آبادی کا طوفان اور ہمارے اجتماعی زوال کی کہانی/محمد امین اسد

پاکستان اس وقت جس بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، اس کی سنگینی کا اندازہ شاید ابھی پوری قوم کو نہیں۔ ہم برسوں سے مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، سیاسی انتشار اور معاشی زوال کی الگ الگ تشریحات کرتے رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تمام مسائل کی جڑ میں ایک ایسا مسئلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے جس پر ہم سنجیدگی سے گفتگو کرنے کے لیے بھی تیار نہیں: بے ہنگم آبادی میں اضافہ۔

یہ محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں۔ یہ تہذیب، معیشت، تعلیم، اخلاق، سماجی نظم اور ریاستی بقا کا مسئلہ ہے۔

پاکستان میں ہر سال تقریباً پچاس لاکھ نئے افراد آبادی میں شامل ہو رہے ہیں۔ گویا ہر سال ایک نیا بڑا شہر ہمارے وسائل، معیشت، تعلیم، صحت اور روزگار پر بوجھ بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہماری ریاست، ہمارا سماج، اور ہمارے فکری طبقات ابھی تک اس سوال کو محض ایک مذہبی بحث یا سیاسی نعرے کے درجے سے آگے نہیں لے جا سکے۔

کسی بھی ملک کی آبادی اُس وقت طاقت بنتی ہے جب وہ تعلیم یافتہ، تربیت یافتہ، ہنرمند اور نظم و ضبط کی حامل ہو۔ انسانی سرمایہ تبھی سرمایہ کہلاتا ہے جب وہ پیداوار میں اضافہ کرے، معیشت کو مضبوط بنائے، اور سماج کو استحکام دے۔ لیکن اگر آبادی کی اکثریت جہالت، بے ہنری، غربت اور محرومی کے اندھیروں میں پروان چڑھ رہی ہو تو پھر یہی آبادی وسائل پر ایسا دباؤ بن جاتی ہے جو ریاست کی بنیادیں ہلانا شروع کر دیتا ہے۔

آج پاکستان میں یہی ہو رہا ہے۔

ہم آبادی بڑھا رہے ہیں، مگر انسان تیار نہیں کر رہے۔ ہمارے ہاں لاکھوں بچے ایسے پیدا ہو رہے ہیں جنہیں نہ معیاری تعلیم ملتی ہے، نہ فنی تربیت، نہ اخلاقی رہنمائی، اور نہ روزگار کے مواقع۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک طرف یونیورسٹیوں سے ڈگری یافتہ بے روزگاروں کی فوج نکل رہی ہے، اور دوسری طرف کروڑوں ایسے نوجوان موجود ہیں جو بنیادی مہارتوں سے بھی محروم ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو آسانی سے جرائم، انتہاپسندی، منشیات، مسلح جتھوں اور لاقانونیت کا ایندھن بن جاتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں اپنی آبادی کو تعلیم، انصاف اور روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو پھر سماج آہستہ آہستہ غیر ریاستی طاقتوں کے رحم و کرم پر چلا جاتا ہے۔ جرائم پیشہ گروہ، مسلح جتھے، لسانی اور فرقہ وارانہ تنظیمیں، اور مقامی طاقتور عناصر ریاست کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اپنی چھوٹی چھوٹی حکومتیں قائم کر لیتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اس المیے سے گزر چکے ہیں، اور اگر ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پاکستان بھی اسی خطرناک راستے پر چل سکتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنی آبادی کو قومی طاقت میں بدلنے کے لیے کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی نہیں کی۔ بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام اور فلپائن جیسے ممالک نے اپنی آبادی کو فنی تربیت دے کر عالمی منڈیوں تک پہنچایا۔ ان کے نوجوان بیرون ملک جا کر زرمبادلہ کما رہے ہیں، صنعتیں چلا رہے ہیں، اور اپنے ممالک کی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں صورت حال یہ ہے کہ کروڑوں نوجوان محض اس لیے بے مصرف ہو کر رہ گئے ہیں کہ ریاست نے ان کی ذہنی اور فنی تعمیر پر سرمایہ کاری ہی نہیں کی۔

یہ کہنا کہ “رزق اللہ دیتا ہے” اپنی جگہ ایک ایمانی حقیقت ہے، لیکن یہ حقیقت انسان کو ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتی۔ اگر رزق کا وعدہ کافی ہوتا تو پھر قرآن محنت، تدبیر، کفایت شعاری اور حکمت کی تعلیم کیوں دیتا؟ اسلام نے ہمیشہ توازن، اعتدال اور ذمہ داری کا درس دیا ہے۔ اولاد یقیناً رحمت ہے، لیکن ایسی رحمت جس کی تعلیم، تربیت، صحت اور مستقبل کا حق ادا نہ کیا جا سکے، وہ پورے معاشرے کے لیے آزمائش بھی بن سکتی ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے آبادی کے سوال کو جذباتی نعروں کے حوالے کر دیا ہے۔ کوئی اسے مذہب کے خلاف سازش قرار دیتا ہے، کوئی اسے محض معاشی مسئلہ سمجھتا ہے، اور کوئی سرے سے مسئلہ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر کسی ملک کی آبادی اُس کی معیشت، تعلیم اور وسائل کی رفتار سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھنے لگے تو تباہی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

آج پاکستان کے شہروں کی حالت دیکھیے۔ گنجان آباد بستیاں، ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، پانی کا بحران، ہسپتالوں کی کمی، تباہ حال تعلیمی نظام، بے روزگار نوجوانوں کا ہجوم، بڑھتے ہوئے جرائم، بھیک مانگتے بچے، اور مایوسی میں ڈوبا ہوا معاشرہ ، یہ سب محض انتظامی ناکامی نہیں بلکہ بے قابو آبادی کے نتائج بھی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم ابھی تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم جذبات سے فیصلے کرتے ہیں، اعداد و شمار سے نہیں۔ ہم حقیقت سے زیادہ نعروں پر یقین رکھتے ہیں۔ حالانکہ قومیں صرف تعداد سے نہیں، معیار سے ترقی کرتی ہیں۔

پاکستان کو اس وقت ایک جامع قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ایسی حکمت عملی جس میں تعلیم، فنی تربیت، آبادی میں توازن، خواتین کی صحت، معاشی منصوبہ بندی اور سماجی شعور سب شامل ہوں۔ محض نعرے، خطابات اور وقتی مہمات اس بحران کو نہیں روک سکتیں۔

اگر ہم نے ابھی بھی اپنی ترجیحات درست نہ کیں تو آنے والے برسوں میں یہ بحران صرف معاشی مسئلہ نہیں رہے گا، بلکہ سماجی انتشار، سیاسی انارکی اور داخلی عدم استحکام کی ایسی شکل اختیار کر سکتا ہے جسے سنبھالنا شاید کسی حکومت کے بس میں نہ رہے۔

قوموں کی تباہی ہمیشہ باہر سے نہیں آتی۔ بعض اوقات وہ خاموشی سے اندر ہی اندر بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ ایک دن پورا معاشرہ اس کے بوجھ تلے بیٹھ جاتا ہے۔ پاکستان کو آج اسی خطرے کا سامنا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں