چند دن قبل معروف وکیل اور میڈیا پرسنلٹی 78 سالہ سید نعیم الطاف بخاری کے ایک انٹرویو کا کلپ نظر سے گزرا۔ جس میں وہ بوڑھے والدین کے آخری ایام کو تمسخر کا نشانہ بنا رہے تھے۔یہ بات دل کو اس لیے لگی کیوں کہ میری اماں جی بھی ڈیمینشیا کا شکار ہیں۔ گھر تمام افراد کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتے ہیں۔ اس لیے ان کی ہمہ وقت دیکھ بھال ضروری ہے۔ مگر اللہ کا شکر ہر گھر کے تمام افراد اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ ہماری بڑی بھابھی اور بھتیجی ہمہ وقت ان کی دیکھ بھال اور تواضع میں لگی رہتی ہیں۔ کبھی کبھی مجھے یہ احساس ضرور ستاتا ہے کہ شاید ہم ان کی اس طرح خدمت نہیں کر رہے جس کی وہ حقدار ہیں۔ جب بھی میں ان کو روٹی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے سالن میں بھگو بھگو کر کھلاتا ہوں تو میرے تصور میں وہ وقت آتا ہے جب مجھے ہوش بھی نہیں تھا کہ مجھے کس چیز کی ضرورت ہے۔ لباس کھانا بیماری، سردی گرمی یہ سب اماں جی دیکھتی تھیں۔ ایک وہ وقت رہا ہو گا جب اماں میرے پہلے لفظ پر، پہلے قدم پر اور پہلی فرمائش پر خوشی سے پھولی نہ سمائی ہوں گی۔ میرے بیمار ہونے پر نجانے کتنی راتیں رو رو اللہ سے دعائیں کی ہوں گی۔ کچھ لمحے تو اب بھی میرے دل پر نقش ہیں۔ جب اماں منتیں کر کر کے مجھے کھانا کھلاتی تھیں۔ میری چھوٹی سی کامیابی پر خوشی کے آنسو ان کی آنکھوں میں جھلملا کر شدت جذبات کا پتہ دیتے تھے۔ ہر موقعے پر جب ساری دنیا مخالف ہوتی تو وہ ہمارے ساتھ کھڑی رہتیں اور ہر دکھ، غم اور الم میں ایک شفیق سائبان بنی رہیں۔
اور آج جب ان کو اپنا بھی ہوش نہیں۔ کیا میں کچھ وقت ان کے لیے وقف نہیں کر سکتا۔ ان کے پاس بیٹھ کر کچھ باتیں، دو چار مسکراہٹیں اور ماضی کی چند یادیں نہیں دھرا سکتا؟
سید نعیم بخاری جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ، پرکشش اور مثالی شخصیت کے حامل انسان کے الفاظ اور انداز بیان یقیناً دکھی کر گیا۔ خوبصورت اور نام نہاد قابل تقلید شخصیات کا بت کچھ اس طرح مسمار ہوا کہ چمکتے دمکتے ذہین چہروں سے الجھن ہونے لگی ہے۔ ان کے اس بیان سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ پاکستان جیسا ملک جہاں اسلامی اور مشرقی روایات کی پاسداری کو فخریہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے، ایسا طبقہ بھی موجود ہے جو بوڑھے والدین کو بوجھ سمجھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان یہ سوچنے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا نعیم بخاری کا مؤقف درست ہے؟ یا یہ بات انھوں نے مغربی طرز زندگی سے متاثر ہو کر کہی ہے۔
کیوں کہ مغرب میں کچھ بزرگوں کو نرسنگ ہوم، کیئر ہوم، اسسٹڈ لیونگ یا ریٹائرمنٹ ہوم وغیرہ میں بھیج دیا جاتا ہے۔ مغرب میں اولڈ ہاؤسز اکثر ایک سماجی اور طبی نظام کا حصہ ہیں۔
اگرچہ بہت سے بزرگ اپنے گھروں میں یا اپنے بچوں کے ساتھ بھی رہتے ہیں اور بچے والدین کی خود دیکھ بھال کرتے ہیں۔ البتہ کئی لوگ اپنی مرضی سے اولڈ ہاؤسز کا انتخاب اس لیے کرتے ہیں کیوں کہ وہاں انہیں طبی سہولت، نرسنگ اور ہم عمر لوگوں کی رفاقت میسر ہوتی ہے۔کئی ممالک میں بزرگوں کو ڈیمینشیا، فالج، یا مسلسل طبی نگہداشت کی ضرورت ہو تو ان کے لیے ایسے مراکز زیادہ موزوں سمجھے جاتے ہیں۔
یہ تصور بالکل بھی درست نہیں کہ مغرب میں تمام لوگ اپنے والدین کو اولڈ ہاؤس بھیج دیتے ہیں۔ اس لیے اولڈ ہاوس میں رہنے والے ہر شخص کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں کہ اسے اولاد نے چھوڑ دیا ہے۔
اگر اسلامی نقطئہ نظر کی بات کی جائے تو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے پاس بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، اور ان سے عزت سے بات کرو۔” (سورۃ الإسراء 17:23-24)
اسی طرح نبی کریم ﷺ نے والدین کی خدمت کو عظیم عبادت قرار دیا اور ان کی رضا کو اللہ کی رضا سے جوڑا۔
ایسا بھی نہیں کہ ہم اپنے بوڑھے والدیں کو اولڈ ہاوس نہیں بھیج سکتے۔ ہاں! اگر اولڈ ہاؤس میں بھیجنے کا مقصد ذمہ داری سے جان چھڑانا، والدین کو تنہا چھوڑ دینا یا ان سے بے رخی اختیار کرنا ہو، تو یہ اسلامی تعلیمات کےسرسر خلاف ہے۔لیکن اگر والدین شدید بیمار ہوں، انہیں چوبیس گھنٹے طبی نگہداشت درکار ہو، یا گھر میں وہ سہولت میسر نہ ہو تو اولڈ ہاوس میں رکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اولاد کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسلسل ان کی خبرگیری، ملاقات اور محبت کا حق ادا کرتی رہے۔ ایسی صورت میں کسی نگہداشتی مرکز سے فائدہ اٹھانا قابلِ قبول ہو سکتا ہے۔ بشرط یہ کہ ان کی عزت برقرار رہے۔ان کی جسمانی، ذہنی اور جذباتی ضروریات پوری ہوتی رہیں اور اولاد محبت اور خدمت کے تعلق کو قائم رکھے۔ تاہم اسلامی اور مشرقی خاندانی نظام کے تحت اگر یہ مقاصد گھر میں بہتر طریقے سے پورے ہو سکتے ہوں تو یہی بہتر ہے کہ والدین کی خود خدمت کی جائے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جہاں دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، سائنسی ترقی اور معلومات کے اژدہام نے زبان و ادب، ثقافت اور روزمرہ کے معمولات سے لے کر ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا ہے، وہیں ہماری روایات بھی اس کی زد میں ہیں۔ اس لیے اس قسم کے دیگر موضوعات پر گفتگو کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاہم ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہے کہ ہم مسلمان ہیں، اللّہ کو جواب دینا ہے اور ہم بھی بڑھاپے میں اس قسم مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔


