گزشتہ چند برسوں سے پاکستانی اخبارات، نیوز ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پر ایک اصطلاح بار بار سننے اور پڑھنے کو ملتی ہے: “جائیداد سے عاق کر دیا گیا” یا “عاق نامہ لکھ کر وراثت سے محروم کر دیا گیا”۔ یہ سرخیاں بظاہر عام محسوس ہوتی ہیں، لیکن اگر ان کا شرعی اور قانونی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں استعمال ہونے والی اصطلاحات عوام میں ایک بڑی غلط فہمی پیدا کر رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان سرخیوں کو ہی قانون اور شریعت سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔
سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ “عاق” کا لفظ عربی زبان کے لفظ “عقوق” سے نکلا ہے، جس کے معنی والدین کی نافرمانی، ان کی دل آزاری اور ان کے حقوق پامال کرنا ہیں۔ یعنی “عاق” وہ اولاد ہے جو اپنے والدین کے ساتھ بدسلوکی کرے یا ان کی نافرمانی کرے۔ اس لفظ کا تعلق اخلاقی اور دینی حیثیت سے ہے، نہ کہ وراثت کے خاتمے سے۔
قرآن مجید نے والدین کے مقام کو انتہائی بلند رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔”
(سورۃ الإسراء: 23)
رسول اللہ ﷺ نے بھی والدین کی رضا کو اللہ تعالیٰ کی رضا قرار دیتے ہوئے فرمایا:
“اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے۔”
(جامع الترمذی، حدیث: 1899)
ان تعلیمات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ والدین کی نافرمانی اسلام میں ایک سنگین گناہ ہے، لیکن قرآن و حدیث میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا کہ نافرمان اولاد خودبخود اپنے حقِ وراثت سے محروم ہو جاتی ہے۔
وراثت کے احکام اللہ تعالیٰ نے خود مقرر فرمائے ہیں۔ سورۃ النساء میں ارشاد ہوتا ہے:
“اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے…”
(سورۃ النساء: 11)
اسی سورہ کی آیات 12 اور 176 میں بھی وراثت کی مکمل تقسیم بیان کی گئی ہے۔ یہ حصے کسی بادشاہ، عدالت یا خاندان کے سربراہ نے مقرر نہیں کیے بلکہ اللہ تعالیٰ نے مقرر کیے ہیں۔ اس لیے کوئی شخص صرف ایک تحریر لکھ کر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کو ختم نہیں کر سکتا۔
اسی حقیقت کی تائید ممتاز دینی ادارے جامعہ علوم اسلامیہ، بنوری ٹاؤن کے دارالافتاء نے بھی کی ہے۔ ایک استفتاء کے جواب میں واضح کیا گیا:
“عاق کرنے کے معنی نافرمان قرار دینا ہے، جس کی میراث سے محرومی کے حوالے سے شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ اگر والد اپنی اولاد کو عاق قرار دے دے تو اس سے وہ میراث سے محروم نہیں ہوگا، بلکہ والد کی وفات کے بعد اپنے شرعی حصے کا حق دار رہے گا۔”
یہ فتویٰ نہ صرف “عاق” کے اصل مفہوم کو واضح کرتا ہے بلکہ اس غلط فہمی کو بھی دور کرتا ہے کہ عاق نامہ لکھتے ہی وراثت ختم ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے قانون میں بھی وراثت کے معاملات مسلم پرسنل لا اور اسلامی اصولوں کے مطابق طے کیے جاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی ملکیت کسی کو ہبہ (Gift) کر دے تو وہ الگ قانونی معاملہ ہے، لیکن وفات کے بعد ترکہ شریعت کے مطابق تقسیم ہوتا ہے۔ صرف “عاق نامہ” لکھ دینا کسی قانونی وارث کو اس کے شرعی حق سے محروم نہیں کرتا۔
بدقسمتی سے بعض اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز ایسی سرخیاں استعمال کرتے ہیں جیسے “جائیداد سے عاق کر دیا” یا “عاق نامہ لکھ کر وراثت ختم کر دی”۔ ایسی سرخیاں عوام میں یہ تصور پیدا کرتی ہیں کہ گویا “عاق نامہ” بذاتِ خود ایک قانونی دستاویز ہے جو وراثت ختم کر دیتی ہے، حالانکہ شرعی اور قانونی اعتبار سے یہ بات درست نہیں۔
صحافت صرف خبر دینے کا نام نہیں بلکہ درست معلومات پہنچانے کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایک لفظ کا غلط استعمال لاکھوں قارئین کے ذہن میں غلط تصور پیدا کر سکتا ہے۔ جب خاندان کے افراد ایسی سرخیاں پڑھتے ہیں تو بعض اوقات وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ والد یا والدہ کی ناراضی ہی وراثت ختم کرنے کے لیے کافی ہے، اور یہی غلط فہمی بعد میں گھریلو تنازعات، عدالتوں میں مقدمات اور رشتوں میں مزید تلخی کا سبب بن سکتی ہے۔
اس لیے ملک کے تمام اخبارات، نیوز چینلز، ویب سائٹس اور ڈیجیٹل میڈیا سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اس اصطلاح کے استعمال پر نظرِ ثانی کریں۔ اگر کسی والد نے اپنی اولاد سے ناراضی یا لاتعلقی کا اظہار کیا ہے تو خبر اسی انداز میں شائع کی جائے۔ “جائیداد سے عاق” جیسی سرخیوں کے بجائے یہ لکھنا زیادہ درست ہوگا کہ “والد نے اولاد سے لاتعلقی کا اعلان کیا” یا “والد نے عاق نامہ جاری کیا، تاہم وراثت کا فیصلہ قانون اور شریعت کے مطابق ہوگا۔”
یہ تبدیلی صرف الفاظ کی تبدیلی نہیں ہوگی بلکہ ایک ایسی صحافتی اصلاح ہوگی جو لاکھوں لوگوں کو غلط فہمی سے بچا سکتی ہے۔ صحافت اگر درست اصطلاحات استعمال کرے گی تو نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ بہت سے خاندانی تنازعات اور غیر ضروری عدالتی مقدمات کی حوصلہ شکنی بھی ہوگی۔
آخر میں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ “عاق” ایک اخلاقی اور دینی اصطلاح ہے، جبکہ وراثت اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ قانونی اور شرعی حق ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کا مترادف بنا دینا نہ علمی دیانت کے مطابق ہے، نہ شرعی اصولوں کے، نہ قانونی تقاضوں کے اور نہ ہی ذمہ دار صحافت کے۔ امید ہے کہ ہمارے اخبارات، الیکٹرانک میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم اس اہم مسئلے پر غور کریں گے اور آئندہ ایسی اصطلاحات استعمال کریں گے جو حقیقت پر مبنی، قانون سے ہم آہنگ اور عوام کی صحیح رہنمائی کا ذریعہ ہوں


