کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس اور سندھ کا فرسودہ نظام/شیر علی انجم

جو لوگ کراچی میں رہتے ہیں اُنہیں اس بات کا بخوبی علم ہے کہ اس شہر میں پولیس اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے علاوہ کیا کچھ نہیں کرتے۔ اس بدقسمت شہر کا سب سے بڑا مسلہ یہی ہےکہ یہاں عوام محافظ سے خوف کھاتے ہیں جس کا شائد بلاول بھٹو زرداری کوعلم نہیں۔ کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا میر قتل کیس بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے اور اب اس کیس کی گتھیاں روز نئی کہانیوں کی شکل میں سامنے آ رہی ہیں۔ یہ صرف ایک قتل کا مقدمہ نہیں رہا، بلکہ اس کیس نے پورے نظامِ انصاف، سندھ پولیس، تفتیش اور ریاستی اداروں کے کردار پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔جب میر رضا میر کی لاش برآمد ہوئی تو ابتدائی پوسٹ مارٹم کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ یہ قتل نہیں بلکہ خودکشی ہے۔ لیکن اسی سرکاری نظام کا حصہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے اس پوسٹ مارٹم پر چودہ بنیادی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے اپنے تحفظات متعلقہ حکام کے سامنے رکھے، مگر انہیں کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔ بالآخر انہوں نے 4 جولائی کو میڈیا کے سامنے آ کر اپنے سوالات دوبارہ اٹھائے تو سندھ حکومت بوکھلاہٹ کے شکار ہوئے۔ یعنی سندھ حکومت نے اپنے حساب سے اس کیس کو دفن کردیا تھا لیکن کیس میں کراچی کے معروف وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر کی انٹری سندھ پولیس کے عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیا۔ جبران ناصر کی اس کیس میں شمولیت یقینا سندھ حکومت کیلئے ناقابل یقین تھا۔ جبران ناصر نے میر رضا کے والدین کے ساتھ مل کر عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کے حکم پر قبر کشائی کا فیصلہ ہوا اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔لیکن معاملہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا۔ حکومت نے پہلے سے تشکیل دیے گئے بورڈ میں تبدیلی کرتے ہوئے حیدرآباد سے ڈاکٹروں کو شامل کیا۔بورڈ کی تبدیلی نے کیس کو مزید مشکوک بنایا اور جبران ناصر نے مقتول کےوالدین کے ساتھ مل کر اس فیصلے کو بھی چیلنج کرکے عدالت کے زریعے سابقہ بورڈ کو بحال کروایا۔بالآخر قبر کشائی ہوئی، دوبارہ پوسٹ مارٹم ہوا اور فرانزک عمل آگے بڑھا۔ سامنے آنے والی اطلاعات نے ابتدائی خودکشی کے مؤقف پر مزید سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔ فرانزک نتائج کے مطابق میر رضا میر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے جسم کو بھی مسخ کرنے کی کوشش کی گئی۔یوں ایک ایسا معاملہ، جسے سندھ پولیس ابتدا میں خودکشی قرار دینے کی کوشش کی جا رہی تھی، ایک بڑے ہائی پروفائل قتل کیس میں تبدیل ہو گیا۔اس پورے معاملے میں سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ جب سندھ کے وزیر داخلہ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید کے بارے میں یہ مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے تحفظات پہلے حکومت کو بتانے چاہییں تھے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک سرکاری ڈاکٹر نے اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کرتے ہوئے پوسٹ مارٹم میں خامیوں کی نشاندہی کی ہے تو حکومت کو پہلے اپنے نظام کا دفاع کرنے کے بجائے ان سوالات کے جواب دینے چاہییں تھے۔
یقینا ڈاکٹر سمیہ سید نے اسی نظام کے حصہ ہونے کے باوجود ایمانداری اور فرائض منصبی کی ایک مثال قائم کی۔ اسی طرح جبران ناصر نے اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے مسلسل سوالات اٹھاتےرہے اور دوسری طرف سندھ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار سوالات کو دبانے کی کوشش کررہے۔یہی اس کیس کا سب سے اہم پہلو ہے۔کراچی اور سندھ میں ماضی میں بھی ایسے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں جہاں قتل، اغوا یا پراسرار اموات کے مقدمات کے حوالے سے پولیس تفتیش اور پوسٹ مارٹم پر سوالات اٹھے۔ عام آدمی کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی کیس ہائی پروفائل نہ ہو تو اس کے خاندان کے پاس اپنی آواز بلند کرنے، قانونی جنگ لڑنے اور ریاستی اداروں کو جواب دہ بنانے کے وسائل کہاں سے آئیں؟میر رضا میر کیس نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔یہ معاملہ صرف ایک خاندان کو انصاف دلانے کا نہیں۔ یہ اس پورے نظام کی آزمائش ہے جس میں جمہوریت کی بات ہوتی ہے، عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا جاتا ہے، انسانی حقوق کے نعرے لگائے جاتے ہیں، لیکن اگر ریاستی اداروں پر ہی سنگین سوالات اٹھنے لگیں تو پھر ان نعروں کی عملی حیثیت کیا رہ جاتی ہے؟پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً وہ لوگ جو جمہوریت، انسانی حقوق اور عوام کے حقوق کی بات کرتے ہیں، انہیں اس کیس کو محض ایک پولیس یا قانونی معاملہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک بڑے ادارہ جاتی مسئلے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔کیونکہ دنیا بدل چکی ہے۔یہ وہ زمانہ نہیں جہاں کسی واقعے کو آسانی سے دبا دیا جائے، فائل بند کر دی جائے اور عوام کو خاموش کر دیا جائے۔ سوشل میڈیا کے دور میں سوالات زیادہ تیزی سے اٹھتے ہیں، معلومات زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں اور ریاستی اداروں کی کارکردگی پہلے سے کہیں زیادہ عوامی نگرانی میں ہے۔اور شاید اس کیس کا سب سے بڑا سبق بھی یہی ہے۔اسی معاشرے میں جہاں نظام پر سوال اٹھتے ہیں، وہیں ڈاکٹر سمیہ سید جیسے سرکاری افسر بھی موجود ہیں جو اپنے ضمیر اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے تحت سوال اٹھاتے ہیں۔ اسی معاشرے میں جبران ناصر جیسے وکیل بھی موجود ہیں جو قانونی راستے سے ان سوالات کو عدالت تک لے جاتے ہیں۔ اور اسی معاشرے میں ایک خاندان بھی موجود ہے جو اپنے مقتول کے لیے انصاف کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس پورے معاملے میں کراچی کے نوجوانوں نے مسلسل احتجاج کرکے دنیا کو سندھ میں نظام کی اصل تصویر دکھاتے رہے۔ایک طرف طاقت ہے، دوسری طرف سوال ہے، اور تیسری طرف انصاف کی جدوجہد۔اب فیصلہ صرف عدالتوں نے نہیں کرنا، بلکہ سندھ حکومت نے بھی یہ طے کرنا ہے کہ وہ سوال اٹھانے والوں کو خاموش کرے گی یا اپنے نظام میں موجود خامیوں کو تسلیم کر کے انہیں درست کرنے کی کوشش کرے گی۔میر رضا میر قتل کیس سندھ حکومت کے لیے صرف ایک مقدمہ نہیں، بلکہ ایک بڑا امتحان ہے۔ بلکہ اس ایک قتل نے سندھ کے پورے سسٹم کو دنیا کے سامنے لاکھڑا کردیا جہاں نہ صرف کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر میں انفراسٹکچر کی بدحالی ایک سنگین چیلنج اور حکومتی کارکردگی پر اہم سوال ہے وہیں سندھ پولیس کی کاکرکردگی جو کراچی شہر میں ہمیشہ سے سوالیہ نشان رہی ہے مزید مشکوک اور اس بات کا اعتراف ہے کہ کراچی میں قانون بھی نظریہ ضرورت کے مطابق کام کرتے ہیں۔ یقینا بلاول بھٹو زرداری کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی نعروں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کب سندھ کے اس فرسودہ نظام کو ٹھیک کرکے جمہوری اقدار بلند کرنے کیلئے عملی کردار ادا کرتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں