پی ایچ ڈی اسکالرز اور ایم بی بی ایس ڈاکٹرز: انا کی مشترکہ کہانی/ اے وسیم خٹک

میں نے اپنی زندگی کا ایک طویل عرصہ پی ایچ ڈی اسکالرز اور اساتذہ کے ساتھ کام کرتے گزارا، اور اب گزشتہ کچھ عرصے سے طبی شعبے کے ڈاکٹروں کے ساتھ منسلک ہوں۔ ان دونوں شعبوں کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کے بعد ایک نکتہ حیران کن حد تک مشترک نظر آیا: دونوں طبقے خود کو “ملک کا کریم” یعنی معاشرے کی چوٹی کا طبقہ سمجھتے ہیں، اور دونوں میں رعونت اور بڑائی کا احساس معمول کی بات ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ یہ رویہ محض ذاتی زندگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اداروں کے اندر بھی نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں اکثرپی ایچ ڈی ہولڈرز اکثر تدریس اور تحقیق سے زیادہ اندرونی سیاست، عہدوں کی رسہ کشی اور گروہ بندیوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ہسپتالوں میں بھی بعض ڈاکٹر حضرات اپنی توانائی مریضوں کی بہتری کے بجائے محکمانہ سیاست، عہدوں کے حصول اور اثر و رسوخ بڑھانے میں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نہ طالب علموں کو وہ رہنمائی میسر آتی ہے جس کے وہ حقدار ہیں، اور نہ مریضوں کو وہ توجہ ملتی ہے جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔ یہ رویہ اکثر اپنی انا کی تسکین اور دوسروں پر برتری جتانے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

مغرب میں صورتحال اس سے کافی مختلف ہے۔ وہاں اب یہ تصور بہت حد تک بدل چکا ہے کہ صرف پی ایچ ڈی یا میڈیکل ڈگری رکھنے والا شخص کسی خاص “طاقت” یا امتیازی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دونوں شعبوں میں تعلیم مکمل کرنا واقعی مشکل اور محنت طلب کام ہے، لیکن اب مغربی معاشروں میں محض ڈگری کا حصول کسی کو خودکار طور پر معاشرتی سربلندی نہیں دیتا۔

اس کے برعکس، بہت سی یونیورسٹیاں اب تعلیم کو ایک منافع بخش کاروبار کے طور پر دیکھنے لگی ہیں، جہاں مناسب فیس ادا کرنے پر ڈگریاں حاصل کرنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔ جب ڈگری کا حصول محض مالی لین دین کا معاملہ بن جائے تو اس ڈگری سے جڑی عزت اور وقار بھی خود بخود کم ہونے لگتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں شعبوں سے وابستہ افراد اپنی صلاحیتوں کو ذاتی برتری جتانے کے بجائے اداروں کی بہتری، طالب علموں کی تربیت اور مریضوں کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔ علم اور مہارت کا اصل مقصد معاشرے کی خدمت ہے، نہ کہ خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرنا۔ جب تک یہ سوچ تبدیل نہیں ہوتی، دونوں شعبے اپنی اصل روح اور مقصد سے دور ہی رہیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں