چڑیا خواب اور گھر (افسانچہ)- اظہر سجاد

گھر میں داخل ہوا تو شدید دھوپ تھی۔ میں نے برآمدے کی چِک کو کھول کر پھیلا دیا۔ میر ی نظر کونے پر پڑے تنکوں کے چھوٹے سے ڈھیر پر پڑی:
”یہ کیا ہے، کل تک تو نہ تھے یہ تنکے۔“ دوسرے دن پھر ایسا ہی ہوا۔ اب میں نے گھر والوں سے کہا کہ چِک کو کھول کر رکھا کریں، چڑیا روزانہ گھونسلہ بناتی ہے اور ہم سے گر جاتا ہے۔ میں نے یہ اس لیے کہا تھا تاکہ اب چڑیا گھونسلہ نہ بنا سکے۔
رات خواب میں ایک چڑیا آئی اور بولی:
” تم کتنے ظالم ہو, کسی کا گھر مسمار کرتے ہوئے تمھیں شرم نہیں آتی۔ ۔ ۔ میں بہت دور سے آتی ہوں۔ ۔ ۔ مجھے گھر بنانے دو۔“
دوسرے دن میں نے خود ہی چِک باندھ دی اور ہدایت کی کہ اب اسے نہ کھولنا، میں دھوپ روکنے کے لیے کچھ اور بندوبست کردوں گا۔ اب ایک سال ہو گیا وہ چڑیا واپس نہیں آئی۔ نہ میرے گھر نہ میرے خواب میں۔

اپنا تبصرہ لکھیں