کسی گاؤں میں ایک شرارتی بچہ رہتا تھا جسے دوسروں کو چھیڑنے کی عادت تھی۔ اسے گاؤں کے چودھری کی آشیر باد حاصل تھی کوئی اسے کچھ نہ کہہ پاتا تھا۔کسی گھر کی گھنٹی بجا کے بھاگ جاتا ۔ کبھی کسی گھر کے بڑوں میں بات آگے پیچھے کر کے ان کو لڑا دیتا اور پھر تماشا دیکھ کر خوب مزا لیتا۔ ایک دن جانے اسے کیا سوجھی۔ بازار سے گزرتے ایک بزرگ کو دھکا دیے کر گرا دیا۔ اور بازار میں کھڑا ہو کر محظوظ کن نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگا کہ کوئی اسے کچھ کہہ پائے گا کہ نہیں۔ مگر بازار میں موجود اتنے لوگوں میں سے کوئی بھی ان بزدگ کو اٹھانے کے لیے آگے نہ آیا۔ اتنے میں وہ بزرگ شرمندہ شرمندہ سے اٹھے اور جیب میں ہاتھ ڈالا ۔ سب کو لگا شاید آج اس بچے کو کوئی سبق مل جائے۔ مگر لوگوں کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب بزرگ نے ایک روپیہ نکال کر اسکے ہاتھ پر رکھ دیا۔ لوگوں نے بزرگ سے پوچھا کہ انہوں نے اس شرارتی بچے کو پیسے کیوں دیے تو وہ بولےپیسہ پھینک اور تماشہ دیکھ۔ کسی کو ان کی بات سمجھ نہ آئی۔ دوسری طرف اس بچے کو عادت ہی ہو گئی۔ کبھی کسی کو دھکا دیتا کبھی کسی کو اور سب سے پیسے وصولتا۔ مگر ایک دن اس بچے نے گاوں کے سب سے شریف آدمی کو دھکا دیا اور پیسے وصولنے کے لیے ہاتھ آگے کر دیا۔ وہ شریف آدمی مٹی جھاڑتے ہوئے اٹھا اور اس بچے کو دھنک کے رکھ دیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے اس بجے نے دوبارہ کسی کو دھکا دینے کی کوشش نہیں کی۔
آج سے کوئی ایک سال پہلے 10 مئی 2025 کو یہی شرارتی بچہ پاکستان کو بھی چھیڑ بیٹھا۔ اسے شاید لگا تھا۔ دفتر خارجہ میں کوئی احتجاج ہو گا اور پھر خاموشی چھا جائے گی۔ یا پھر جیسے وہ نیپال، سری لنکااور بھوٹان جیسے ممالک کو چھیڑکر حظ اٹھا تا ہے۔ ویسے ہی اب بھی ہو گا مگر اسے اندازہ نہیں تھا اس بار اسکی ساری پہلوانی نکال دی جائے گی۔
اپریل 2026 تک زر خرید کے حساب سے 4۔13 ٹریلین ڈالر کے ساتھ بھارت بلاشبہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں چھٹی بڑی معیشت شمار ہوتی ہے۔ پاکستان زرخرید کے حساب سے 1۔5 ٹریلین ڈالر کے ساتھ دنیا کی چوبیسویں بڑی معیشت ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 70 بلین ڈالر پاکستان کا 9 بلین ڈالرہے۔ بھارت کے پاس رافیل جیسے جدید طیارے، وسیع بحری قوت، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا سفارتی اثر و رسوخ ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) کے مطابق بھارت گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے دس بڑے دفاعی اخراجات کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستان معاشی مشکلات، محدود وسائل اور سیاسی عدم استحکام کے باوجود اپنی دفاعی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ یوں علاقے، آبادی اور ذرائع میں سات گنا چھوٹے ملک پاکستان نے خطے کے بگڑے ہوئےاس بچےکو وہ سبق سکھایا کہ امریکہ سمیت پوری دنیا عش عش کر اٹھی۔
دنیا کے بہت سے تجزیہ نگاروں کے لیے بھارت کی معیشت کے حجم، عالمی سرمایہ کاری، امریکہ اور مغربی دنیا کے ساتھ اسٹریٹجک تعلقات، اور جدید دفاعی خریداریوں کی وجہ سے خطے میں طاقت کا توازن یکطرفہ ہوتا جا رہا تھا۔ لیکن مئی 2025ء کی محدود جنگ نے یہ واضح کردیا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن صرف معاشی اعداد و شمار سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اسے سمجھنے کے لیے وسائل کے ساتھ ساتھ عسکری سمجھ بوجھ، جنگی حکمتِ عملی، جغرافیائی حیثیت، نفسیاتی برتری، ردعمل کی رفتار اور قومی عزم کو بھی سمجھنا ہو گا۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود یہ ثابت کیا کہ وہ نہ صرف مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ خطے میں اسٹریٹجک توازن برقرار رکھنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔ پاکستان، بھارت کے دیگر ہمسایہ ممالک سے مختلف ہے جہاں وہ جب چاہے منہ اٹھا کر چلا جاتا تھا۔
اس مختصر تصادم نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کی سیاست کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ دنیا نے ایک بار پھر دیکھا کہ ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم مکمل جنگ تک نہیں جاتا بلکہ ایک حد کے اندر رہتا ہے۔ یہی “ڈیٹرنس” یا دفاعی توازن دراصل جنوبی ایشیا میں بڑے پیمانے کی جنگ کو روکے ہوئے ہے۔ دونوں ممالک اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید کشیدگی کے باوجود معاملات محدود دائرے میں رہے۔قیاس ہے کہ گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے کا مطلب اب سب کو سمجھ آ گیا ہو گا۔ انکو بھی جو سمجھتے تھے کہ روٹی اور بوٹی ہی خوشحالی اور بقا کا اشاریہ ہیں۔ اگر ابھی بھی نہیں سمجھے تو امریکی ا ٹارنی جنرل اور یورپ میں نیٹو افواج کے سابق کمانڈر کلارک کا دعویٰ ملاحظہ فرمائیں جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ان کی نومبر 2001 میں واشنگٹن میں ایک اعلیٰ فوجی افسر سے ملاقات ہوئی جس نے انہیں بتایا کہ بش انتظامیہ شام، لبنان، لیبیا، ایران، صومالیہ، سوڈان اور عراق پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اور ان ریاستوں کو ناکام ریاستیں بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ پاکستان کا اس لسٹ میں نہ ہونا اگر حیرت کی بات ہے تو اسکی وجہ پاکستان کی وہی پالیسی ہے جس کے تحت پاکستان جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن برقرار رکھے ہوئے ہیے۔ یہی دفاعی پالیسی اسکے بقا کی بھی ضامن ہے۔
یہ صورتحال دراصل بین الاقوامی سیاست کے اُس بنیادی اصول کی عکاسی بھی کرتی ہے جسے “بیلنس آف پاور” کہا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی خطے میں ایک طاقت خود کو ناقابلِ شکست سمجھنے لگتی ہے تو دوسری طاقتیں کسی نہ کسی شکل میں توازن پیدا کرتی ہیں۔ یورپ کی سیاست سے لے کر امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ تک، طاقت کا توازن ہی بڑے تصادم کو محدود رکھنے کا ذریعہ بنتا رہا ہے۔ کیوبا میزائل کرائسس میں امریکہ اور روس کو اسی بیلنس آف پاور کے اصول نے ایک خاص نہج سے آگے نہ بڑھنے دیا۔جنوبی ایشیا کی سیاست میں بھی یہی اصول کارفرما نظر آیا۔
پاکستان نے اس تصادم سے صرف عسکری سطح پر ہی نہیں بلکہ نفسیاتی طور پر بھی اپنے آپ کو منوایا ۔ پاکستان کے اندر ایک نیا اعتماد دیکھنے میں آیا جبکہ عالمی سطح پر بھی یہ احساس پیدا ہوا کہ جنوبی ایشیا میں کسی ایک ملک کی مکمل بالادستی خالہ جی کا گھر نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے فوراً بعد عالمی طاقتیں متحرک ہوگئیں۔ امریکہ، چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر اہم ممالک نے فوری سفارتی رابطے کیے تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ مگر ایسا ردعمل وینزویلا کے صدر کو اسکے خاندان سمیت اٹھا نے پر سامنے نہیں آیا۔ یہ عالمی ردعمل اس حقیقت کا ثبوت تھا کہ پاکستان اب بھی خطے کے اسٹریٹجک توازن میں ایک اہم ستون ہے۔ اگر پاکستان جنوبی ایشیا کےاسٹریٹجک توازن کا اہم ستون نہ ہوتا تو شاید عالمی طاقتیں اتنی تیزی سے متحرک نہ ہوتیں۔
مئی 2025ء کے بعد پاکستان نے اپنی سفارتی حکمتِ عملی میں بھی زیادہ اعتماد کا مظاہرہ کیا۔ محض ایک دفاعی ریاست کی بجائے، پاکستان ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کے طور پر سامنے آیا ۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور مختلف علاقائی تنازعات میں مذاکراتی فضا پیدا کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔
پاکستان کی یہ سفارتی سرگرمیاں دراصل اُس نفسیاتی اعتماد کا تسلسل ہیں جو مئی 2025ء کی جنگ کے بعد پیدا ہوا۔ تاریخ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو ریاست میدانِ جنگ میں اپنے دفاع کی صلاحیت ثابت کر دیتی ہے، اُس کی سفارتی آواز بھی زیادہ وزن اختیار کر لیتی ہے۔
پاکستان نے حالیہ برسوں میں چین کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط کیا جبکہ ترکیہ، سعودی عرب، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ افغانستان کے معاملے پر بھی پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ خطے کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال کی بجائے مذاکرات میں ہے۔
اسی تناظر میں پاکستان نے خود کو ایک ممکنہ “ریجنل اسٹیبلائزر” کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تاثر دینا کہ پاکستان صرف جنگی ردعمل دینے والا ملک نہیں بلکہ تنازعات کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے، دراصل نئی سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔
اگر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم کرنا ہے تو خطے کی تمام طاقتوں کو ایک بنیادی حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ یہاں کوئی ایک پہلوان نہیں ہے۔ معاشی اعداد وشماراہم ضرور ہیں مگر جنوبی ایشیا میں عسکری توازن، ایٹمی صلاحیت، جغرافیائی اور عوامی مزاحمت بھی اتنی ہی اہم حقیقتیں ہیں۔
مئی 2025ء کے تصادم سے ثابت ہوتا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ برتری کے دعووں سے نہیں بلکہ طاقت کے توازن کو تسلیم کرنے سے نکلتا ہے۔ کیونکہ جب ایک فریق دوسرے کی مزاحمت کی صلاحیت تسلیم کرلے تو جنگ کے امکانات کم اور مذاکرات کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں۔ قیاس ہے کہ کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے والا بھارت جلد مذاکرات کی میز پر ہو گا کیونکہ شریف آدمی تب تک ہی شریف ہوتا ہے جب تک اسے چھیڑا نہ جائے۔


