دفاعی معاہدے: ہم کس کے کام آئے، ہمارے کام کون آیا؟- محمد امین اسد

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں دفاعی معاہدے ہمیشہ ایسے بڑے اور باوقار الفاظ کے ساتھ ہمارے سامنے آئے ہیں جیسے دستخط ہوتے ہی سرحدوں کے گرد آہنی دیوار کھڑی ہوگئی ہو۔ اجتماعی سلامتی، باہمی دفاع، دفاعی شراکت اور برادرانہ تعاون جیسے الفاظ سن کر قوم کو لگتا ہے کہ اب دشمن نے ادھر آنکھ اٹھائی تو دوست ادھر توپ اٹھالیں گے۔ مگر ہماری تاریخ ذرا مختلف رہی ہے۔ معاہدوں میں ہمارے ساتھ کئی ملک کھڑے ہوتے ہیں، گروپ فوٹو میں کندھے سے کندھا ملا ہوتا ہے، مگر جنگ چھڑ جائے تو صف کچھ مختصر ہوجاتی ہے اور آخر میں اپنا ہی سپاہی سامنے رہ جاتا ہے۔

1954 میں پاکستان امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون میں داخل ہوا، پھر سیٹو اور 1955 میں بغداد پیکٹ، بعد میں سینٹو، کا رکن بنا۔ ہمارے حکمران غالباً سمجھتے تھے کہ مغرب نے ہمیں اپنی دفاعی چھتری تلے لے لیا ہے، مگر چھتری کا رخ ماسکو کی طرف تھا اور ہماری نظریں دہلی پر۔ امریکہ پاکستان کو کمیونزم کے خلاف مورچہ سمجھتا تھا، ہم امریکہ کو بھارت کے خلاف ڈھال۔ ایک ہی کاغذ پر دونوں کے دستخط تھے مگر مطلوبہ دشمن الگ الگ۔ ہم اسے مستقل رشتہ سمجھ بیٹھے، دوسری طرف اسے ضرورت کا بندوبست سمجھا گیا۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسے رشتے خاصے کامیاب رہتے ہیں جن میں دونوں فریق ایک دوسرے سے مختلف چیز کی توقع رکھتے ہوں، بس مسئلہ اس دن پیدا ہوتا ہے جب توقع پوری کرنے کا وقت آجائے۔

1965 کی جنگ نے یہی باریک نکتہ سمجھا دیا۔ نہ سیٹو کے لشکر واہگہ پہنچے، نہ سینٹو کے طیارے لاہور کی فضاؤں میں آئے، بلکہ امریکہ نے پاکستان اور بھارت دونوں کے لیے اسلحے کی فراہمی روک دی۔ یعنی جس وقت اتحادی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، اسی وقت دکان کا شٹر نیچے ہوگیا۔ 1971 میں سبق مزید مہنگا پڑا۔ امریکہ پاکستان کے قریب ضرور تھا مگر بھارت کے خلاف براہ راست جنگ میں نہ اترا۔ “ساتواں بحری بیڑہ” ہماری سیاسی یادداشت میں آج تک تیر رہا ہے، البتہ پاکستان کا مشرقی حصہ اس کے پہنچنے سے پہلے تاریخ بن چکا تھا۔ تب سمجھ آنا چاہیے تھا کہ عالمی تعلقات احسان پر نہیں، مفاد پر چلتے ہیں اور پرانی قربانیوں کی رسید دکھانے سے نئی جنگ میں مدد لازماً نہیں ملتی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم نے دوسروں سے جس قدر دفاع مانگا، بعض مواقع پر دوسروں کے دفاع میں اس سے کہیں زیادہ عملی کردار ادا کیا۔ سعودی عرب اس کی نمایاں مثال ہے۔ پاکستانی افواج کئی دہائیوں سے سعودی افواج کی تربیت، مشورے اور دفاعی تعاون میں شریک رہی ہیں اور مختلف ادوار میں پاکستانی فوجی سعودی سرزمین پر تعینات بھی رہے۔ یعنی برادرانہ تعلقات صرف مشترکہ بیان، گرمجوش مصافحے اور سرکاری عشائیے تک محدود نہیں رہے، پاکستانی سپاہی واقعی سعودی دفاعی انتظام کا حصہ بنتا رہا ہے۔ اس لیے یہ تعلق یکسر نیا نہیں، نیا صرف یہ ہے کہ پرانے تعلق کو اب زیادہ واضح دفاعی زبان اور باقاعدہ معاہدوں میں ڈھالا جارہا ہے۔

17 ستمبر 2025 کو پاکستان اور سعودی عرب نے باہمی دفاعی معاہدہ کیا جس کا بنیادی اصول یہ تھا کہ ایک ملک پر جارحیت دونوں کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔ اب 7 اگست 2026 کو مکہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے سہ فریقی دفاعی بندوبست نے اسی تصور کو تین ملکوں تک پھیلا دیا ہے۔ جملہ یقیناً پُرکشش ہے: “ایک پر حملہ سب پر حملہ”۔ مگر ہماری تاریخ کان میں آہستہ سے کہتی ہے کہ بھائی، نعرہ بہت اچھا ہے، ذرا “شرائط” بھی پڑھ لینا۔ دفاعی معاہدوں میں اصل چیز وہ جملہ نہیں جو پریس کانفرنس میں پڑھا جاتا ہے بلکہ وہ “شق” ہوتی ہے جسے جنگ کے پہلے دن فائل سے نکال کر دیکھا جاتا ہے۔

البتہ اس معاہدے میں تینوں ملکوں کا “فائدہ” ایک جیسا نہیں ہوگا۔ پاکستان کے لیے ممکنہ فائدہ شاید نسبتاً زیادہ “عملی” اور “معاشی” ہو۔ ہمارے پاس ایک بڑی، تجربہ کار اور پیشہ ور فوج، تربیتی صلاحیت، دفاعی صنعت اور جنگی تجربہ موجود ہے۔ اگر اس معاہدے کے نتیجے میں سعودی عرب میں تربیت، دفاعی مشاورت، تکنیکی تعاون، مشترکہ دفاعی پیداوار یا کسی درجے کی اضافی فوجی تعیناتی بڑھتی ہے تو پاکستان اپنی “فوجی مہارت” کو “معاشی قدر” میں بھی بدل سکتا ہے۔ “سعودی سرمایہ” پاکستانی دفاعی صنعت اور مشترکہ منصوبوں میں آئے تو زرِمبادلہ اور سرمایہ کاری کا راستہ بھی کھل سکتا ہے۔ البتہ ابھی کسی باقاعدہ مالی پیکیج یا فوجی خدمات کی قیمت سامنے نہیں، اس لیے توپ چلنے سے پہلے کیلکولیٹر چلانا بھی مناسب نہیں۔

سعودی عرب کے لیے فائدہ شاید کچھ اور نوعیت کا ہے۔ ہمارے دیہات میں بعض لوگ ڈر اور بیماری سے بچنے کے لیے بچے کے گلے میں “تعویذ” ڈال دیتے ہیں۔ بیماری آئے نہ آئے، گھر والوں کا دل مضبوط رہتا ہے کہ حفاظت کا انتظام موجود ہے۔ سعودی عرب کے لیے پاکستان اور ترکی کا یہ دفاعی بندوبست کچھ ایسی ہی “ڈر کی تعویذ” بن سکتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس تعویذ میں دھاگے کے ساتھ پاکستانی فوجی طاقت، پاکستان کی جوہری حیثیت، ترکی کی بڑی فوج اور اس کی جدید دفاعی صنعت بھی بندھی ہوئی ہے۔ دفاعی معاہدے کا سب سے بڑا فائدہ ہمیشہ جنگ لڑنا نہیں ہوتا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف جنگ شروع کرنے سے پہلے حساب دوبارہ کرے۔ اگر کسی ممکنہ حملہ آور کو معلوم ہو کہ معاملہ صرف ریاض سے نہیں بلکہ اسلام آباد اور انقرہ سے بھی پڑسکتا ہے تو شاید یہی خوف نصف دفاع کا کام کردے۔

ترکی کا فائدہ نسبتاً زیادہ کاروباری، دفاعی اور سیاسی دکھائی دیتا ہے۔ اس کے پاس ڈرون، میزائل، جنگی جہازوں، بحری نظام اور دوسری دفاعی ٹیکنالوجی کی تیزی سے بڑھتی صنعت ہے۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے اور پاکستان کے پاس تجربہ، افرادی قوت اور پہلے سے موجود دفاعی پیداوار۔ اگر یہ تینوں واقعی مشترکہ منصوبوں میں آگے بڑھے تو ایک دلچسپ مثلث وجود میں آسکتی ہے: “ترک ٹیکنالوجی، سعودی سرمایہ اور پاکستانی فوجی تجربہ”۔ ترکی کو اس سے نئی دفاعی منڈیاں اور مشرق وسطیٰ و جنوبی ایشیا میں زیادہ سیاسی اثر مل سکتا ہے۔ البتہ ابھی سے یہ کہنا کہ کون سب سے زیادہ فائدہ اٹھائے گا کچھ ایسا ہی ہے جیسے نکاح نامے پر دستخط ہوتے ہی “بچوں کی وراثت” تقسیم کرنا شروع کردی جائے۔

اصل سوال پھر بھی یہی رہے گا کہ یہ معاہدہ میدان میں کتنا قابل عمل ہے۔ اگر کل پاکستان اور بھارت میں جنگ ہو تو سعودی اور ترک ذمہ داری کہاں تک جائے گی؟ ترکی کسی فوجی بحران میں داخل ہو تو پاکستان کس حد تک ساتھ دے گا؟ سعودی عرب پر حملہ ہو تو کیا پاکستانی فوج فوری عملی کردار ادا کرے گی یا پہلے سیاسی مشاورت ہوگی؟ اور اگر کوئی ملک خود جنگ شروع کردے تو کیا باقی دو بھی اس کے پابند ہوں گے؟ اسی طرح مشترکہ کمان، فضائی و میزائل دفاع، خفیہ معلومات کے فوری تبادلے، ڈرون، بحری راستوں اور جنگی سامان کی فراہمی کا واضح نظام موجود ہے یا نہیں؟ کیونکہ دفاعی معاہدے کی اصل طاقت “ایک پر حملہ سب پر حملہ” کہنے میں نہیں، بلکہ حملے کے اگلے چوبیس گھنٹوں میں یہ بتانے میں ہے کہ کون کیا کرے گا۔

پاکستان کو اس مرتبہ اپنی ایک پرانی عادت سے بھی بچنا ہوگا۔ ہم کسی نئی دوستی کو دیکھ کر اپنی تمام سلامتی اسی کے حوالے کرنے لگتے ہیں۔ کبھی امریکہ ہماری سب امیدوں کا مرکز تھا، پھر چین کو “ہر موسم کا دوست” کہتے کہتے بعض لوگوں نے سمجھ لیا کہ باقی دنیا اضافی سامان ہے، اور اب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ معاہدہ ہوتے ہی دفاع کا ہوم ورک مکمل ہوگیا۔ قومیں دوستوں کے کندھوں پر نہیں، اپنی ٹانگوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت، سیاسی استحکام، قومی اتفاق اور مؤثر سفارت کاری اصل حفاظتی دیوار ہیں۔ دوست اس دیوار کو مضبوط کرسکتے ہیں، اس کی جگہ نہیں لے سکتے۔ مکہ کا معاہدہ اگر مشترکہ پیداوار، فضائی و میزائل دفاع، خفیہ معلومات، بحری اور سائبر تعاون اور فوری فوجی مدد کے مستقل نظام میں ڈھل گیا تو واقعی اہم تاریخی قدم ہوگا۔ ورنہ ہمارے ہاں “تاریخی دن” پہلے بھی بہت آئے ہیں، تاریخ بدلنے والے دن نسبتاً کم۔

لہٰذا اس معاہدے پر خوش ہونا چاہیے، مگر تجربہ کار آدمی کی طرح، جو نئی ضمانت ملنے پر مسکراتا بھی ہے اور شرائط بھی پڑھ لیتا ہے۔ پاکستان کو اس میں ممکنہ مالی اور دفاعی فائدہ دکھائی دیتا ہے، سعودی عرب کو ایک مضبوط “ڈر کی تعویذ” اور ترکی کو اپنی دفاعی صنعت اور علاقائی اثر بڑھانے کا موقع۔ مگر آخری فیصلہ وقت کرے گا۔ ہم کئی مرتبہ دوسروں کے لیے مورچہ بنے، ان کی افواج تربیت دیں اور اپنے جغرافیے اور فوجی صلاحیت کو مشترکہ مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جب اپنی باری آئی تو عالمی سیاست نے یاد دلایا کہ تعلقات جذبات پر نہیں، مفادات پر چلتے ہیں۔ دفاعی معاہدے کی اصل آزمائش دستخط، کیمروں اور تالیوں کے دن نہیں ہوتی؛ اصل امتحان اس رات ہوتا ہے جب سرحد پر پہلا گولہ گرتا ہے اور آپ مڑ کر دیکھتے ہیں کہ کاغذ پر کندھے سے کندھا ملانے والا دوست میدان میں بھی موجود ہے یا صرف مشترکہ بیان میں۔ سفارت کاری کی دنیا میں مصافحے بہت ہوتے ہیں، مورچے ہمیشہ کم۔
محمد امین اسد

اپنا تبصرہ لکھیں