تسنگ نامہ (1)-ظفر سید

(میر کی ایک مثنوی پر مضمون لکھنا شروع کیا۔ خیال تھا کہ دو تین دن میں مکمل ہو جائے گا مگر رائتہ پھیلتا گیا اور ایک مہینے سے زیادہ کا وقت لے گیا۔ کوئی 20 کے لگ بھگ کتابیں کھنگالنا پڑیں، مضامین مستزاد۔ بھلا ہو سنجیو صراف کا کہ ریختہ کی شکل میں خزانے کی جو کوٹھڑیاں رچا دی ہیں وہ کسی بھی محقق کے لیے بےبہا ہیں۔ صرف ایک مثال کہ گیان چند جین کی کتاب میں دہلی کالج میگزین کے ایک رسالے کا حوالہ ملا۔ آج سے دس پندرہ سال پہلے بھلا وہ رسالہ کہاں سے ملتا؟ خود دہلی کالج سے بھی نہیں۔ لیکن یہاں یہ حال کہ ڈیڑھ منٹ کے اندر اندر مطلوبہ مضمون آنکھوں کے سامنے تھا۔)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تسنگ نامہ اور معاملات عشق: میر کی زمیں، میر کا آسماں

اردو تنقید نے میر تقی میر کی جو مورت ہمارے حافظے کے طاق میں تراش کر چن دی ہے وہ ایک ایسے شاعر کی ہے جو درد کا امام ہے، خارج سے زیادہ داخل پر توجہ مرکوز کرنے والا ہے، اپنے آپ میں مگن، گوشہ نشین، مردم بیزار جو لوگوں سے بات کرنے سے گریز کرتا ہے کہ کہیں اس کی زبان خراب نہ ہو جائے۔ میر کی غزل سے سینکڑوں دلیلیں اس مورت کو جلا دینے والی مل جاتی ہے، جس سے وہ چمک کر آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے۔

لیکن بہت سے لوگ بھول جاتے ہیں کہ میر نے صرف غزل نہیں لکھی، وہ مثنوی کے بھی بڑے شاعر ہیں۔ ان کی انتالیس مثنویاں تو ریختہ پر یونی کوڈ میں موجود ہیں۔ لیکن ان مثنویوں میں بھی نقادوں کی زیادہ تر توجہ عاشقانہ اور داستانوی مثنویوں پر رہی ہے، جن میں ’دریائے عشق،‘ ’شعلۂ عشق‘ ’مور نامہ‘ اور ’خواب و خیال‘ وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن میر کی ایک اور قسم کی مثنوی بھی ہے جو بالکل دب کر رہ گئی ہے، اور وہ ہے سفرنامہ مثنوی۔

ایسی ہی مثنوی ’تسنگ نامہ‘ ہے جو میر کے ہاں ہی نہیں، اردو ادب میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس مثنوی میں میر نے ایک عجیب شرارت کی ہے اور اپنی ایک اور مثنوی میں اسی کا حوالہ دے کر اسے اپنی ایک عشقیہ واردات سے اس عجیب طریقے سے جوڑ دیا ہے جس سے میر کی ایک نئی شخصیت سامنے آتی ہے۔ اس کی تفصیل تو بعد میں آئے گی، پہلے ہم تسنگ نامہ پر ایک نظر دوڑا لیں۔
اس مثنوی میں بنیادی موضوع سراسر خارج کی دنیا ہے، داخل کی روایتی دنیا کو اس میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ یہاں دل کا دشت موضوعِ بحث نہیں، اصل ویرانوں کی منظر کشی ہے، آنکھیں دریا سی نہیں بہتیاں، بلکہ اصل ساون ٹوٹ کر برسا ہے اور اصل جمنا دریا نے بپھر کر بستی اور ویرانے کو دوآبہ بنا ڈالا ہے۔ اس مثنوی کے مرکزی مقامات عاشق کا ویران گھر، محبوب کا ظالم کوچہ، میکدہ وغیرہ نہیں، میرٹھ کے پار کی ایک اجاڑ گڑھی ہے۔ فراقِ یار کی شب نہیں، برسات کی وہ رات ہے جس میں کتے ہانڈیاں پھوڑتے پھرتے ہیں، اور ظالم سماج کا کردار سرائے کی وہ بھٹیاری ادا کر رہی ہے جو دروازہ کھولنے سے پہلے مسافر کی جیب ٹٹولتی ہے۔

اس مثنوی کا نام ’تسنگ نامہ‘ ہے (بعض نسخوں اور ریختہ پر نسنگ نامہ درج ہے مگر اصل نام تسنگ ہے، تفصیل اس تحریر کے آخر میں)۔ یہ میرٹھ کے قریب ایک قصبہ ہے جہاں میر کو اپنے کسی مربی نواب اور ان کے ساتھیوں کے ہمراہ پہنچنا تھا۔ کیوں پہنچنا تھا، اس کا ذکر مثنوی میں نہیں، اور میر کی آپ بیتی ’ذکر میر‘ بھی اس سفر کے بارے میں لب بند ہے، اس لیے ہم صرف اتنا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مربی صاحب کو کوئی ہنگامی نوعیت کا کام درپیش تھا، اس لیے وہ اپنے مصاحبوں (’میر اور پیر صاحب و چاکر‘) کے ہمراہ تسنگ روانہ ہو گئے۔ معاملے کی ناگزیری اس سے ظاہر ہے کہ سخت ناسازگار موسم میں عازمِ سفر ہونا پڑا۔

مثنوی کے مطابق یہ ٹولا بھری برسات میں دلی سے نکلا، دریا پار کر کے شاہدرہ گیا، پھر غازی آباد، بیگم آباد اور میرٹھ سے ہوتے ہوئے لاوڑ اور وہاں سے تسنگ آن پہنچا اور یہ مثنوی اسی سفر کی روداد ہے۔ آغاز ہی سے لہجہ بتا دیتا ہے کہ ہم غزل کے میر کے ساتھ نہیں چل رہے:

ہم کو درپیش تب سفر آیا
جب کہ برسات سر ہی پر آیا

راستے کیچڑ سے اٹے ہیں، بیل گاڑی کے بیل ایسے غبی کہ شاعر انہیں ’بھینس چہلے کے‘ (یعنی کیچڑ میں لتھڑی بھینسیں) کہتا ہے، اور آسمان و زمین کا نقشہ ایک شعر میں یوں کھینچتا ہے:

آسماں آب سب، زمیں سب کیچ
خاک ہے ایسی زندگی کے بیچ

پھر دریائے جمنا کا پاٹ جسے نے صرفہ ہے، نے محابا۔ بھنور، حباب، ڈوبنے کا ایسا قشعریرہ جس نے پانی سے متعلق دو پیغمبر میر کو یاد دلا دیے:

بہتا پھرتا تھا خضر کشتی پاس
غوطے کھاتے تھے حضرت الیاس

لیکن جب دریا پار کر اترے تو راستے کیچڑ سے اٹے پڑے تھے۔ ایک کوس کا سفر ایک دن بھر وقت میں طے کر کے یہ رنگا رنگ قافلہ ایک گاؤں پہنچا، جس کا عجیب نقشہ میر صاحب نے صرف دو مصرعوں میں کھینچ کر رکھ دیا ہے:

سو نہ جاگہ تھی نہ مکانِ مبیت
چار دوکانیں ایک پھوٹی مسیت

مُبیت: شب باشی کی جگہ

یہاں ایک سرائے تھی، جس کی پروپرائٹر ایک تند خو بھٹیاری ہے۔ بظاہر میر صاحب نواب کے مینیجر ہیں اور ان کے ذمے سارے انتظامات کرنا ہیں، اس لیے جب وہ بھٹیاری سے کھانے کی فرمائش کرتے ہیں تو وہ الٹا انہی پر گرم ہو جاتی ہے کہ اپنے ساتھ کھانے پکانے کا سامان کیوں نہیں لائے؟ اس موقعے پر وہ جو طنز کرتی ہے وہ ڈھائی صدی کے بعد آج بھی ریڑھ کی ہڈی کو جھنجھنا دیتا ہے:

سو تو نکلے ہو کورے بالم تم
ہو گدا جیسے شاہ عالم تم

ذرا سوچیں ایک گاؤں کی بھٹیاری دہلی تخت پر بیٹھے حاضر سروس مغل شہنشاہ پر چھینٹا اچھال رہی ہے۔ یہ وہی شاہ عالم ہے جو اورنگ زیب عالمگیر کا پڑپوتا اور محمد شاہ رنگیلا کا چچا زاد ہے اور جس کی سلطنت کے بارے میں کہاوت چل نکلی تھی کہ از دلی تا پالم ’پھیلی ہوئی‘ ہے (پالم دلی کا مضافاتی علاقہ جو اس وقت شہر کے اندر آ گیا ہے)۔ دراصل نادر شاہ اور احمد شاہ کی یورشوں، مرہٹوں کی شورشوں اور انگریزوں کی سازشوں نے بادشاہ کو شاہِ شطرنج، بلکہ بقول میر، چہلے کا بھینس‘ بنا دیا تھا، اور حیرت انگیز بات ہے کہ بھٹیاری شہر سے دور بیٹھ کر بھی قومی سیاسی معاملات اور ملکی معیشت سے پوری طرح آگاہ ہے۔ بھٹیاری نے بادشاہِ وقت کو جو چٹکی کاٹی ہے اس میں کردار نگاری بھی آ گئی ہے، طبقاتی طنز بھی، اور اٹھارہویں صدی کے ہندوستان کے زوال کی تاریخ بھی۔

خیر، بھٹیاری کو پیچھے چھوڑ کر اگلی صبح یہ سست رو کارواں وہاں سے نکلا اور غازی آباد جا پہنچا۔

یہاں ایک عجیب سانحہ پیش آیا۔ میر صاحب کی ایک بلی تھی، جس پر انہوں نے ایک الگ مثنوی موہنی بلی کے نام سے لکھ رکھی ہے جس میں اس بلی کی خوبیاں بیان کی گئی ہیں۔ موہنی نے دو بچے دیے جن کے نام موہنی اور سوہنی تھے۔ بظاہر اسی سوہنی کو میر صاحب اپنے ساتھ تسنگ کے اسی سفر پر لے گئے تھے۔ یہ سوہنی ان سے غازی آباد میں گم ہو گئی، اور بلی بھی ایسی ویسی بلی نہیں:

کیا نفاست مزاج کی کہیے
ستھری اتنی کہ دیکھ ہی رہیے

خال جوں پھول گل کترتے ہیں
یا کہ نقشوں میں رنگ بھرتے ہیں

(اس پر اگر کسی کو مشہورِ زمانہ ناول ’رتی‘ میں جناح صاحب کی اہلیہ کی بلی دلی کے ہوٹل میں گم ہونے والا واقعہ یاد آ جائے تو اس کی یادداشت اور ذوق دونوں کی داد دینی چاہیے!)

میر نے جس دلدوزی سے سوہنی کا مرثیہ باندھا ہے اسے پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے حساس، نرم دل اور ہمدرد انسان تھے۔ لیکن یہاں اگر کوئی پوچھے کہ اتنے جوکھم کے سفر میں بلی کو کیوں ساتھ لے گئے تو اس کا سوال بھی بجا ہے۔

خیر میر صاحب نے پوری بستی الٹا دی مگر ’بیگم مزاج‘ سوہنی کا سراغ نہ ملا۔ یہ بےبلی قافلہ وہاں سے کوچ کر کے آگے چلا اور برستی بارش میں بیگم آباد اور میرٹھ سے ہوتا ہوا تسنگ جا پہنچا۔ یہاں بڑے دلچسپ حالات و واقعات پیش آئے جن کو میر نے اپنے بےمثال اسلوب میں زندہ کر دیا ہے۔ یہاں ایک آثار قدیمہ نما گڑھی میں یہ لوگ ٹھہرے، اور غالباً کئی دن ٹھہرے کیوں کہ میر نے یہاں کی خوب تفصیل بیان کی ہے۔ بارش اب بھی پیچھا نہیں چھوڑ رہی اور حویلی کی کبھی کوئی دیوار گر جاتی ہے، کبھی کوئی دوسری۔ مستری کو بلاتے ہیں تو آگے سے سو بہانے کرتا ہے۔

ظاہر ہے کہ دیوار نہیں تو کیڑے مکوڑوں کو گویا کھلی چھٹی مل گئی اور انہوں نے میر صاحب کا ناک میں دم کر دیا:

جیسے زنبور زرد ایسے ڈانس
کاٹ کھاویں تو اچھلو دو دو بانس

ڈانس سے مراد انگریزی والا رقص نہیں بلکہ ایک قسم کی بھڑ ہے۔ (یونہی دل میں خیال آیا ہے کہ میر رعایتِ لفظی کے جتنے دلدادہ تھے کہ بقول شخصے، رعایتِ لفظی کے بغیر لقمہ نہیں توڑتے تھے، اگر انہیں ڈانس لفظ کے انگریزی معنی کا پتہ ہوتا تو وہ اس پر بھی ہاتھ صاف کرنے سے نہ چوکتے۔ لیکن خیر، یہ کمی ہم خود آگے چل کر پوری کر دیں گے)

تسنگ میں سبزی کے نام پر صرف کدو ملتا ہے، اور وہ بھی بصد خواری۔ مرچ مصالحے کی جگہ پنساری زرد مٹی کی پڑیاں بیچتا ہے۔ لیکن تسنگ اصل مصیبت کتے ہیں، صفحوں کے صفحے کتے، کتوں کے پشتے:

کتوں کے چاروں اور رستے تھے
کتے ہی واں کہے تو بستے تھے

دو کہیں ہیں کھڑے کہیں بیٹھے
چار لوگوں کے گھر میں ہیں پیٹھے

ایک نے پھوڑے باسن، ایکو نے
کھود مارے گھروں کے سب کونے

کوئی گھورا کرے کوئی بھونکے
خفتہ خفتہ بھی شور سے چونکے

سانجھ ہوتے قیامت آئی ایک
شور عف عف سے آفت آئی ایک

جاگتے ہو تو دوبدو کتے
سو کر اٹھو تو روبرو کتے

میر نے سگانِ تسنگ کے اتنے متحرک خاکے اتارے ہیں کہ لگتا ہے کہ کسی اے آئی ایپ کے لیے پرامپٹ لکھ رہے ہوں:

ایک نے آ کے دیگچہ چاٹا
ایک آیا سو کھا گیا آٹا

ایک نے دوڑ کر دیا پھوڑا
پھر پیا آ کے تیل اگر چھوڑا

گھورنے اک لگا اندھیرا کر
ایک نے اور ایک پھیرا کر

گھر میں چھینکے اگر تھے توڑ دیے
ہانڈی باسن گرا کے پھوڑ دیے

لوگ سوتے ہیں کتے پھرتے ہیں
لڑتے ہیں دوڑتے ہیں گرتے ہیں

جب کہ ہڈی پہ چار چار لڑیں
گوشت پر بھیڑیے سے دوڑ پڑیں

قصہ مختصر کہ تسنگ کے ان ’اسفندیار‘ کتوں کے سامنے پطرس کے کتے کل کے کتورے لگتے ہیں۔

تاریخی دستاویز کے طور پر یہ مثنوی غیر معمولی ہے۔ راستے کی مخدوشی، سرائے کا نظام اور بھٹیاری کی معیشت، بنیے کی دکان پر مکھیوں کا چاٹا آٹا، سبزیوں کے مقامی نام (بھنڈی بیگن کے ناؤں ڈھینڈس تھا)، وہ پھوٹی مسجد جس میں ’خطیب تھا نہ اذاں‘ اور اٹھارہویں صدی کے وسط کے زمانے کی مشہورِ زمانہ بدامنی ’پڑی آفت خطر تھا سکھوں کا۔‘ جس زمانے میں لکھی گئی میر کی غزل زمین کا پتہ نہیں دیتی، یہ مثنوی اسی زمانے کا پورا خاکہ کھینچ دیتی ہے۔

یہ تو ہو گئی مثنوی کی کہانی، اب ہم تھوڑا پیچھے ہٹ کر تسنگ نامہ کا مجموعی جائزہ لیتے ہیں اور دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ میر کے مجموعی کلام میں اس کا کیا مقام بنتا ہے۔

میر کے کلیات میں چھ اردو دیوان ہیں، ایک فارسی۔ اس کے علاوہ مرثیے، واسوخت، تضمین، مذہبی کلام اور اس کے بعد، جیسے کہ اوپر ذکر ہوا، 39 کے لگ بھگ مثنویاں، جن میں چھ عشقیہ اور داستانوی، سات نواب آصف الدولہ کے دربار سے متعلق، جن میں شکارنامے بھی شامل ہیں، ایک مدحیہ، چھ ہجویہ اور تیرہ مثنویاں ایسی ہیں جو ذاتی حالات و واقعات پر مبنی ہیں، جن میں تسنگ نامہ بھی شامل ہے، پانچ چھ متفرق۔

