مشترکات/حسان عالمگیر عباسی

ایک پرانے سیاسی کارکن سے سرِراہ ملاقات ہو گئی۔ ہماری جب بھی ملاقات ہوتی ہے تو دو تین جملوں میں ختم ہو جاتی ہے۔ وہ حکومتِ وقت کے سرگرم دیوانوں میں شمار ہوتے ہیں، اور دیوانوں سے دو جملے بھی بہتیرے ہوتے ہیں۔ دو تین علاقائی فلاح کے منصوبوں پر اتفاق ہوا۔ کون پاگل نہیں چاہے گا کہ “ستھرا پنجاب” جیسے سنہری منصوبے پھلیں پھولیں؟ اور کون ہوگا جو سڑکوں، موٹرویز یا دیگر ترقیاتی منصوبوں سے انکار کرے؟ ترجیحات اپنی جگہ، لیکن قومیں بہرحال سڑکوں سے ہی بنتی ہیں۔ پل بھی ضروری ہیں۔ طلبہ کسی بھی سیاسی جماعت سے ہوں، بہرحال جین زی اکثریت انصاف پسند ہے, گمانِ غالب سے تحریکِ انصاف سے منسلک ہے۔ اکثریت نظریاتی کارکن نہیں، بس دیوانے ہیں۔ خان صاحب نے اپنے لب و لہجے سے کسے متاثر نہیں کیا؟ بہرحال، جس جماعت سے بھی ہوں، جمہوریت میں درج اصولوں سے ان کا سیاسی شعور یا رجحان ثابت ہے۔ طلبہ کسی بھی جماعت کے ہوں، لیپ ٹاپ سب کو چاہیے۔ اور کون ہوگا جو گرین بسز جیسی سہولیات سے انکار کرے؟ اور بلا مبالغہ دلیل بھی مضبوط ہے کہ یہ عوامی منصوبے کسی کی ذاتی جیب سے نہیں چلتے، یہ عوام کے اپنے ٹیکس کی جمع پونجی ہے۔ بہرحال موضوع یہ نہیں ہے۔ موضوع یہ ہے کہ گرین منصوبوں پہ اتفاق کے بعد میں نے بات آگے بڑھائی اور کہا کہ اہلِ سیاست کو فرقہ واریت سے بچنا چاہیے۔ ایک زمانے میں مذہبی منافرت کا چرچا تھا، اب بھی ہے، لیکن سیاسی منافرت بھی بڑھ گئی ہے۔ کوئی انکار نہیں کرے گا کہ ماضی میں انتخابات میں شفافیت کا فقدان رہا اور اب بھی حسبِ معمول جمہوریت کا دھڑن تختہ ہوا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس سے بھری پڑی ہے۔ پہلی بار فارم 45 کے معاملے پر حکومت نہیں بنی۔ ہم جن سیاسی جماعتوں کو آج برا بھلا کہتے ہیں، ان کی تاریخ بھی بہرحال اپنی اپنی نوع کی قربانیوں سے بھی بھری پڑی ہے۔ انہوں نے جیلیں کاٹی ہیں، جلا وطنی جھیلی ہے، اور سولی بھی چڑھے ہیں۔ ایک مخصوص سطح سے آگے بڑھنے ہی نہیں دیا گیا چونکہ سسٹم کی مجبوری بنا دی گئی ہے۔ ہمارے ہاں آدھا سچ ہے لیکن آدھا سچ بھی شعور کی ہی لڑی ہے! انکار نہیں ہو سکتا! ہمارے ہاں شفافیت کا مسئلہ بہرحال رہا ہے۔ ازل سے ابد تک کا معاملہ ہے! لیکن جو بھی جمہوری حکومت بنتی ہے وہ شفافیت کے صابن سے نہا کر نہیں آتی۔ ہر بار کوئی ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے اور حکومت اپنی مدت بھی پوری نہیں کر پاتی۔ اہلِ سیاست ایک دوسرے کی برائیاں کرتے ہیں، پھر بھی جوڑ توڑ، اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے جمہوری کلچر کسی طرح چلتا رہتا ہے۔ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ دھاندلی ہوئی ہے، لیکن جب نتائج شائع ہو جاتے ہیں تو پارلیمان کی خاطر مان لیتے ہیں۔ دلیل یہ دیتے ہیں کہ ‘لولی لنگڑی جمہوریت، بہترین آمریت سے بہتر ہے’ اور آہستہ آہستہ بہتری آ جائے گی۔ لیکن اس بار جن زی نے، بالخصوص ایک سیاسی جماعت نے، فارم 45 اور دھاندلی پر اس حد تک مزاحمت کی کہ طاقت کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی۔ نوجوانوں کا ماننا تھا کہ یہ “شعور کا قتل” ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ بجا ہیں۔ بعد میں حالات کا رخ بدل گیا۔ عالمی جنگ، پاکستان کا کردار، اور سفارتی محاذ پر کامیابیاں موضوع بن گئیں۔ جب ملک کا جھنڈا عالمی افق پر لہرا رہا تھا تو اختلافات پیچھے رہ گئے، رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ فورسز میں اسی قوم کے جوان ہوتے ہیں اور وہ ہر طرح کی قربانی دیتے ہیں۔ اس لیے فورسز کی تکریم پر سب متفق ہو جاتے ہیں۔ اور طاقتور حلقوں سے ذاتی اختلافات اس وقت تک ملتوی ہو جاتے ہیں جب تک جیسی تیسی جمہوریت کا سورج طلوع نہ ہو جائے۔ فی الحقیقت دنیا میں روح کے مطابق جمہوریت غالباً کہیں نہیں ہے۔ ورنہ دوسری، تیسری عالمی جنگ کی نوبت نہ آتی۔ دنیا مشترکہ طور پر ترقی کرتی۔ ہر جگہ ہائبرڈ نظام ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ فلاں ملک میں جمہوریت ہے اور یہاں نہیں، یہ دلیل کمزور ہے۔ اگر وہاں جمہوریت ہے تو اپنے مفاد کے لیے ہے۔ تیسری دنیا میں جمہوریت کو کمزور کرنا ان کا بہرحال ایجنڈا ہے تاکہ انحصار قائم رہے۔ میں نے ان سے بات بڑھائی، کہا: پی ٹی آئی والے بھی ہمارے بھائی ہیں۔ ان کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ کل آپ کے ساتھ ہوگی تو نفرت مزید بڑھے گی اور وہ ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے۔ جواب میں ان کا ردِعمل سخت تھا۔ کہنے لگے: یہ ہماری بے عزتی ہے کہ انہیں بھائی کہا جائے۔ ساتھ بیٹھے ساتھیوں نے تائید میں سر ہلایا۔۔ یہ لہجہ بتا رہا تھا کہ یہاں جمہوریت کیسے پنپ سکتی ہے۔ یہی صورتحال باقی جماعتوں میں بھی ہے۔ خود پی ٹی آئی بھی سمجھ بیٹھی ہے کہ صرف خان صاحب ہی ملک کو بچا سکتے ہیں۔ جمہوریت میں “مائی باپ کلچر” نہیں ہوتا۔ خان صاحب کے رویوں میں سختی تھی۔ اس سختی کو بھانپ کر نوجوانوں نے بہرحال امید پکڑی اور موروثی سیاست کے مقابلے میں نیا بیانیہ بنا دیا گیا۔ لیکن چونکہ پاکستان کی پرانی سیاسی تاریخ کے مقابلے میں کوئی مؤثر ہم پلّہ متبادل عملاً پیش نہ کیا جا سکا، اس لیے صورتحال نفرت اور حقارت میں بدل رہی ہے۔ آج حالات یہ ہیں کہ کارکن سیکیورٹی اداروں سے بھی الجھ رہے ہیں۔ محاذ آرائی بڑھ رہی ہے۔ اس کا فائدہ نہیں۔ کیونکہ جو بھی آئے گا، موجودہ حالات میں باہمی مفاہمت کے بغیر نہیں آ سکے گا۔ جب حالات برابر تھے تب بھی ایسا ہی تھا۔ اب جب حالات ناہموار ہیں تو غیر آئینی انتقالِ اقتدار کے امکانات غالباً مزید بڑھ رہے ہیں۔ یہ ظلم ہے لیکن کل اگر ڈیل ہو جاتی ہے اور جن زی اپنی پسند کی قیادت کو ووٹ اور “اجازت” سے ایوانوں تک پہنچا بھی دیتی ہے، تو آنے والی حکومت کو بہرحال متفقہ حکمت عملی سے چلنا ہوگا۔ کیونکہ خارجہ اور داخلہ پالیسیاں جڑی ہوئی ہیں اور ادارے جمہوریت میں اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک آئیڈیل جمہوریت تک یہ ہوتا رہے گا اور آئیڈیل جمہوریت عالمی صورتحال سے منتج ہے۔۔ لہذا سیاسی جماعتوں اور قیادت کو چاہیے کہ اپنے رویوں پہ نظرِثانی کریں تاکہ قوم متحد ہو سکے اور ترقی کے دروازے کھلیں۔ اس ملک میں جمہوریت اور شفافیت ناگزیر ہے۔ لیکن سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ کارکنان کو غلام نہ بنائیں، شعوری اپاہج بنانے سے گریز کریں، خود کو دیوتا، دیوی، دیو مالائی کہانیوں کا ہیرو بنا کر پیش کرنے سے کترائیں، پوری قوم کو مانسٹرز بنانے سے اجتناب برتیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو اکیڈمیز بنائیں اور قوم کی تربیت کریں۔ غیر منطقی مقابلے کی بجائے باہمی دلچسپیوں کی طرف پیش قدمی کو شعار بنائیں۔ اگر ہم نے “بدقماش جمہوریت” ہی چلانی ہے تو اس کا فائدہ ہر دو صورتوں میں صرف طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ایک مخصوص ذہن کو پہنچے گا۔ جمہوریت مزید خراب ہو گی۔۔ اور اداروں سے براہِ راست ٹکراؤ کا فائدہ قوم کو کبھی نہیں ہوا البتہ شعوری جدوجہد اور ارتقائی مراحل جمہوریت کی بقا اور احیاء کے لیے ناگزیر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں