جناح اور تقسیم: ایک تاریخی جائزہ/ عمر شاہد

محمد علی جناح نے مئی 1947 میں پنجاب اور بنگال کی تقسیم کو بدنیتی پر مبنی حرکت قرار دیا اور خبردار کیا کہ “نہ تو وائسرائے اور نہ ہی ہز میجسٹی گورنمنٹ اس جال میں پھنسیں اور سنگین غلطی کریں”۔ انہوں نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کا مطالبہ چھ صوبوں پر مشتمل ایک مکمل پاکستان ہے جس میں پنجاب، این ڈبلیو ایف پی، سندھ، بلوچستان، بنگال اور آسام شامل ہیں۔ قائداعظم کا کہنا تھا کہ “پنجاب اور بنگال کی تقسیم کو تاریخی، اقتصادی، جغرافیائی، سیاسی اور اخلاقی طور پر جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا” اور انہوں نے واضح کیا کہ “میں بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے خلاف ہوں اور ہم اس کے خلاف ہر انچ لڑیں گے”۔ تاہم قابل غور بات یہ ہے کہ جناح کے مطالبے میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تھا، جو بعد میں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سب سے بڑا تنازع بن گیا۔(حوالہ جات: ڈان، یکم مئی 1947؛ جناح کا جواب، 21 مئی 1947)

تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ قائداعظم نے 6 جون 1946 کو کیبنٹ مشن پلان کو قبول کیا تھا۔ لیاقت علی خان کے مطابق، “مسلم لیگ کونسل نے 25 مئی کی وضاحتوں اور پارٹیوں کی نیک نیتی پر یقین کی بنیاد پر 6 جون کو اس منصوبے کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا”۔ لیکن جب کانگریس نے اس پلان کو غیر واضح شرائط کے ساتھ قبول کیا اور جواہر لال نہرو نے 10 جولائی کو پریس کانفرنس میں کہا کہ آئین ساز اسمبلی کسی بھی پابندی کی پابند نہیں، تو مسلم لیگ نے 29 جولائی 1946 کو اپنی منظوری واپس لے لی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب جناح نے “براہ راست کارروائی” کا اعلان کیا اور چودہ مہینوں کے اندر ہندوستان تقسیم ہو گیا۔ لال خان اپنی کتاب “پارٹیشن: کین اٹ بی انڈن” میں اسے سامراجی چال قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ “جناح کے اس سفر میں بے شمار اتار چڑھاؤ تھے، تمام رہنما اپنی جماعت کے مفادات کے تحت بدلتے رہے اور جناح بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے”۔

حوالہ جات: لیاقت علی خان کا خط، 8 فروری 1947؛ لال خان، “پارٹیشن: کین اٹ بی انڈن”، 2007)

دستاویزات میں کشمیر کا کوئی تفصیلی ذکر موجود نہیں۔ جناح نے اپنے چھ صوبوں کے مطالبے میں کشمیر کو شامل نہیں کیا تھا۔ صرف ایک جگہ پٹیل نے گاندھی کو لکھا کہ “میں کشمیر کے بارے میں کوشش کر رہا ہوں” اور کہیں مہاجرین کا ذکر ہے جو ہزارہ سے فرار ہو کر کشمیر میں پناہ لے رہے تھے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر کی حیثیت 1947 میں طے نہیں تھی۔ ماؤنٹ بیٹن-نہرو-جناح معاہدے میں کشمیر کو الگ رکھا گیا تھا اور گاندھی کو اس بارے میں مشورہ تک نہیں دیا گیا تھا۔ آج کا سبق یہ ہے کہ جناح اور کانگریس کے درمیان مفاہمت کی کمی اور کشمیر جیسے معاملات کو غیر حل شدہ چھوڑنے کے نتائج ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ جیسا کہ لال خان کہتے ہیں، “اگر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسی طریقوں پر مبنی ہوتی تو تاریخ کا دھارا بدل سکتا تھا اور تقسیم کا سانحہ ٹل سکتا تھا”۔

حوالہ جات: پٹیل کا خط، 21 اپریل 1947؛ ماؤنٹ بیٹن-نہرو-جناح معاہدہ؛ لال خان، “پارٹیشن: کین اٹ بی انڈن”

یہ واضح ہوتا ہے کہ جناح تقسیم صوبوں کے خلاف تھے لیکن پاکستان کے مطالبے پر سختی سے قائم رہے۔ کیبنٹ مشن پلان کو قبول کرنا اور پھر اسے واپس لینا ان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔ کشمیر ان کی ترجیحات میں شامل نہیں تھا، جو آج تک ایک غیر حل شدہ مسئلہ ہے۔ لال خان کے مطابق، “برصغیر کا دوبارہ اتحاد صرف سائنسی سوشلزم پر مبنی پروگرام کے ذریعے ہی ممکن ہے”۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ جناح اور کانگریس کے درمیان عدم اعتماد نے تقسیم کو ناگزیر بنا دیا اور اس کے نتائج آج بھی ہمارے سامنے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں