علی اکبر ناطق کے ناول “کوفہ کے مسافر” پڑھنے کے بعد کا تاثر/یحییٰ تاثیر

علی اکبر ناطق کا ناول” کوفہ کے مسافر” واقعہ کربلا کو اپنی پوری تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے- حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد یزید کی تخت نشینی کے خلاف امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت کی بغاوت اور اس کے نتیجے میں امویوں، اہل مدینہ، اہل مکہ و کوفہ اور مضافات کا اہل بیت کے ساتھ سفاکانہ اور ظالمانہ رویہ اس ناول کا پورا منظر نامہ ہے- امام حسین علیہ السلام نے پیغمبر پاک صلی اللہ علیہ والہ سلام اور امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اہل بیت کے ہاتھوں اسلام پھیلانے کی ذمہ داری نبھانے کا بیڑا اٹھایا، یزید کی بیعت سے انکار کیا اور ایک سو انچاس افراد کے ساتھ آمادہ سفر ہوئے- مکہ میں کوئی ان کا ساتھ نہیں دیتا اس لیے مدینے کا رخ کرتے ہیں، وہاں بھی اہل بیت کے ساتھ غیروں کا رویہ اپنایا جاتا ہے اس لیے کوفہ کی طرف سے بیعت کے پروانے آنا شروع ہوجاتے ہیں- امام حسین علیہ السلام اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجتے ہیں لیکن وہاں یزید کے حواری عبید اللہ ابن زیاد، ابن سعد وغیرہ اسے شہید کردیتے ہیں اور یوں کوفے والوں کی نصرت بھی ظلم و جبر سے ختم کردی جاتی ہے(الکوفی لایوفی) جس کے بعد امام حسین اپنے لشکر سمیت عراق کی راہ لیتے ہیں اور نینوا میں میدان کربلا میں اپنے خیموں کی چوبیں نصب کردیتے ہیں-امام حسین علیہ السلام میدان کربلا کی مٹی سے اپنی مُٹھی بھر دیتے ہیں اور اپنے کمر بند کے دائیں طرف سے ایک تھیلی نکالتے ہوئے اس میں موجود مٹی سے کربلا کی مٹی کا موازنہ کرتے ہوئے اپنے عزیزوں سے کہتے ہیں ، “یہ خاک مجھے میرے نانا نے دی تھی اور کہا تھا یہ تیری قبر کی مٹی ہے، اسے سنبھال کر رکھو-” اس کے بعد امام حسین علیہ السلام کربلا کی سرزمین اس کے مالکان سے ساٹھ ہزار درہم پر خریدتے ہیں اور حضرت عباس علیہ السلام کے ہاتھوں اس کا ہبہ نامہ تیار کرواتے ہیں – جس کے بعد یزید شام سے ، کوفہ میں بیٹھے عبید اللہ ابن زیاد کی طرف احکامات بھیجتا ہے اور یوں عبید ابن زیاد، شمر اور ابن سعد کی طرف یزید کے خطوط قاصدوں کے ہاتھوں بھیجتا ہے اور یوں تمام اہل بیت انتہائی ظلم و جبر کے ساتھ شہید کردیے جاتے ہیں- بہ قول عباس تابؔش :
ہمارا سلسلہ طائف سے نینوا تک ہے
وہ کربلائے محمد(ص) یہ کربلائے حسین

علی اکبر ناطق کا ناول “کوفہ کے مسافر” اردو کے اُن تاریخی ناولوں میں شمار ہوتا ہے جن میں تاریخ، ادب، جذبات اور منظر نگاری ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے ہیں کہ قاری خود کو واقعات کا عینی شاہد محسوس کرنے لگتا ہے- ناول کا بنیادی موضوع واقعہ کربلا ہے، لیکن مصنف نے اسے محض ایک تاریخی سانحے کے طور پر بیان نہیں کیا بل کہ ایک ایسی انسانی، اخلاقی اور تہذیبی واقعے کے طور پر پیش کیا ہے جس میں حق و باطل کی کشمکش اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
ناول میں اہلِ بیت اور خاندانِ ابوطالب کی شجاعت، وفاداری، ایثار اور حق پرستی کو نہایت مؤثر اور جذباتی انداز میں پیش کیا گیا ہے- حضرت امام حسین علیہ السلام ، حضرت عباس علم دار علیہ السلام ، مسلم بن عقیل علیہ السلام ، حضرت علی اکبر علیہ السلام اور دیگر جان نثاروں کے کردار قاری کے دل میں احترام، محبت اور عقیدت پیدا کرتے ہیں- ان کی قربانیوں اور استقامت کو اس خوبی سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو کربلا کے میدان میں موجود محسوس کرتا ہے-
اس کے برعکس یزید، عبید اللہ ابن زیاد، شمر اور ابن سعد جیسے کردار ظلم، جبر، اقتدار پرستی اور سیاسی مکاری کی علامت بن کر سامنے آتے ہیں۔ مصنف نے ان کرداروں کی نفسیات اور سیاسی چالوں کو اس انداز میں بے نقاب کیا ہے کہ حق اور باطل کے درمیان ایک واضح اخلاقی خطِ امتیاز قائم ہو جاتا ہے-
تاہم ناول کی سب سے بڑی فنی اور ادبی خصوصیت اس کی حیرت انگیز منظر نگاری اور جغرافیائی شعور ہے- علی اکبر ناطق نے مدینہ منورہ کے محلوں، گلیوں، باغات اور مضافاتی علاقوں کو جس باریکی اور محبت سے بیان کیا ہے، وہ قاری کے ذہن میں ایک مکمل نقشہ کھینچ دیتا ہے- اسی طرح مکہ مکرمہ کے جغرافیے، اس کے گرد و نواح کے پہاڑوں، راستوں اور آبادیوں کی تصویریں اس قدر واضح ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے ان مقامات کو اپنی آنکھوں میں اتار دیا ہے-
کوفہ اور عراق کے مختلف علاقوں کی منظر نگاری بھی ناول کا ایک اہم فنی کارنامہ ہے۔ کوفہ کی گلیاں، بازار، قبائلی بستیاں، سیاسی مراکز اور عوامی ماحول نہ صرف تاریخی صداقت کے ساتھ سامنے آتے ہیں بل کہ ان میں ایک زندہ تہذیب کی دھڑکن بھی سنائی دیتی ہے۔ عراق کی سرزمین، اس کے بیابان، دریا، نخلستان اور دور دراز آبادیاں ناول میں محض پس منظر نہیں بل کہ خود ایک کردار کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں-
خصوصاً حضرت امام حسین علیہ السلام کے مدینہ سے مکہ اور پھر مکہ سے کربلا تک کے سفر کی منظر کشی ناول کا شاہکار حصہ ہے۔ راستے میں آنے والی منزلوں، پڑاؤوں، کنوؤں، وادیوں، پہاڑی راستوں اور صحرائی مناظر کو مصنف نے اس مہارت سے قلم بند کیا ہے کہ قاری صرف واقعات نہیں پڑھتا بل کہ اس سفر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا اور اپنے دل سے محسوس کرتا ہے – ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مصور نے رنگوں کے بجائے الفاظ کے ذریعے ایک طویل تاریخی سفرنامہ تخلیق کر دیا ہو۔ ہر مقام اپنی الگ فضا، رنگ، مزاج اور تاریخی معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے-
ادبی اعتبار سے ناول کی زبان سادہ، رواں اور دل نشین ہے۔ مکالمے فطری ہیں اور کردار اپنی اپنی تاریخی اور نفسیاتی حیثیت کے مطابق گفتگو کرتے ہیں۔ منظر نگاری، کردار نگاری اور واقعاتی تسلسل کے امتزاج نے ناول کو محض ایک تاریخی بیان کے بجائے ایک مکمل ادبی تجربہ بنا دیا ہے-
تنقیدی نقطۂ نظر سے یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ کوفہ کے مسافر ایک تاریخی ناول ہے، مستند تاریخ کی کتاب نہیں۔ اس لیے بعض مقامات پر ادبی حسن اور جذباتی تاثیر کو بڑھانے کے لیے واقعات اور کرداروں کی پیشکش میں تخلیقی رنگ نمایاں ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ناول کو تاریخ کے بجائے تاریخی ادب کے تناظر میں پڑھنا زیادہ مناسب ہے-
مجموعی طور پر کوفہ کے مسافر اردو ادب کا ایک اہم تاریخی ناول ہے جس نے واقعہ کربلا کو نہ صرف جذباتی اور فکری گہرائی کے ساتھ پیش کیا ہے بل کہ قدیم عرب کے شہروں، راستوں اور صحراؤں کے جغرافیے کو بھی ایسی فنی مہارت سے زندہ کر دیا ہے کہ قاری تاریخ کو صرف پڑھتا نہیں بل کہ اس کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ یہی خصوصیت اس ناول کو دیگر تاریخی ناولوں سے ممتاز بناتی ہے- بہ قول مولانا محمد علی جوہر :
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

اپنا تبصرہ لکھیں