منشیات ایک عالم گیر علت ہے، جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر روز بروز بڑھ رہی ہے۔اس کے اثرات اور دہشت گردی کینسر اور ایٹم بمب سے زیادہ خطرناک ہیں۔حیرت ہے اس نے بغیر رنگ، نسل اور مذہب کے ایسی کاروائی کی ہے جس نے قوموں کی تباہی کی گھنٹی بجا دی ہے۔ کوئی اس حقیقت کو مانے یا مانے ظرف اپنا اپنا۔ کیوں کہ گناہ اور جرم چھپ نہیں سکتا۔ یہ ہر حال اور زمانے میں ظاہر ہو جاتا ہے۔ماضی ، حال اور مستقبل حالات و واقعات کی ایسی تصویر دکھاتے ہیں۔جہاں سچ اور جھوٹ الگ الگ راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔کوئی بھی بات جو قانون قدرت کے خلاف ہوگی۔رد عمل کی زد میں آئے گی۔اُس کا شور آسمان و زمین پر سُنا جائے گا۔معاشرے میں بے بسی کا ایک ایسا ماحول پیدا ہو جائے گا جہاں ہر کوئی اُلجھن کا شکار ہو جائے گا۔منشیات فروشی کا دھندہ عالم کائنات میں ہوا کی طرف پھیلا ہے۔اِس کی اُلودہ فضا نے جسمانی، اخلاقی اور نفسیاتی بیماریوں کو جنم دیا ہے۔کہیں لوگ بیماریوں کے ہاتھوں یرغمال بن چکے ہیں۔کہیں اخلاقی امراض کا چرچا ہے اور کہیں نفسیاتی امراض کی جڑیں ہیں جو پھیل کر قلب و ذہن تک رسائی حاصل کر چکی ہیں۔ منشیات ایک ناقابل شفاء بیماری ہے جو دُنیا بھر میں کینسر کی طرح پھیل چکی ہے۔آپ کسی بھی ملک چلے جائیں۔وہاں اِس بیماری کے مریض کثرت سے ملیں گے۔وہ اکثر ریلوے اسٹیشنوں کے آس پاس، بس اسٹینڈوں اندر باہر ، ہوٹلوں کے باہر اکثر کھڑے ، سوتے یا مانگتے ہوئے دیکھیں گے۔ان کے ہاتھ میں کشکول ، حلیہ بگڑا ہوا ، بال بِکھرے ہوئے ، گندے اور میلے کپڑے جو اُن کی ذہنی اور جسمانی حالت کے بارے میں خبردار کرتے ہیں۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے قاصر یہ طبقہ ایک ایسی راہ پر گامزن ہے جہاں زندگی کی کہانی موت پر آ کر ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کو دیمک سے تشبیہ دی جائے تو کوئی مبالغہ آرائی نہ ہوگی۔ وقت ، حالات اور موسموں نے معاشرے کو ایک ایسی دردناک کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔جہاں پچھتاوے کا راگ سننے کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ عموماً والدین کو اُس وقت پتہ چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چُکا ہوتا ہے۔یہ منشیات فروشوں کا کالا دھندہ ہے جو شب و روز کی پرواہ کیے بغیر جاری رہتا ہے۔اس کی خرید و فروخت بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک دکاندار اشیائے خوردونوش فروخت کرتا ہے۔پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک اپنی نوجوان نسل کو تباہ و برباد ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔گلی گلی، شہر شہر، گاؤں گاؤں ایک ایسی کیفیت میں ڈوبا ہوا ہے۔جہاں نوجوانوں کے منہ سے ایسا دُھواں نکلتا ہے جس کی خوش بُو ماحولیاتی اُلودگی کے ساتھ ساتھ ہر خاص و عام کے نتھنوں تک بھی پہنچ جاتی ہے۔افیون ، چرس ، بھنگ ، آئس ، ویو، ویلو ، شراب ، پان اور سگریٹ نوشی جگہ جگہ دستیاب ہے۔معلوم نہیں یہ حالات کی ستم ظریفی ہے یا انسانوں کی اپنی کوتاہی جو نسلِ انسانی کو تباہ و برباد کرنے کی ذمہ دار ہے۔
اگر دیکھا جائے یہ ہمارے ہی لوگ ہیں جو ہوش کے ناخن لینے کی بجائے ایسے مکروہ اور خطرناک دھندے میں پڑ گئے ہیں۔جہاں بچوں کو بچانا ایک انتہائی مُشکل مرحلہ بن گیا ہے۔ویسے اِن لوگوں سے جنگ بھی کتنی لڑی جائے ان کے پاس خرید و فروخت کے جو نفسیاتی حربے ہیں۔ان تک ایک عام آدمی رسائی نہیں کر سکتا۔ان کے تعلقات و روابط کا نیٹ ورک اس قدر مربوط ہے جہاں یہ سب کو بے وقوف بنا جاتے ہیں۔یہ مختلف تاریخوں و طریقوں سے کاروائی کرتے ہیں۔مثلاً گلی محلے کے بچوں کے ساتھ دوستیاں ، ویڈیو گیم کے ذریعے نئے دوستوں کا انتخاب ، الیکٹرانک ڈیوائسز کے ذریعے ایسا جال بچھاتے ہیں۔ جہاں نوجوان نسل گمراہ ہو کر ایک ایسے راستے پر محوِ سفر ہو رہی ہے جو ایک اچھے بھلے انسان کو ہلاکت ، بغاوت اور موت تک پہنچا دیتا ہے۔یہ گروہ کہاں سے آئے۔ان کا طریقہ واردات اتنا پچیدہ اور سنسنی خیز ہے، جہاں انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ایک منشیات فروش تو اپنا دھندا کر جاتا ہے لیکن ایک خاندان کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر جاتا ہے۔اس کی خوشیاں مکمل طور پر بانجھ پن کا شکار ہو جاتی ہیں۔اب تواسکولز ،کالجز اور یونیورسٹیز بھی غیر محفوظ ہو چکی ہیں۔ ہماری نوجوان نسل ایک ایسے چُنگل میں پھنس چُکی ہے۔جہاں سے نکلنا اتنا ہی مُشکل لگتا ہے جیسے کوئی کنویں میں گرا ہوا مینڈک۔
ہمارے سماج میں ایسی خطرناک اور کالی بھیڑیں سرائیت کر چکی ہیں جنھیں پہچاننا اتنا مُشکل ہو گیا ہے جیسے آنکھوں میں کالا موتیا بینائی سے محروم کر دیتا ہے۔
ایسے دِل خراش واقعات کو غربت اور مہنگائی جنم دے رہی ہے۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں روزگار کے مواقع میسر نہ ہوں گے۔پھر وہاں کے لوگ ایسے پیشہ جات سے منسلک ہو جائیں گے جو غیر فطری ہونے کے ساتھ ساتھ نسلِ نو کی تباہی کا سبب بھی بنیں گے۔ یہ کوئی قسمت کا کھیل تو نہیں ہے بلکہ انسانیت بچانے کا وقت ہے۔اِسے قسمت کے کھیل سے مُنسوب کر دینا ایک ایسی حماقت ہے جو قوم کے بچوں کی شہ رگ کاٹ رہی ہے۔نسل کشی کا ایک ایسا موسم جو آکسیجن کا دروازہ بند کر رہا ہے۔اُلودگی و ناپاکی کے جراثیم بکھیر رہا ہے۔بچوں کے ہاتھ میں کتاب یا ہنر ہونے کی بجائے سگریٹ کی ڈبی اور ایسی خطرناک الیکٹرک ڈیوائسز ہیں جو زندگی کو موت کے حوالے کر رہی ہیں۔بچوں ، بڑوں اور خواتین میں اس بات کا مسلسل رحجان بڑھ رہا ہے۔جہاں زندگی بے معنی ہو گئی ہے۔مستقبل تباہ و برباد، جینے کی امید اور نہ بڑھنے کا جذبہ بس قید و بند کی صحبتیں برداشت کرنے کا موسم آباد کر رہا ہے۔جگہ جگہ ہلاکتیں اور دہشتیں ہیں۔جلاؤ گیراؤ جیسے واقعات ہیں۔ ظلم و ستم کی زنجیریں ہیں۔ زندگی غیروں کے ہاتھ بک چکی ہے۔نوجوان نسل کا کوئی پُرسان حال نہیں۔تربیتی ادارے بھی منشیات کے اڈے بن چُکے ہیں جہاں کش لگانے کا رش لگا رہتا ہے۔عصر حاضر میں کئی جنگیں چل رہی ہیں۔ کہیں ہتھیاروں کی جنگ، کہیں سیاست کی جنگ ، کہیں دھوکہ دہی کی جنگ ، کہیں جھوٹ بولنے کی جنگ اور کہیں انسانوں کو قتل کرنے کی سازش بامِ عروج پا ری ہے۔منشیات کے بڑھتے ہوئے رحجان کو روکنے کے لیے اگر اجتماعی طور پر قوم کی فلاح و بہبود کے لیے فیصلے نہ کیے گئے تو نوجوان نسل کا وجود کرچی کرچی ہو کر بکھر جائے گا۔اس سے قبل بہت دیر ہو جائے۔حالات و واقعات پر قابو پانے کے لیے ایسے مُوثر اقدامات کی ضرورت ہے جہاں عام فرد سے لے کر حکومتِ وقت کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ کسی فرد واحد کا مسئلہ تو نہیں ہے بلکہ پوری قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔


