مصنوعی ذہانت اور طبی تعلیم/ڈاکٹر مسلم یوسفزئی

آج کل جب ہم کسی میڈیکل کالج کے لیکچر ہال میں داخل ہوتے ہیں تو بورڈ پر لکھی گئی اناٹومی کی پیچیدہ ڈرائنگز کے ساتھ ساتھ ایک اور چیز بھی نظر آتی ہے—لیپ ٹاپ کی اسکرین پر چلتی ہوئی مصنوعی ذہانت کی سافٹ ویئر۔ یہ منظر اب کوئی مستقبل کی کہانی نہیں بلکہ ہمارے طبی تعلیمی اداروں کی حقیقت بن چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلی ہمارے ڈاکٹروں کی تربیت کو بہتر بنا رہی ہے یا صرف ایک نئی ٹیکنالوجی کا رجحان ہے؟
پاکستان میں طبی تعلیم ہمیشہ سے روایتی طریقوں پر مبنی رہی ہے۔ کتابیں، لیکچرز، وارڈ راؤنڈز اور مریضوں سے براہ راست رابطہ—یہ تمام عناصر آج بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم مصنوعی ذہانت نے ان روایتی ستونوں کو ایک نئی جہت دی ہے۔ اب طلباء ورچوئل مریضوں پر تشخیص کی مشق کر سکتے ہیں، نادر بیماریوں کے کیس اسٹڈیز کو سیکنڈز میں حاصل کر سکتے ہیں، اور ریڈیالوجی یا پیتھالوجی کی رپورٹس کو مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ دنیا بھر کے بڑے میڈیکل سکولز میں یہ طریقہ کار تیزی سے اپنایا جا رہا ہے، اور پاکستان بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔
اس تبدیلی کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ تعلیمی عدم مساوات کو کم کر سکتی ہے۔ ہمارے چھوٹے شہروں اور دیہی علاقوں کے میڈیکل کالجز میں تجربہ کار پروفیسرز اور جدید آلات کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارمز اس خلا کو پر کر سکتے ہیں۔ ایک طالب علم ملتان یا کوئٹہ میں بیٹھ کر بھی دنیا کے بہترین کیسز اور سمیولیشنز تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اسی طرح تشخیصی غلطیوں کو کم کرنے میں بھی اے آئی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ ریڈیالوجی اور پیتھالوجی جیسے شعبوں میں مشین لرننگ ماڈلز انسانی آنکھ سے زیادہ تیزی اور بعض اوقات زیادہ درستگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
لیکن اس روشن تصویر کے پیچھے کچھ سنگین سوالات بھی موجود ہیں۔ سب سے پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت ڈاکٹر اور مریض کے درمیان انسانی تعلق کو کمزور تو نہیں کر رہی؟ طب صرف سائنس نہیں، فن بھی ہے۔ مریض کی آنکھوں میں دیکھ کر اس کے ڈر کو سمجھنا، اس کے خاندان کی پریشانیوں کو محسوس کرنا—یہ صلاحیتیں کسی الگورتھم سے نہیں سیکھی جا سکتیں۔ اگر طبی تعلیم میں اے آئی پر انحصار زیادہ ہو گیا تو آنے والی نسل کے ڈاکٹر شاید تکنیکی طور پر ماہر ہو جائیں گے مگر انسانی ہمدردی میں کمزور پڑ جائیں گے۔

دوسرا اہم پہلو ڈیٹا کی رازداری اور اخلاقیات کا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے بڑی مقدار میں مریضوں کا ڈیٹا درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں اس ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی فریم ورک ابھی تک مکمل طور پر تیار نہیں۔ اگر یہ ڈیٹا غلط ہاتھوں میں چلا گیا یا تعصب پر مبنی الگورتھم بن گئے تو نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اے آئی سسٹمز کی لاگت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مہنگے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر صرف چند بڑے پرائیویٹ اداروں تک محدود رہ سکتے ہیں، جس سے سرکاری میڈیکل کالجز مزید پسماندہ ہو جائیں گے۔

ان چیلنجز کے باوجود یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ مصنوعی ذہانت طبی تعلیم کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسے بامقصد طریقے سے اپنائیں۔ نصاب میں اے آئی کی بنیادی تعلیم شامل کی جائے تاکہ طلباء نہ صرف اسے استعمال کرنا سیکھیں بلکہ اس کی حدود اور اخلاقی پہلوؤں کو بھی سمجھیں۔ پروفیسرز کو تربیت دی جائے تاکہ وہ روایتی اور جدید طریقوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔ ساتھ ہی سرکاری سطح پر ایک قومی پالیسی بنائی جائے جو ڈیٹا کے تحفظ، مساوی رسائی اور انسانی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک طاقتور آلہ ہے، لیکن آلہ کبھی خود ڈاکٹر نہیں بن سکتا۔ حقیقی علاج اب بھی اس ہاتھ میں ہے جو مریض کے نبض کو محسوس کرتا ہے اور اس دل میں جو اس کی تکلیف کو اپناتا ہے۔ طبی تعلیم کا مقصد صرف علم دینا نہیں بلکہ ایسے ڈاکٹر تیار کرنا ہے جو علم اور انسانیت دونوں کا حامل ہو۔ مصنوعی ذہانت اس سفر میں ہمارا مددگار بن سکتی ہے، لیکن منزل کا تعین ہمیں خود کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ لکھیں