الف کی سیدھی لو(افسانہ)- حامد یزدانی

سٹی ہال کے باہر احتجاجی ہجوم کی آوازیں اس کے کانوں میں کسی پرانی یاد کی گھنٹی کی آواز کے ساتھ ابھرتے بچوں کے بے سمت شور کی طرح گونج رہی تھیں—چھٹی کی گھنٹی کی آواز کی پہلی لہر دراصل پرائمری اسکول کے بچوں کی روز کی اجتماعی مشق کی بھی ہم آواز ہوتی تھی:
اک… دو… تن…چار
ا، ب، پ، ت

عشروں بعد ، آج انہی مشرقی آوازوں کی کوئی بازگشت ہزاروں میل دور برپا احتجاج کے مغربی شور میں مدغم ہوتی محسوس ہو رہی تھی۔ لوگ کہہ رہے تھے کہ شہر کی زمین پر ایک ایسی عمارت بلند کی جانے والی ہے جو انسانوں کی آوازیں نہیں، بل کہ ان کی سانسوں، قدموں، حرکات اور خاموشیوں کی عددی صورت محفوظ کرے گی۔۔ایک بڑا AI ڈیٹا سینٹر۔
اسے لگا جیسے شہر کا رخ، شہر کی سیدھ ہی بدلنے والی ہے۔

احتجاجی مظاہرین کے سروں پر خودکار کیمروں کی سرخ روشنیوں کے سائے منڈلا رہے تھے، اور اس کے موبائل کی اسکرین پر بہتے ہوئے اعداد بھی اسے باور کروا رہے تھے کہ نئی دنیا اب آوازوں کو سننے کے بجائے ان کے نقش محفوظ کرنا چاہتی ہے۔

وہ ہجوم کے بیچ کھڑا تھا، مگر اچانک، جانے کیوں ، اس کے اندر وہی پہلی لکیر، وہی پہلا حرف، وہی بچپن کا سیدھا روشن “الف” ایک بار پھر دھڑکنے لگا تھا اور شور کے اندر کہیں بہت دور سے ایک دھیمی، قدیم صوفیانہ صدا بلند ہونے لگی، جسے صرف اس کا وجدان ہی سن سکتا تھا :
“علموں بس کریں او یا۔۔۔ اکو الف ترے درکار”
اسے لگا جیسے شہر کے شور میں بھی کہیں ایک نادیدہ سیدھی لکیر سانس لے رہی ہے۔

اسی سانس کے پہلو سے ایک اور یاد نمودار ہوئی۔۔اسی کی دہائی کی، جب کالج کے پروفیسر نے اسے شہر کے ایک بڑے بینک کے کمپیوٹر روم میں بھیجا تھا۔ کمرہ عجیب سردی سے بھرا ہوا تھا۔ایسی سردی جو دیواروں سے نہیں، مشین سے اٹھتی تھی۔ ایک بڑی سی مشین مسلسل گھوں گھوں کی آواز کے ساتھ اعداد کو نگلتی اور اگلتی رہتی تھی۔ وہ حیرت سے اسے دیکھتا رہ گیا تھا۔ تب تک اس نے صرف الیکٹرک ٹائپ رائٹر دیکھا تھا؛ یہ مشین اس کے لیے کسی اور زمانے کی مخلوق تھی۔

اس کی حیرت ایک سوال بن کر ذہن میں منجمد ہو گئی تھی:
کیا ایک دن انسان کی آواز بھی اسی سردخانے میں محفوظ ہو جائے گی؟

وہ سوال وقت کے ساتھ ایک بےنام تشویش میں بدل گیا، اور پھر یہی تشویش اس کی پیشہ ورانہ زندگی میں بار بار سامنے آنے لگی۔

نیوز روم میں اس نے دیکھا تھا کہ کیسے ایک ہی واقعہ مختلف نظاموں کے ہاتھوں مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے۔ خبر جو کبھی انسانی آنکھ، انسانی دل، اور انسانی ذمہ داری سے لکھی جاتی تھی، اب بازار کی پیمائش کے مطابق تراشی جاتی تھی۔ کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ خبر کا ظاہر تو زندہ ہے، مگر اس کا باطن، اس کی روح کہیں اور منتقل ہو چکے ہیں ۔
ایڈیٹر نے ایک بار ہنستے ہوئے کہا تھا:
“سچ وہ ہے جو سب سے زیادہ تالیاں لائے۔”
وہ جملہ اس کے اندر کہیں جم گیا تھا۔

