کیا نیا یکساں ٹائم ٹیبل واقعی تعلیمی بہتری لائے گا؟ ایک تنقیدی جائزہ /اے وسیم خٹک

محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کی جانب سے صوبے بھر کے سرکاری اسکولوں کے لیے یکساں ٹائم ٹیبل کا نفاذ بظاہر ایک مثبت قدم دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر اس فیصلے کا موازنہ جاپان، فن لینڈ، کینیڈا اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کے تعلیمی نظام سے کیا جائے تو کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔

ہمارے ہاں تعلیمی اصلاحات اکثر کاغذوں میں بہت خوبصورت نظر آتی ہیں، مگر اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہوتا ہے۔ جاپان میں کامیابی کی وجہ صرف ٹائم ٹیبل یا اضافی سرگرمیاں نہیں بلکہ ایک مضبوط تعلیمی ثقافت، تربیت یافتہ اساتذہ، جدید سہولیات اور جوابدہی کا مؤثر نظام ہے۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے ہزاروں سرکاری اسکول آج بھی اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کے فقدان اور غیر فعال نگرانی جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

نئے ٹائم ٹیبل میں آٹھویں پیریڈ کو مختلف سوسائٹیز کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک جدید تصور ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے اسکولوں میں ان سرگرمیوں کو مؤثر انداز میں چلانے کے لیے مطلوبہ وسائل موجود ہیں؟ بہت سے اسکولوں میں سائنس لیبارٹریاں، لائبریریاں اور کھیل کے میدان تک دستیاب نہیں۔ ایسے حالات میں “سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سوسائٹی” یا “ادبی و مباحثہ سوسائٹی” محض رجسٹروں تک محدود رہنے کا خطرہ رکھتی ہیں۔

جاپان اور فن لینڈ میں ہم نصابی سرگرمیاں اس لیے کامیاب ہیں کیونکہ وہاں طلبہ پر غیر ضروری نصابی دباؤ نہیں ہوتا۔ جبکہ ہمارے طلبہ پہلے ہی بھاری نصاب، امتحانات اور ہوم ورک کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایک اضافی پیریڈ بعض طلبہ اور اساتذہ کے لیے مزید بوجھ بن سکتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ دنیا کے بہترین تعلیمی نظام یکسانیت سے زیادہ لچک (Flexibility) کو اہمیت دیتے ہیں۔ فن لینڈ میں اسکولوں کو مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ جبکہ خیبر پختونخوا میں ایک ہی ٹائم ٹیبل کو پہاڑی، دیہی، شہری اور دور دراز علاقوں کے تمام اسکولوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جا رہا ہے، حالانکہ ہر علاقے کے مسائل اور ضروریات مختلف ہیں۔

کمیونٹی سروس، سیرت اور ادبی سرگرمیوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر کلاس روم میں بنیادی تعلیم کا معیار بہتر نہ ہو تو ایسی سرگرمیاں اپنی اصل افادیت کھو دیتی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک نے پہلے تدریسی معیار، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا، پھر ہم نصابی سرگرمیوں کو وسعت دی۔ ہمارے ہاں اکثر ترتیب الٹ نظر آتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کا معیار صرف ٹائم ٹیبل بدلنے سے بہتر نہیں ہوتا۔ اگر اسکول میں استاد موجود نہ ہو، کلاس روم ناکافی ہوں، بجلی اور پانی کی سہولت نہ ہو اور نگرانی کا نظام کمزور ہو تو بہترین شیڈول بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔

لہٰذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نیا ٹائم ٹیبل خیبر پختونخوا کے تعلیمی نظام کو جاپان یا فن لینڈ کے معیار کے قریب لے جائے گا۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بنیادی مسائل کے حل، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور مؤثر عملدرآمد پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی نئے شیڈول کے اعلان پر دی گئی ہے۔

تعلیم میں حقیقی انقلاب نئے پیریڈز سے نہیں، بلکہ بہتر اساتذہ، بہتر ماحول اور بہتر عملدرآمد سے آتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں