کیا ادب پڑھنا ضروری ہے؟- محمد عامر حسینی

میں یہ نہیں کہوں گا کہ ادب پڑھنا ضروری ہے۔

جس طرح میں یہ بھی نہیں کہتا کہ خواب دیکھنا ضروری ہے۔

آپ خواب دیکھے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے، لیکن آپ خوابوں کو یاد کیے بغیر پوری زندگی گزار سکتے ہیں۔

اسی طرح آپ ادب پڑھے بغیر بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔

آپ تجارت کرسکتے ہیں، سیاست کرسکتے ہیں، عبادت کرسکتے ہیں، خاندان بناسکتے ہیں، دولت جمع کرسکتے ہیں، شہرت حاصل کرسکتے ہیں۔

لیکن ایک سوال باقی رہ جائے گا:

کیا آپ نے اپنی روح کو جانا؟

انسان صرف گوشت پوست کا بنا ہوا وجود نہیں ہے۔ اس کے اندر ایک اور آدمی رہتا ہے، ایک سایہ، ایک گم شدہ مسافر، ایک زخمی بچہ، ایک بوڑھا دانا، ایک دیوی، ایک ہیرو، ایک باغی، ایک عاشق۔

اکثر لوگ پوری زندگی اس اندرونی آدمی سے ملے بغیر مر جاتے ہیں۔

ادب ان ملاقاتوں کی سرزمین ہے۔

ایک عظیم ناول دراصل کسی مصنف کی ایجاد نہیں ہوتا۔ وہ اجتماعی لاشعور کی تاریک غاروں سے ابھرنے والی ایک آواز ہوتا ہے۔

ہر عہد اپنے اسطورے تخلیق کرتا ہے۔

ہر تہذیب اپنے خواب دیکھتی ہے۔

ہر قوم اپنے خوف کو دیوتاؤں، شیاطین، شہزادوں، شہیدوں اور عاشقوں کے چہروں میں مجسم کرتی ہے۔

ادب ان خوابوں کا ریکارڈ ہے۔

آج کے برصغیر کو دیکھیے۔

پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے شہروں میں ایک عجیب ہجوم پیدا ہو گیا ہے۔

یہ ہجوم پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ ہے لیکن شاید پہلے سے کم آگاہ۔

اس کے پاس معلومات ہیں مگر حکمت نہیں۔

اس کے پاس رائے ہے مگر خود شناسی نہیں۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو ہر سوال کا جواب ماضی میں تلاش کرتے ہیں۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو ہر سوال کا جواب مارکیٹ، ٹیکنالوجی اور انفرادی آزادی میں ڈھونڈتے ہیں۔

دونوں گروہ ایک دوسرے کے دشمن دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن نفسیاتی سطح پر دونوں ایک ہی بیماری میں مبتلا ہیں۔

دونوں اپنے سائے سے فرار چاہتے ہیں۔

بنیاد پرست اپنے اندر کے شک سے خوفزدہ ہے۔

انتہا پسند ملحد اپنے اندر کے تقدس سے خوفزدہ ہے۔

دونوں اپنے اندر موجود نامعلوم سے بھاگ رہے ہیں۔

ادب اس فرار کو روک دیتا ہے۔

ایک اچھی نظم، ایک عظیم افسانہ، ایک بڑا ناول آپ کو اچانک اپنے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔

وہ آپ کو بتاتا ہے کہ جس دشمن سے آپ نفرت کرتے ہیں، اس کا ایک ٹکڑا آپ کے اندر بھی موجود ہے۔

جس مظلوم کو آپ بھول چکے ہیں، اس کی چیخ آپ کے اندر بھی گونج رہی ہے۔

جس تاریکی کو آپ دوسروں میں دیکھتے ہیں، اس کا سایہ آپ کی اپنی روح پر بھی پڑا ہوا ہے۔

اسی لیے ہر آمر ادب سے خوفزدہ رہتا ہے۔

ہر جامد عقیدہ ادب سے خوفزدہ رہتا ہے۔

ہر مطلق نظریہ ادب سے خوفزدہ رہتا ہے۔

کیونکہ ادب انسان کو جواب نہیں دیتا۔

ادب انسان کو سوال بنا دیتا ہے۔

اور جو آدمی سوال بن جائے، اسے غلام بنانا مشکل ہو جاتا ہے۔

اس لیے ادب پڑھنا ضروری نہیں۔

ضروری صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے اندر اترنا چاہتے ہیں۔

جو اپنے خوابوں کی زبان سمجھنا چاہتے ہیں۔

جو اپنے سائے سے مصافحہ کرنا چاہتے ہیں۔

جو انسانوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے بھی انسان بنے رہنا چاہتے ہیں۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ جب کوئی تہذیب اپنے شاعروں، قصہ گوؤں اور ناول نگاروں کو بھولنے لگتی ہے تو درحقیقت وہ اپنی اجتماعی روح کو فراموش کرنے لگتی ہے۔

اور روح کی فراموشی سے بڑی کوئی تباہی نہیں۔
لیکن یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔

اگر ادب صرف تخیل، آزادی اور سوال اٹھانے کا نام ہے تو پھر ہم ان کتابوں اور متون کے بارے میں کیا کہیں جنہیں بعض لوگ آزادیِ اظہار کی معراج قرار دیتے ہیں اور بعض لوگ انہیں کروڑوں انسانوں کی روحانی دنیا کی تذلیل سمجھتے ہیں؟

مثال کے طور پر The Satanic Verses یا لجا۔

ایک طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ادیب کو ہر مقدس شے کو پامال کرنے، ہر عقیدے کا مذاق اڑانے اور ہر حساسیت کو مجروح کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔ ان کے نزدیک ادب کی سب سے بڑی فضیلت اشتعال انگیزی ہے۔

دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ایسے مصنفین کو قتل کر دینا چاہیے، جلا وطن کر دینا چاہیے، کتابوں پر پابندی لگا دینی چاہیے یا ان کے قارئین کو خاموش کرا دینا چاہیے۔

نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ دونوں رویے ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک ہی مرض کی دو مختلف علامات ہیں۔

پہلا رویہ اپنے آپ کو روشنی سمجھتا ہے اور دوسروں کو تاریکی۔

دوسرا رویہ اپنے آپ کو حق سمجھتا ہے اور دوسروں کو باطل۔

دونوں صورتوں میں ایک چیز مشترک ہے:

انسان اپنے سائے کو دوسروں پر منتقل کر دیتا ہے۔

جو شخص ہر مقدس شے کو محض توڑنے کے لیے توڑتا ہے، وہ اکثر اپنے اندر موجود کسی زخمی مذہبی تجربے، کسی دبے ہوئے غصے یا کسی نامکمل بغاوت کا اسیر ہوتا ہے۔

اور جو شخص کتاب کے جواب میں قتل کا مطالبہ کرتا ہے، وہ بھی اکثر اپنے اندر کے خوف، عدم تحفظ اور شک کو دوسروں کے خون سے دفن کرنا چاہتا ہے۔

دونوں اپنے سائے سے فرار اختیار کرتے ہیں۔

ایک تمسخر کے ذریعے۔

دوسرا تشدد کے ذریعے۔

مگر ادب کا راستہ نہ تمسخر ہے اور نہ تشدد۔

ادب کا راستہ مکالمہ ہے۔

ادب کا راستہ فہم ہے۔

ادب کا راستہ یہ نہیں کہ میں دوسرے کی مقدس دنیا کو نیست و نابود کر دوں۔

اور نہ ہی یہ کہ میں اپنی مقدس دنیا کے دفاع میں دوسرے انسان کو نیست و نابود کر دوں۔

ادب کا راستہ یہ ہے کہ میں یہ جاننے کی کوشش کروں کہ میرے مخالف کی روح میں کون سا خوف، کون سا خواب اور کون سا زخم بول رہا ہے۔

ایک عظیم ناول اپنے کرداروں کو قتل نہیں کرتا۔

وہ ان کی سماعت کرتا ہے۔

ایک عظیم شاعر اپنے مخالف کو خاموش نہیں کرتا۔

وہ اس کے درد کی گونج سننے کی کوشش کرتا ہے۔

اسی لیے ادب کی اعلیٰ ترین شکل عدالت نہیں ہوتی جہاں فیصلے سنائے جائیں۔

وہ ایک آئینہ خانہ ہوتی ہے جہاں انسان اپنی اور دوسروں کی صورتوں کو پہچاننے لگتا ہے۔

جب میں صرف آزادیِ اظہار کا نعرہ لگاتا ہوں اور انسانی دلوں کی پیچیدگی کو فراموش کر دیتا ہوں تو ادب پروپیگنڈا بن جاتا ہے۔

جب میں صرف تقدس کے دفاع کا نعرہ لگاتا ہوں اور انسانی آزادی کو فراموش کر دیتا ہوں تو مذہب پولیس بن جاتا ہے۔

ان دونوں کے درمیان ایک تیسرا راستہ موجود ہے۔

یہ راستہ نہ سلمان رشدی کو شیطان سمجھتا ہے اور نہ اسے پیغمبرِ آزادی۔

یہ راستہ نہ مشتعل ہجوم کی تائید کرتا ہے اور نہ ثقافتی اشرافیہ کے تکبر کی۔

یہ راستہ سوال کرتا ہے:

یہ متن کیوں لکھا گیا؟

اس میں کون سا اجتماعی زخم بول رہا ہے؟

اس پر اتنا شدید ردعمل کیوں پیدا ہوا؟

کون سا سایہ ہے جو دونوں فریق ایک دوسرے پر پھینک رہے ہیں؟

ادب کا اصل کام یہی ہے۔

وہ ہمیں دوسروں کے خلاف ہتھیار نہیں دیتا۔

وہ ہمیں اپنے خلاف ایک آئینہ دیتا ہے۔

اور شاید انسان کی روح کے لیے سب سے مشکل کام یہی ہے کہ وہ دشمن کے چہرے میں اپنے ہی سائے کی جھلک دیکھ لے۔

جس دن یہ ہو جائے، اس دن کتابیں جلانا بھی بے معنی ہو جائے گا اور کتابوں کے ذریعے دوسروں کی تذلیل کرنا بھی۔

کیونکہ اس دن ادب نظریاتی جنگ کا میدان نہیں رہے گا بلکہ خود شناسی کی ایک دشوار مگر روشن راہ بن جائے گا۔

لیکن شاید مسئلہ ابھی اس سے بھی زیادہ گہرا ہے۔

جب ہم سلمان رشدی یا تسلیمہ نسرین جیسے تنازعات پر گفتگو کرتے ہیں تو اکثر یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اصل لڑائی “آزادی” اور “مذہب” کے درمیان ہے۔

حالانکہ نفسیاتی اور سماجی سطح پر یہ تنازعہ اکثر کسی اور چیز کو چھپا رہا ہوتا ہے۔

وہ چیز ہے:

خاموش انسان۔

وہ انسان جو نہ سلمان رشدی ہے، نہ کوئی مفتی، نہ کوئی دانش ور، نہ کوئی ٹی وی اینکر، نہ کوئی سوشل میڈیا جنگجو۔

وہ کسان جو قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔

وہ فیکٹری مزدور جس کی محنت دوسروں کی دولت میں بدل جاتی ہے۔

وہ گارمنٹ ورکر جو ڈھاکہ، کراچی یا دہلی کے مضافات میں بارہ بارہ گھنٹے کام کرتی ہے۔

وہ دلت، آدیواسی، بلوچ، سندھی، کشمیری، ہزارہ، یا وہ بے شمار عورتیں اور اقلیتیں جن کی زندگیوں کا دکھ کسی ٹی وی مباحثے کا موضوع نہیں بنتا۔

مجھے اکثر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جدید سماجوں میں “اجتماعی سایہ” صرف فرد کے اندر نہیں رہتا، وہ پورے سماج کے ڈھانچے میں منتقل ہو جاتا ہے۔

ہم اپنے اندر کے خوف کو کسی مصنف پر پھینک دیتے ہیں۔

ہم اپنے اندر کی بے یقینی کو کسی مذہبی گروہ پر منتقل کر دیتے ہیں۔

ہم اپنی شکستوں کا الزام کسی اقلیت یا کسی نظریے پر رکھ دیتے ہیں۔

لیکن ہم شاذ ہی اس معاشی اور سیاسی ساخت کو دیکھتے ہیں جو ہماری زندگیوں کو تشکیل دے رہی ہوتی ہے۔

اسی لیے جدید برصغیر میں ایک عجیب تماشا برپا ہے۔

ایک طرف بنیاد پرست ہجوم ہے جو کتاب سے زیادہ مصنف کو سزا دینا چاہتا ہے۔

دوسری طرف ثقافتی اشرافیہ کا ایک حصہ ہے جو عوام سے زیادہ اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہے۔

ایک طرف مقدس کے نام پر غصہ ہے۔

دوسری طرف آزادی کے نام پر تکبر۔

اور ان دونوں کے درمیان وہ کروڑوں انسان گم ہو جاتے ہیں جن کی زندگی اصل مسئلہ ہے۔

ژونگ شاید کہتا کہ یہ سب اجتماعی سایے کی علامات ہیں۔

لیکن میں سمجھتا ہوں کہ آج اس تشخیص میں ایک اور جہت کا اضافہ ضروری ہے۔

کیونکہ سایہ صرف نفسیاتی نہیں ہوتا۔

اس کا ایک سماجی وجود بھی ہوتا ہے۔

ایک ایسا سایہ جو طبقاتی طاقت، ریاستی جبر، معاشی استحصال اور ثقافتی اجارہ داری سے تشکیل پاتا ہے۔

سرمایہ داری کی موجودہ دنیا میں انسان کو صرف صارف بننے کی تعلیم دی جاتی ہے۔

اگر وہ مذہبی ہے تو اسے مذہب بھی بطور صارف دیا جاتا ہے۔

اگر وہ لامذہبی ہے تو الحاد بھی بطور صارف دیا جاتا ہے۔

اگر وہ باغی ہے تو بغاوت بھی بطور صارف اسے فروخت کی جاتی ہے۔

اور اگر وہ انقلابی ہے تو انقلاب بھی ایک فیشن بن جاتا ہے۔

چنانچہ انسان اپنی روح سے دور ہوتا جاتا ہے۔

اسی لیے آج ادب کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ کسی کتاب پر پابندی لگنی چاہیے یا نہیں۔

اور نہ ہی یہ کہ کوئی مصنف کتنا گستاخ یا کتنا بہادر ہے۔

اصل سوال یہ ہے:

کون بول رہا ہے؟

اور کون خاموش کر دیا گیا ہے؟

کون تاریخ لکھ رہا ہے؟

اور کون تاریخ کے حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے؟

کون مقدس قرار پایا ہے؟

اور کس کے زخم کو کبھی تقدس حاصل نہیں ہوا؟

میرے نزدیک عظیم ادب وہ نہیں جو صرف مقدسات کو توڑ دے۔

اور نہ ہی وہ جو مقدسات کے گرد پولیس کا پہرہ بٹھا دے۔

عظیم ادب وہ ہے جو خاموش انسان کو زبان دے۔

جو ہمیں اپنے دشمن کے چہرے میں انسان دکھائے۔

جو ہمیں اپنے عقیدے کے اندر موجود ظلم کو بھی دیکھنے دے اور اپنے نظریے کے اندر موجود تکبر کو بھی۔

جو ہمیں یہ احساس دلائے کہ سایہ ہمیشہ دوسرے کے اندر نہیں رہتا۔

وہ ہمارے اندر بھی رہتا ہے۔

اور شاید ادب کی سب سے بڑی اخلاقی ذمہ داری یہی ہے۔

وہ انسان کو اپنے سائے سے ملواتا ہے، لیکن وہاں اسے تنہا نہیں چھوڑتا۔

وہ اسے یہ بھی دکھاتا ہے کہ اس کے ذاتی سائے اور سماج کے اجتماعی سائے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔

چنانچہ خود شناسی صرف نفسیاتی عمل نہیں رہتی۔

وہ سماجی شعور میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں ادب محض تفریح، محض اشتعال انگیزی، محض تبلیغ یا محض نظریاتی جنگ نہیں رہتا۔

وہ انسانی آزادی کا ایک گہرا اور مشکل سفر بن جاتا ہے۔

ایسا سفر جس میں ہم نہ کتابیں جلاتے ہیں، نہ انسان۔

بلکہ اپنے وہم، اپنے تعصب، اپنے خوف اور اپنے تکبر کو شناخت کرنا سیکھتے ہیں۔

اور شاید یہی وہ واحد راستہ ہے جس پر چل کر انسان اپنے سائے سے گزر کر اپنے آپ تک پہنچ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں