جشن آزادی یا ماتم شرمندگی؟- فرزانہ افضل

آج پورا ملک 14 اگست کی خوشیوں میں ڈوبا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں اوورسیز پاکستانی آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔
آج یوم آزادی کے موقع پر ہر سال کی طرح پاکستان قونصلیٹ میں پورے جوش و خروش سے تقریب منائی گئی۔ اس کے علاوہ گزشتہ کئی برس سے 14 اگست کے دن دوپہر میں ذیشان اینڈ کو کے سی ای او راسب خان صاحب اور ان کے ہونہار فرزند شعیب گجر کی جانب سے ان کے آفس میں تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ راسب خان صاحب ایک نہایت مہربان اور شفیق کمیونٹی لیڈر ہیں جنہوں نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مانچسٹر کمیونٹی کے لیے بے پایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کا دفتر پاکستان کے جھنڈے اور سبز و سفید رنگ کے غباروں سے سجا ہوا تھا۔ آج کی تقریب میں روایت کے مطابق جشن آزادی کے حوالے سے تقاریر کی گئیں۔ یوم آزادی کا کیک کاٹا گیا اور پھر تمام خواتین و حضرات نے آفس کے باہر کھڑے ہو کر سبز اور سفید رنگ کے غبارے پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ فضا میں اڑائے گئے ۔ آخر میں ریفریشمنٹس کا انتظام تھا۔
تقاریر کے حوالے سے بات کرنا چاہتی ہوں جو بہت دلچسپ تھیں۔ ہر مقرر کا نقطہ نظر دوسرے سے مختلف تھا ۔
میں نے اپنا ویژن مختصر الفاظ میں سب کے ساتھ بانٹا چونکہ وہاں وقت محدود تھا لہذا یہاں تفصیل سے اپنے خیالات کا اظہار کر سکتی ہوں
جشن آزادی مبارک مگر کیا یوم آزادی حقیقتاً آزادی ہے یا ہم صرف فارمیلٹی کے طور پر مبارکیاں دے رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے ایک شادی شدہ جوڑا جو برسوں سے ساتھ ہے ہر سال اپنی شادی کی سالگرہ مناتا ہے مگر ایک دوسرے سے خوش نہیں ہے محض روایتی طور پر یا بچوں کو خوش کرنے کے لیے ہیپی انیورسری کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ کیا واقعی ہم دلی طور پر خوش ہیں کہ ہم آزاد ہیں کیا اپ اپنے اپ کو ازاد سمجھتے ہیں کیا اپ اس بات پر متفق ہیں کہ قائد اعظم نے جس وژن اور نظریے کے تحت پاکستان بنایا تھا گزشتہ 79 سالوں میں میں ہم اس ویژن پر کتنے فیصد پورے اترے ہیں، جن لوگوں نے آزادی کی تحریک میں جانیں قربان کیں ، عزتیں تار تار ہوئیں، خاندان لوٹ مار کا شکار ہوۓ، ایک دوسرے سے بچھڑ گئے، مہاجر ہوئے ،کیا ہم ان سب قربانیوں کا بدلہ چکا رہے ہیں بحیثیت قوم ہم کیا کردار نبھا رہے ہیں
بے شمار تلخ حقائق ہیں جو ہماری روح کو جھنجھوڑ دینے کے لیے کافی ہیں۔
آج ہمیں خود سے ایک تلخ سوال پوچھنا ہوگا: ہم کس آزادی کا جشن منا رہے ہیں؟

آزادی کا مطلب صرف ایک الگ زمین کا ٹکڑا حاصل کر لینا نہیں ہوتا۔ جب میں پاکستان کی آزادی کا تصور کرتی ہوں تو ذہن میں ایک مثال آتی ہے کہ ایک خاندان اپنا گھر بنانے کے لیے ایک پلاٹ خریدتا ہے اس پر گھر بناتا ہے کہ وہاں ازادی اور تحفظ کے ساتھ اپنے خاندان کے ہمراہ زندگی گزارے مگر اگر وہ اپنے گھر میں ہی محفوظ نہیں تو کس بات کی آزادی۔

آزادی کا مطلب ہوتا ہے عزت، تحفظ اور انصاف۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے ملک میں ہماری معصوم بچیاں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ جس وطن کو امن کا گہوارہ ہونا چاہیے تھا، وہاں ہر آئے دن عصمت دری اور درندگی کے دل دہلا دینے والے واقعات ہو رہے ہیں۔
جب ہم آزادی کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں، تو مجھے وہ 18 ماہ کی معصوم بچی یاد آتی ہے جس کی معصومیت کو اس کے منہ بولے بھائی نے کچل دیا۔ مجھے چند ہفتے پہلے کی وہ 8-9 سال کی بچی یاد آتی ہے، جسے ایک کارنر شاپ کہ اوپر کے کمرے میں پہلے ہوس کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ دو روز قبل ایک بچی کو اس کے سوتیلے نانا اور سوتیلے ماموں نے ہوس کا نشانہ بنایا اس سے کچھ روز پہلے ایک 12 13 سال کی لڑکی جو والدین کے کہنے پر ہمسائے سے ادھار واپس لینے گئ تو ہمسایہ نے اس کو ہوس کا نشانہ بنایا یہ صرف چند واقعات نہیں ہیں، ایسی جرائم ائے روز ہو رہے ہیں یہ ہماری قانون سازی، ہمارے نظامِ انصاف اور ہمارے معاشرے کی ناکامی کا وہ کھلا ثبوت ہیں جس پر ہمیں جشن نہیں، بلکہ شرمندگی کا ماتم کرنا چاہیے۔ ہمیں افسوس منانا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک محفوظ چھت تک نہیں دے سکے۔
جس ملک میں مائیں اپنی بیٹیوں کو گھر سے باہر بھیجتے ہوئے خوف سے کانپتی ہوں، جہاں سرِ عام عزتیں پامال ہوتی ہوں اور مجرم دندناتے پھرتے ہوں، وہاں آزادی کا جشن منانا ایک تلخ مذاق معلوم ہوتا ہے۔ حقیقی آزادی وہ ہوتی ہے جہاں معاشرے کا کمزور ترین انسان بھی خود کو محفوظ سمجھے۔

جرائم کے حوالے سے بات کی جائے تو ہمارے یہاں اس قدر محدود سوچ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ بھئی جرائم تو ہر جگہ ہوتے ہیں صرف پاکستان کے جرائم کو میڈیا میں اچھالا جاتا ہے جرائم تو برطانیہ میں بھی ہوتے ہیں۔ ایسی سوچ پر افسوس ہے جرائم دنیا کے ہر ملک میں ہوتے ہیں۔ برطانیہ کی بات کریں تو یہاں آج بھی عورت محفوظ ہے جرائم کی شرح بہت کم ہے اور اگر کوئی جرم سرزد ہوتا ہے تو یہاں مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے یہاں کا قانون بہترین قانون ہے پاکستان کی طرح اندھا قانون نہیں ہمیں ظلم اور نا انصافی کے خلاف اواز اٹھانے کی ہمت ہونی چاہیے نہ کہ گند اور کوڑے کو اکٹھا کر کے کارپٹ کے نیچے ڈال دیں یعنی اس پر پردہ ڈال دیں جرائم پر پردہ ڈالنے سے ہی اور آواز نہ اٹھانے سے ہی ان کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجرمان کو شہہ ملتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ میرے عورتوں اور بچوں کے ریپ اور قتل کے واقعات کے ذکر پر آج کی تقریب میں ایک عورت کا ہی سفاکانہ بیان تھا کہ جرائم تو ہر جگہ ہوتے ہیں پاکستان کے جرائم کو پبلی سائز کیا جاتا ہے۔

آج کا دن جشن کا نہیں، بلکہ محاسبے کا دن ہے۔ گریبان میں جھانکنے کا دن ہے۔ آئیے آج عہد کریں کہ جب تک ہم اپنی بیٹیوں کو تحفظ اور مجرموں کو عبرتناک سزا نہیں دلا دیتے، تب تک ہمارا یہ جشن ادھورا رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں