آہستہ بولو/ڈاکٹر اظہر وحید

با ادب سے بے ادب ہونے میں پہلا فرق آواز کا بلند ہونا ہے۔ بے ادب وہ نہیں جو ادب کرنا جانتا نہ ہو، بے ادب وہ ہے جو ادب کرنا ترک کر دے۔ گفتار میں آواز مدھم رکھنا آدابِ محفل بھی ہے اور آدابِ زیست بھی!
بلند آواز— سماعت ہی پر نہیں، دل پر بھی گراں گذرتی ہے— اور یہیں سے ادب سے محروم ہونے والا نصیب سے بھی محروم ہونے لگتا ہے۔ باادب ہونا دراصل خوش نصیب ہونا ہے۔ خوش نصیبی کسی خوش نصیب کی معیت حاصل ہونے کا نام ہے۔ جو معیت میں ہوتا ہے، اسے بھلا اپنی آواز بلند کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے!!
بڑی بھاری دلیل بھی آواز کے بلند ہونے پر اپنا وزن کھو دیتی ہے۔ اگر آپ جانتے ہیں تو یہ بتانا ضروری نہیں کہ آپ جانتے ہیں۔ جواب ہمیشہ سوال کرنے پر دیا جاتا ہے۔ جس کا کوئی سوال ہی نہیں، اسے آپ کے جوابات سے کیا دل چسپی ہو سکتی ہے؟
انسان کے علاوہ شاید ہی کوئی اور مخلوق ہے جو سرگوشی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جی ہاں! جانور اپنی آواز کو دھیما رکھنے کا اختیار نہیں رکھتے— اس لئے جتنے بھی بلند قامت ہوں، پست شمار ہوتے ہیں!! انسان اس لیے بھی انسان ہے کہ وہ خود پر اختیار رکھتا ہے۔ محبت کے علاوہ انسان اگر کہیں اور بے اختیار ہو جائے تو شرفِ انسانیت سے معزول کر دیا جاتا ہے۔ جسے محبت بے اختیار نہیں کرتی، اسے جبلت بے اختیار کردیتی ہے— اور جبلتوں کے جنگل میں رہنے والے جانورہوتے ہیں— ان کی چھاگل میں پانی نہیں ہوتا— دوسروں کیلئے!! گدھوں کا ہینکنا، گھوڑوں کا ہنہنانا، سانپوں کا پھنکارنا، بندروں کا خوخیانا، ہاتھیوں کا چنگھاڑنا، اور شیروں کا دھاڑنا— بالعموم ایک ہی والیوم پر ہوتے ہیں۔ یہ حضرتِ انسان ہے جو اپنی آواز کا قد قدرے کم کر سکتا ہے— اِس کی قدر اِسی میں ہے!!
آہستہ ہونا— شائستہ ہونا ہے۔ گفتار اور رفتار میں آہستہ روی ایک باوقار شخصیت کی نشانی ہوتی ہے۔ کردار اور اعتماد دونوں سے محروم شخص میانہ روی سے بھی محروم ہوتا ہے۔ تیز بولنا اتنا نقصان نہیں کرتا جتنا اونچی آواز میں بولنا۔ تیز بولنا صرف رابطوں کو کمزورکرتا ہے— لیکن اونچی آواز میں کلام کرنے والا خود کو ناپسندیدہِ جہاں بھی بنا لیتا ہے۔ دھیما مزاج رکھنے والا حادثے کا شکار نہیں ہوتا۔ حادثہ صرف وہی نہیں جو سڑک پر ہوتا ہے— اکثر حادثات تعلقات کی دنیا میں بھی رونما ہوتے ہیں — وہ سانحہ کہلاتے ہیں۔
اونچی آواز باالعموم کسی ردّ ِعمل کا مظاہرہ ہوتا ہے—. اور ردِّ عمل ایک ردّی عمل ہوتا ہے۔ کسی عمل میں مصروف انسان کے پاس ردِّ ِعمل میں بولنے کا مزاج ہوتا ہے، نہ فرصت ! بامعنی عمل وہ ہوتا ہے جو کسی ردّ عمل میں نہ ہو!! ردِّ عمل میں مبتلا شخص دراصل ابتلا میں ہوتا ہے۔
غصہ ایک بارُود ہے— اور اونچی آواز اس بارود کو آگ لگا دیتی ہے۔ گلا پھاڑتی ہوئی آواز کانوں کو بھی پھاڑتی ہے۔ غصہ ایک زہر ہے— اوراس کا تریاق خاموشی ہے!! دنیا میں کون ہے جسے غصہ نہیں آتا— مگر پکڑمیں وہی آتا ہے جو اونچی آواز میں اس کا اظہار کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ تہذیب کی عمارت کو تعمیر کرنے میں صدیوں اور نسلوں کی محنت درکار ہوتی ہے— غصے کا ایک ڈائنامایٹ اسے پل بھر میں زمیں بوس کر دیتا ہے۔ غصے کا اظہار بغیرآواز کے بھی ہو جاتا ہے— یہ ایسا پتھر ہے جو پہلے مزاج کے دائروں کو درہم برہم کرتا ہےاور پھر کسی کثیف کیفیت کی دلدل میں دھنس کرغائب ہو جاتا ہے۔ غصہ چہرے سے بھی عیاں ہو جاتا ہے۔ ہم پڑھ لکھ کر لکھنا پڑھنا بھول گئے—دوسروں کے چہروں پر لکھا ہوا کچھ بھی نہیں پڑھ پاتے — نہ سوالات، نہ لکیریں!! انسانوں کی بستی میں وہ شخص جاہل کہلاتا ہے جو جذبات کی زبان نہیں جانتا!! جو چہرے پڑھنا جانتا ہے، اسے اپنی آواز کو بلند نہیں کرنا پڑتا۔ اگر عورت کی آواز اور مرد کا ہاتھ بلند نہ ہو، تو گھروں میں سکون کا راج ہے! دست درازی کا تعلق زبان درازی سے ہوتا ہے۔ گھروں میں دھیمی آواز میں بولنے کا چلن عام ہو جائے تو ماحول خوشگوار ہو جائے۔ طبی اعتبار سے بھی سردرد کی ایک بنیادی وجہ اونچی آواز سننا ہے!! اونچا سننا….اونچا بولنے سے بہتر ہے۔ بعض آوازیں سمع خراش بھی ہوتی ہیں اور دِل خراش بھی!! دل کی آواز کبھی دلخراش نہیں ہوتی!!
مدھم آواز مدھر ہوتی ہے — موسیقی کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اونچی آواز شور کی ہم آواز ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ شور کی بجائے شعور کے قریب رہنا پسند کرتا ہے۔ شعور مترنم ہوتا ہے — شور بے ہنگم ہوتا ہے۔ اونچے سُر بھی اونچے نہیں ہوتے۔ مدھم اور مدھر آوازوں کو چھوڑ کر کرخت اور اونچی آوازوں کا راستہ اختیار کرنا انسانی شعور کا ایک سفرِ معکوس ہے— سفرِ معکوس غیر فطری راستوں پر ہوتا ہے!!
گفتگو میں آواز مدھم ہوتی ہے، جھگڑے میں آواز بلند ہوجاتی ہے۔ کسی جگہ دو اشخاص اونچی آواز میں بات کر رہے ہوں تو سننے والے کو شبہ پڑتا ہے کہ شاید جھگڑ رہے ہیں۔ محبت آواز سے کھرج چھین لیتی ہے۔ محبت کرنے والوں کی آوازیں لوچ اور دھیمے پن سے پہچانی جاتی ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ محبت کے بغیر انسان کو یہی نہیں معلوم ہوتا کہ وہ کس سے سننا چاہتا ہے اور کسے سنانا چاہتا ہے— وہ فرد کی بجائے مجمعے کو سنانا شروع کر دیتا ہے۔ آج کا خطیب اتنا لاؤڈ ہو گیا ہے کہ اسے لاؤڈ اسپیکر کی ضرورت پیش آنے لگی ہے۔ “دُور کی آواز” کو دُور تک پہنچانے کیلئے لاؤڈ اسپیکر کی نہیں، اخلاص کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل کبھی بھی دُور نہیں ہوتے۔ بس! ہم دلوں کی بجائے سماعتوں سے ٹکراتے رہتے ہیں، اس لیے لٹھ اور لاؤڈ اسپیکر کی ضروت محسوس کرتے ہیں۔ سماعتوں میں رس گھولنے والے کلمات دھیمے اور مدھر لہجے میں سنائے جاتے ہیں! اونچی آواز بالعموم کرخت آواز ہوتی ہے۔ طعن و تشنیع اور طنز زیرِ لب بھی ہو، تو آواز کے اونچا ہونے سے تعبیر کیے جائیں گے۔ اپنی آواز کو بلند کرنے کیلئے بلند آواز ہونا ضروری نہیں!
اونچی آواز میں بولنا یقیناً کوئی معاشرتی جرم ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں آوازوں کو قاعدہ سکھانے کا باقاعدہ اہتمام کیا گیا ہے۔ آواز اونچی ہو جائے تو قاعدے سے باہر ہو جاتی ہے۔ سورة لقمان میں فرمایا گیا کہ سب سے بُری آواز گدھے کی ہے، سورة مائدہ میں بتایا گیا کہ اللہ اونچی آواز کو پسند نہیں کرتا— اور جو بات اللہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا، اپنے حبیب ﷺکیلئے بھی پسند نہیں فرماتا۔ سورة الحجرات میں اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کے سامنے بلند آواز میں بات کرنے کی تعظیماً ہی نہیں حکماً بھی ممانعت کر دی— یہاں تک تنبیہ کر دی کہ ان ﷺ کے حضور بلند آواز نہ ہوجاؤ— اور یہ کہ اللہ کے نبیﷺ کو ایسے نہ پکارو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے سب اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں اس کا شعورتک نہ ہو— گویا شعورکا سلب ہونا جس جرم کی سزا ہے، وہ اللہ کے حبیبﷺ کے حضور اپنی آواز کو بلند کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺکے لائے ہوئے دین میں آئے دن اپنی من پسند تشریح و توضیع شامل کرنا— الہامی کلام میں ذہنی تفسیر کرنا بھی اللہ کے رسول ﷺ کے ادب کے باب میں تقدم تصور ہوگا— بعد میں آنے والوں کیلئے اونچی آواز میں بولنے کا ایک مفہوم یہ بھی ہے۔ اسی سورة میں اللہ کریم نے دلوں کا تقویٰ جانچنے کا معیار اپنے حبیبﷺ کے حضورادب سے منسلک کر دیا۔ یہاں تقوٰی کا ایک مفہوم تکریمِ نبیﷺ ہے! قلوب کا امتحان جس بارگاہِ ادب میں ہوتا ہے، وہ بارگاہِ نبویﷺہے!!
ادب گاہِیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر
نفَس گم کردہ می آید جنیدؒ وبایزیدؒ اینجا
(آسمان کے نیچے یہ ایسی ادب گاہ ہے جو عرش سے بھی زیادہ حساس ہے، یہاں تو جنیدؒ اور بایزیدؒ بھی اپنا سانس گم کر لیتے ہیں۔ )
حضرت جنید بغدادی ؒ راہِ سلوک کے سرخیل ہیں اور حضرت بایزید بسطامیؒ وادیِ جذب کے شہسوار ہیں۔ بارگاہِ نبویؐ میں جذب و سلوک دونوں بااَدب سرنگوں ہیں۔ گویا یہاں جذب بھی سانس روکے ہوئے ہے اور سلوک بھی اپنے پاس و انفاس سمیٹ کر خامو ش اور باادب کھڑا ہے۔ صاحب ِ حال مرشدی واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں:
آپﷺ کی ذاتِ گرامی ہر بلندی سے بلند
پست ہر آواز کا قد آپﷺکی آواز سے

اپنا تبصرہ لکھیں