پولیس کی قطاریں، پانی کی ممکنہ قلت پر مشتعل لوگ، براہِ راست مناظر، اور خودکار نظاموں کی رپورٹیں—سب ایک ہی شور میں بدل گئے تھے۔ اسے لگا جیسے شہر اپنی ہی آوازوں کے سیلاب میں ڈوب رہا ہے، اور ہر آواز کے پیچھے کوئی غیر انسانی دماغ بیٹھا اس کا مفہوم طے کر رہا ہے۔ وہ جانتا تھا کہ اعداد کبھی مکمل نہیں ہوتے، کہ نظام ہمیشہ کسی نہ کسی ٹیڑھ کے ساتھ کام کرتے ہیں، مگر آج اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی اپنی آواز بھی کسی قدر کمزور پڑ رہی ہے۔

اس نے آنکھیں بند کیں تو گنتی مکمل ہو چکی تھی۔ اب پہاڑوں کی اجتماعی تکرار ابھر رہی تھی:
اک دونی دونی۔۔ دو دونی چار۔۔تن دونی چھے ۔۔

یہ آوازیں اس کے لیے صرف پہاڑے نہیں تھیں۔۔یہ اس کے علم، اس کی زبان کی بنیاد تھیں، وہ بنیاد جو کسی بھی مشین کی گرفت میں نہیں آسکتی۔ اسے لگا جیسے یہ آوازیں اس کے اندر کسی گہرے کنویں سے اٹھ رہی ہیں، اور باہر کے شور میں ایک خاموش مزاحمت کی طرح قطار در قطار کھڑی ہوتی جا رہی ہیں۔

استاد کی آواز بھی ابھر آئی۔۔وہ آواز جو کبھی تختی پر کھینچی گئی سیدھی لکیر کو انگلی سے چھو کر کہتی تھی:
“یادرکھو! یہ صرف حرف نہیں، یہ مستقیم سمت ہے۔ تمہاری سیدھ ہے۔اسی کے رخ چلنا، اسی کی بلند ہوتی لو میں۔”

اسے لگا جیسے اب دل کے اندر کوئی دھیمی، صوفیانہ لے وجد کناں ہو۔
“الف اللہ چنبے دی بوٹی… مرشد من وچ لائی، ہو”
اور حرف کا سیدھ اس کے اندر بوٹی کی طرح اگنے لگی۔

پرائمری سکول کا وہ استاد اب شاید کہیں نہیں تھا، مگر اس کی آواز آج بھی اس کے اندر زندہ تھی۔ اسے لگا جیسے “الف” محض ایک یاد نہیں، اس کی اصل ہے۔

جب اس نے آنکھیں کھولیں تو شہر کی عمارتیں اسے سیدھی نہیں لگیں۔
اونچی ضرور تھیں، مگر بےڈھب۔
مضبوط ضرور تھیں، مگر بےمصرف۔
جیسے شہر نے اپنی اصل آواز کھو دی ہو، اور اب صرف مصنوعی شور باقی رہ گیا ہو۔

وہ جانتا تھا کہ اس کی صحافت، اس کی تحریر، اس کی تقریر ۔۔سب حرف کی راہ کے مسافر ہیں۔
اگر حرف کی سمت بگڑ گئی، اگر اس مسافر کا رہگزر سے رشتہ ٹوٹ گیا، تو انسان بھی ٹوٹ جائے گا۔
اور اگر انسان ٹوٹ گیا تو دنیا صرف اعداد کا قبرستان بن رہ جائے گی۔

ادھر اس نے موبائل بند کیا اور ادھر معلومات کو اعداد کی جانب دھکیلتی ندی یک دم رک گئی۔
احتجاج اب بھی چل رہا تھا، مگر اس کے نعرہ زن شور میں اسے اپنی آواز سنائی دینے لگی۔وہی بچپنے کی معصومیت میں گندھی پہلی آواز، وہی “الف” کی سیدھی اُجلی سانس۔

وہ ہجوم کے اندر واپس چلا گیا۔
اس بار وہ صرف تماشائی نہیں تھا۔
اس کے اندر حرف کی سیدھی لو پوری طرح بیدار ہو چکی تھی۔

اس نے ایک پلے کارڈ اٹھایا، اور اس پر صرف ایک حرف لکھا:
الف

کبھی تختی پر کھینچی یہ سادہ سی، خاموش سی لکیر آج مزاحمت کا عمود دکھائی دے رہی تھی۔
ایک ایسا عمود جو شہر کی ٹیڑھی میڑھی لکیروں کے درمیان خاموش مگر ناقابلِ شکست اظہار بن کر کھڑا تھا۔

ہجوم کے شور میں وہ حرف کسی نعرے یا اعلان کی طرح نہیں۔۔ بلکہ کسی گم شدہ صحیفے کی پہلی آیت کی طرح اتر رہا تھا۔

اور اسی لمحے اس پر یہ یقین بھی روشن ہوا کہ دنیا چاہے اعداد میں تحلیل ہو جائے،
ازل کا مستقیم اجالا، انسان کی پہلی معصوم آواز، الف کی وہ سیدھی لو۔۔کبھی معدوم نہ ہوگی۔

اپنا تبصرہ لکھیں