چند دن پہلے کی بات ہے، شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف سے ایک دوست نے سراسیمگی کے عالم میں اطلاع دی: “یار! سنعانوان کے قریب مظفرگڑھ کینال میں سواریوں سے بھرا ایک لوڈر رکشہ الٹ گیا ہے… خبر آ رہی ہے کہ اس میں پچیس چھبیس انسان سوار تھے جو پانی کے تیز بہاؤ میں ڈوب گئے، کئی ہلاکتوں کا خدشہ ہے!”
میں نے تڑپ کر اس کی بات کاٹی: “چھوڑو یار! سوشل میڈیا کے اس دور میں سنسنی پھیلانے کے لیے لوگ کچھ بھی گھڑ لیتے ہیں۔ ایک سامان ڈھونے والے چھوٹے سے لوڈر رکشے میں اتنی روحیں کیسے سما سکتی ہیں؟ یہ لازماً کوئی من گھڑت کہانی ہے۔” دوست نے بھی ٹھنڈی آہ بھری: “ہاں، اتنے بندے تو کسی چھوٹی بس میں مشکل سے پورے آتے ہیں، لوڈر رکشے میں ان کا بیٹھنا عقل سے باہر ہے۔”
ہم نے خود کو تسلی تو دے دی، مگر وہ زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ کچھ ہی دیر بعد ٹی وی اسکرینوں پر سرخ پٹیاں چیخ چیخ کر سچائی بیان کرنے لگیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایک ہی خبر کا شور تھا: سنعانوان کے قریب مظفرگڑھ کینال میں پچیس چھبیس سواریوں سے بھرا لوڈر رکشہ نہر میں جا گرا!
تبصروں کی ایک بے رحم بچھاڑ شروع ہو گئی۔ کسی نے کہا: “عوام کو خود عقل نہیں، مال بردار رکشے میں کیوں سوار ہوئے؟” کسی نے رکشے والے کو لالچی قرار دیا، تو کسی نے مسافروں کی مجبوری پر سوال اٹھایا۔ غرض ہر شخص اپنی جگہ قاضی بن کر ان مظلوم مسافروں کے کاغذاتِ جرم تیار کر رہا تھا۔
لیکن اس شور میں ایک ہولناک سچائی نہر کی لہروں میں گم ہو گئی۔
آخر وہ کون سا معاشی جبر تھا جس نے اس غریب ڈرائیور اور اتنے سارے انسانوں کو مال بردار رکشے کی کھلی باڈی میں سوار ہونے پر مجبور کیا؟ مسافر گاڑی کا کرایہ ادا نہ کر پانا وہ حقیقت ہے جس میں غریب سے محفوظ سفر کا حق بھی چھن جاتا ہے۔ کسی خوشی یا غم کی تقریب میں شرکت کے لیے یہی لوڈر رکشہ ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔ یہاں صرف ڈرائیور کا لالچ نہیں، دونوں طرف پسی ہوئی عوام کی سانجھی بے بسی بھی ہے۔
مگر اس معاشی جبر سے بھی بڑا المیہ ہمارا معاشرتی رویہ اور اجتماعی بے حسی ہے۔
جب وہ لوڈر رکشہ سنعانوان کے بازاروں اور چوراہوں سے گزر رہا ہو گا تو کتنے ہی لوگ اسے دیکھ رہے ہوں گے۔ وہی لوگ جو موٹر سائیکل پر جاتی کسی خاتون کا دوپٹہ ذرا سا نیچے لٹک جائے تو فوراً “باجی دوپٹہ سنبھال لیں” کی آواز لگا کر اپنی قومی نیکی کا فرض ادا کرتے ہیں، آخر اس وقت خاموش کیوں رہے؟ کاش کوئی ایک صاحبِ دل شخص آگے بڑھتا اور ان مسافروں کو اس خطرناک سفر پر ٹوک دیتا۔ کاش کوئی صاحبِ استطاعت اپنے پاس سے انہیں دوسری گاڑی کروا دیتا۔ شاید آج کئی گھروں کے چراغ نہ بجھتے۔
ٹریفک انتظامیہ کا کردار بھی ایک بڑا سوال بن کر سامنے آتا ہے۔ بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل سوار کو روکنے کے لیے ناکوں پر پولیس موجود ہوتی ہے، مگر اتنے انسانوں سے لدا یہ موت کا سفر پورے شہر کے سامنے سے گزر گیا اور کسی اہلکار کو دکھائی نہ دیا۔ کیا ہمارے قانون کا مقصد صرف جرمانوں کی رسیدیں کاٹنا ہے، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا نہیں؟
سوال صرف یہ نہیں کہ رکشے میں اتنے لوگ کیوں سوار تھے؛ سوال یہ بھی ہے کہ اسے اتنے انسانوں کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت کس مرحلے پر ملی؟ گاڑی کی فٹنس کس نے دیکھی، روٹ پر نگرانی کس کی ذمہ داری تھی اور گنجائش سے کہیں زیادہ مسافروں کو روکنے کا نظام کہاں تھا؟ حادثے کے بعد ڈرائیور کو ذمہ دار قرار دینا آسان ہے، مگر حادثے سے پہلے خطرہ روکنا ہی اصل انتظامی ذمہ داری ہے۔
حادثے کی خبر پھیلتے ہی علاقے کے لوگ نہر کے کنارے پہنچ گئے اور اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو ٹیموں کے ساتھ مل کر لاشوں کی تلاش میں پانی میں اترتے رہے۔ نہر سے لاشیں نکلتی رہیں اور جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ ان میں معصوم بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں جو ایک خوشی کی تقریب سے مسکراتے ہوئے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔
یہیں سے وہ بھیانک سوال جنم لیتا ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر کے منہ پر طمانچہ ہے:
کیا اس ملک میں غریب ہونا اور جینے کی کوشش کرنا ہی سب سے بڑا جرم ہے؟
ہم نہر کے کنارے کھڑے ہو کر ڈوبنے والوں سے ان کی غلطی کا حساب مانگتے ہیں، مگر نظام کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے ہماری زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ ہم یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ حکومت نے شہری ٹرانسپورٹ کے لیے منصوبے تو بنائے، مگر کیا ان سہولتوں کا دائرہ اُن دیہی راستوں اور آبادیوں تک بھی پہنچا ہے جہاں عام آدمی آج بھی غیر محفوظ سواریوں پر سفر کرنے پر مجبور ہے؟
یہ سانحہ محض ایک “ٹریفک حادثہ” نہیں، بلکہ ہمارے انتظامی نظام کی ناکامی کا سوال ہے۔ اگر اسے صرف ایک روایتی خبر سمجھ کر فائلوں میں دفن کر دیا گیا تو اصل سوال ہمیشہ زندہ رہے گا:
ہم نے انسان کو اس حد تک بے بس کیوں بنا دیا کہ وہ جینے کی کوشش میں موت کے سفر پر نکل پڑا؟
مظفرگڑھ کینال نے کئی زندگیاں نگل لیں، مگر سوال صرف یہ نہیں کہ رکشہ نہر میں کیسے گرا۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ رکشہ اتنے انسانوں کو لے کر نہر تک پہنچا ہی کیسے؟
اگر اس سوال کا جواب بھی کاغذی کارروائیوں میں دفن کر دیا گیا تو اگلی بار شاید نہر کا نام مختلف ہو، رکشہ مختلف ہو، مگر خبر وہی ہوگی۔
سلگتا اشارہ
حادثے کے بعد لاشیں نکال لینا ریسکیو ہے، مگر حادثے سے پہلے زندگی بچا لینا نظام کی اصل کامیابی ہے۔


