پیڑولیم لیوی سے ریکارڈ آمدن اور بالواسطہ ٹیکسز/ اطہر شریف

پاکستان کے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی وصولی میں بالواسطہ اور بالواسطہ ٹیکسوں کا حصہ تقریباً %48.7 فیصد براہ راست ٹیکس اور %51.3 فیصد بالواسطہ ٹیکس ہے۔ جب کہ پاکستان تاریخی طور پر بالواسطہ محصولات پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے،

پیٹرولیم لیوی (Petroleum Development Levy – PDL) پاکستان کی وفاقی حکومت کی نان-ٹیکس آمدنی کا ایک بہت بڑا اور مضبوط ذریعہ بن چکی ہے۔ چونکہ یہ ایک بالواسطہ فکسڈ ٹیکس (Indirect Fixed Tax) ہے، اس لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود وفاقی بجٹ کو اس سے ایک مستقل اور قابلِ بھروسہ آمدن حاصل ہوتی رہتی ہے۔پیٹرولیم لیوی کے نظام، موجودہ شرح اور ملکی معیشت پر اس کے اثرات کی تفصیل درج ذیل ہے:1۔ موجودہ شرح اور ٹیکس کا بوجھ (Current Rates)حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں ایک بڑا حصہ لیوی اور دیگر ڈیوٹیز کی مد میں وصول کرتی ہے۔پیٹرول (Petrol): فی لیٹر قیمت پر 80.00 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔ڈیزل (HSD): ہائی اسپیڈ ڈیزل پر اس وقت 73.47 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے۔کلائمیٹ سپورٹ لیوی: اس کے علاوہ ماحولیاتی تحفظ کے لیے دونوں ایندھنوں پر 5.00 روپے فی لیٹر اضافی “کلائمیٹ لیوی” بھی لی جاتی ہے۔مجموعی سرکاری بوجھ: اگر کسٹمز ڈیوٹی (Customs Duty) کو بھی شامل کیا جائے، تو حکومت پیٹرول پر کل 106.24 روپے اور ڈیزل پر 94.15 روپے فی لیٹر براہِ راست اپنے خزانے میں جمع کرتی ہے 2۔ وفاقی حکومت کے لیے اس کی اہمیتصوبوں کے ساتھ تقسیم سے استثنیٰ: عام ٹیکسز (جیسے سیلز ٹیکس یا انکم ٹیکس) کا بڑا حصہ این ایف سی (NFC) ایوارڈ کے تحت صوبوں میں بانٹنا پڑتا ہے۔ لیکن پیٹرولیم لیوی کی 100٪ رقم وفاقی حکومت کے پاس رہتی ہے۔ اسی لیے وفاق اپنے بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے اس پر سب سے زیادہ تکیہ کرتا ہے۔آئی ایم ایف (IMF) کا دباؤ: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے پروگرام کے تحت پاکستان پر یہ شرط عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے خسارے کم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی کے اہداف کو ہر صورت پورا کرے۔3۔ ریکارڈ ریکوری اور ملکی معیشت پر اثرتاریخی آمدن: گزشتہ مالی سال (26-2025) کے دوران حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں ریکارڈ1567 ارب روپے عوام کی جیبوں سے اکٹھے کیے ہیں، جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں 29 فیصد زیادہ ہے۔بجٹ کا لائف سپورٹ: وفاقی بورڈ آف ریونیو (FBR) کے پاس جمع ہونے والے ہر 5 روپوں میں سے تقریباً 1 روپیہ (20%) صرف ایندھن کے ٹیکسوں اور لیوی سے حاصل ہوتا ہے۔ اکیلے جولائی کے ایک مہینے میں اس مد میں 166 ارب روپے اکٹھے ہوئے۔عام آدمی پر اثر: لیوی کی اس بھاری شرح کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل سستا ہونے کے باوجود پاکستان میں قیمتیں نیچے نہیں آپاتیں۔ ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری (ٹرانسپورٹیشن) اور زراعت کی لاگت بڑھتی ہے، جو ملک میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہے
مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم لیوی کی مجموعی وصولی ریکارڈ 1,567 ارب روپے (1.567 ٹریلین روپے) رہی ہے۔ یہ رقم حکومت کے مقرر کردہ 1,468 ارب روپے کے ہدف سے تقریباً 99 ارب روپے زائد ہے، جو کہ وفاقی حکومت کی نان ٹیکس اور کُل محصولات کا ایک انتہائی اہم اور بڑا حصہ شمار ہوتی ہے۔اہم تفصیلاتوصولی کا حجم: 1,567 ارب روپے پیٹرولیم لیویاضافہ: گزشتہ سال کے مقابلے میں لیوی کی وصولی میں 29 %فیصد (تقریباً 347 ارب روپے) اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔دیگر لیویز: اس کے علاوہ کلائمیٹ سپورٹ لیوی (موسمیاتی لیوی) کی مد میں بھی 50 ارب روپے سے زائد کی الگ وصولی کی گئی۔

پاکستان میں وفاقی پیٹرولیم لیوی نے ریکارڈ ٹیکس کی پیداوار حاصل کی۔ مالی سال کے دوران 1.567 ٹریلین، کل وفاقی ٹیکس اور غیر ٹیکس سے پیدا ہونے والے وسائل کا تقریباً 12% سے 15% بنتا ہے۔ چونکہ لیویز کو قابل تقسیم پول سے باہر رکھا جاتا ہے، اس لیے وہ ایک اہم 100% وفاقی برقرار رکھنے والے سلسلے کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پیٹرولیم لیوی کی وصولی مالی سال 26-2025 میں ریکارڈ 1567 ارب 45 کروڑ روپے پرپہنچ گئی۔

پیٹرولیم لیوی کی وصولی حکومتی ہدف اور آئی ایم ایف کے تخمینے سے بھی زیادہ رہی، کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 50 ارب 16 کروڑ روپے کی الگ وصولی کی گئی۔
مالی سال 26-2025 میں لیوی کی وصولی میں347 ارب 24 کروڑ روپےکا اضافہ ہوا، پیٹرولیم لیوی کی وصولی حکومتی ہدف سے تقریبا 100 ارب روپے زیادہ رہی۔
گزشتہ مالی سال لیوی کی وصولی آئی ایم ایف کے تخمینے سے 21 ارب روپے زیادہ رہی، مالی سال 26-2025 کے لیے آئی ایم ایف نے پیٹرولیم لیوی وصولی کا تخمینہ 1546 ارب روپے لگایا تھا جبکہ پیٹرولیم لیوی کی وصولی کا حکومتی ہدف 26-2025 میں 1468ارب روپےمقرر تھا۔
مالی سال 25-2024 میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی 1220 ارب21 کروڑ روپے تھی جبکہ مالی سال 24-2023 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی ایک ہزار 19ارب روپے تھی۔ مالی سال 23-2022 میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں وصولی 580 ارب روپے تھی۔
اس وقت پیٹرول پر 80 روپےفی لیٹر پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر77روپے28 پیسے فی لیٹرکےحساب سےلیوی عائد ہے، پیٹرول، ڈیزل پر 5،5 روپےفی لیٹر کےحساب
سےکلائمیٹ سپورٹ لیوی الگ سے عائد ہے۔

SOURCE:National account dashboard

اپنا تبصرہ لکھیں