تم اپنی نیش چنتے ہو پھر نیش تمہیں چن لیتی ہے۔
فلٹر۔۔۔
ریحہ کی دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی۔
ایک وہ، جسے لوگ دیکھتے تھے۔
اور ایک وہ، جسے وہ خود بھی دیکھنے سے ڈرتی تھی۔
وہ ایک مشہور بیوٹی کریئیٹر تھی۔
ہر ویڈیو میں ایک نیا فلٹر، نیا میک اپ ، نیا لک ۔
تبصروں میں لکھا ہوتا:
“آپ تو حقیقت سے بھی زیادہ خوبصورت ہیں۔”
ایک صبح اس نے آئینے میں دیکھا۔
اس کے گال پر ایک ننھا سا پھول کھلا ہوا تھا۔
اس نے اسے میک اپ سے چھپانے کی کوشش کی، مگر شام تک دوسرا پھول بھی اگ آیا۔
چند دنوں میں اس کے چہرے، گردن اور بازوؤں پر رنگ برنگے پھول پھیلنے لگے۔
ڈاکٹر حیران تھے۔
ٹیسٹ نارمل تھے۔
کریمیں بے اثر تھیں۔
لیکن اس کے فالوورز پہلے سے زیادہ خوش تھے۔
“یہ تو آپ کا نیا لک ہے!”
“کمال… ایسا فلٹر کبھی نہیں دیکھا!”
ہر تعریف کے ساتھ ایک نیا پھول کھل جاتا۔
آخرکار وہ ایک بوڑھی مالی کے پاس گئی۔
مالی نے اسے دیر تک دیکھا، پھر کہا،
“یہ پھول بیماری نہیں ہیں…
یہ اُن چہروں کی فصل ہے جنہیں تم نے اپنی اصل صورت پر اگنے دیا۔”
اس نے پہلی بار بغیر فلٹر کیمرہ آن کیا۔
کوئی میک اپ نہیں۔
کوئی روشنی نہیں۔
کوئی ترمیم نہیں۔
صرف وہ۔
ویڈیو ختم ہوئی تو اس نے آئینے میں دیکھا۔
ایک پھول زمین پر گر چکا تھا۔
—
سوال یہ نہیں کہ آپ کون سا فلٹر استعمال کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ فلٹر کے بغیر آپ خود کو پہچان بھی پائیں گے؟
۔۔۔۔۔
نوٹ : “اسٹوری ری بوٹ کا سلسلہ نیش” ایک اصل تخلیقی سلسلہ ہے۔ اس کے منفرد تصور، ساخت اور پیشکش سے استفادہ کرتے وقت علمی دیانت اور مناسب حوالہ دینا اخلاقی ذمہ داری ہے۔


