی خاندانوں کی اجارہ داری — تو پھر طنز، احتجاج اور بغاوت ناگزیر ہو جاتے ہیں۔
“کاکروچ جنتا پارٹی” اسی شکستہ جمہوریت کا طنزیہ مرثیہ ہے۔
ڈھاکہ کی طلبہ تحریک اسی مرثیے کا خون آلود باب ہے۔
اور نیپال کی جین زیڈ بغاوت اسی داستان کا تازہ استعارہ۔
یہ سب واقعات چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں سیاست اب صرف پارلیمان کے ایوانوں میں نہیں ہو گی؛
اب سیاست سڑک، اسکرین، میم، طنز اور نوجوان کے زخمی شعور میں جنم لے گی۔