میر کی مثنویوں کے بارے میں روایتی تصور یہ ہے کہ ان میں ادبی مقام صرف عشقیہ مثنویوں کا ہے، یعنی’شعلۂ عشق،‘ ’دریائے عشق، اور ’معاملاتِ عشق،‘ وغیرہ۔ باقی سب ہلکا پھلکا کلام ہے۔

تسنگ نامہ کو اسی ہلکے پھلکے کلام کا حصہ مانا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اب تک اس مثنوی کا کسی نقاد نے تفصیلی جائزہ نہیں لیا، اور اسے سرسری طور پر ’دوسری مثنویاں‘ کے تحت نمٹا دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ تسنگ نامہ میر کے ہاں اپنی نوعیت کی منفرد مثنوی نہیں ہے، میر نے جانوروں، موسموں اور سفر کی صعوبتوں پر پوری ایک ذیلی دنیا آباد کر رکھی ہے۔ ’اژدرنامہ،‘ دو عدد شکارنامے، اپنے ٹوٹے گھر کی ہجو، برسات کی مذمت، اور ’موہنی بلی‘ (تسنگ نامہ میں گم ہونے والی سوہنی کی غالباً اماں)، یہ سب مل کر ثابت کرتے ہیں کہ ٹھوس گھریلو زندگی، جانور، اشیا، اور روزمرہ کا مشاہدہ میر کے ہاں کوئی اتفاقی جھلک نہیں، مستقل مشغلہ ہے جو ان کی ’آفاقی‘ غزلوں کے پہلو بہ پہلو چلتا رہتا ہے۔

ان ’واقعاتی‘ مثنویوں کی قریبی رشتہ دار میر کی فارسی خودنوشت ’ذکرِ میر‘ ہے کہ وہاں بھی سفر ہیں، صعوبتیں ہیں، زمانے کی شکایت اور لوگوں کی بےمروتی۔

پھر یہ سب کچھ پڑھا کیوں نہیں گیا؟ ہمارے خیال سے ہوا کیا کہ غزلوں کی شہرت نے عشقیہ مثنویوں کو دبا لیا، اور عشقیہ مثنویوں کی شہرت نے ہجووں اور گھریلو نظموں کو گمنامی کے گوشے میں دھکیل دیا۔ اوپر سے آزاد اور ان کی دیکھا دیکھی دوسرے ناقدوں کی گھڑی ہوئی وہی مورت، سراپا سوز و گداز، باغ کی کھڑکی نہ کھولنے والا میر، ہم سفر سے بات نہ کرنے والا میر۔ ایسے میر کے ہاں کتوں، کھٹملوں اور بھٹیارنوں کی گنجائش کہاں سے نکلتی؟

اب اس مثنوی کو میر کی غزل کے سامنے رکھیے تو لگتا ہے دو الگ شاعر ہیں جو ایک نام سے لکھتے رہے۔ پہلا فرق مکان اور زمان کا ہے۔ غزل کا میر کہیں نہیں رہتا اور ہر جگہ رہتا ہے۔ اس کا دشت کسی نقشے کا پابند نہیں، اس کی شامِ غم کسی تقویم میں درج نہیں۔ تسنگ نامہ کا میر مکمل طور پر قابلِ نقشہ اور قابلِ تاریخ ہے۔ اس کی طے کردہ منزلیں گنی جا سکتی ہیں، اور شاہ عالم کے طعنے اور سکھوں کے خطرے سے زمانہ متعین کیا جا سکتا ہے۔

دوسرا فرق متکلم کا ہے۔ غزل کا ’میں‘ یا ’میر جی‘ ایک آفاقی اور ماورائی عاشق ہے، بے پیشہ، بےعمر، بےزمانہ۔ میر کی ٹین ایج کی عمر میں لکھی جانے والی غزلوں سے لے کر دیوانِ ششم کے استادِ ہشتاد سالہ کی غزلوں کے اسلوب میں کوئی جوہری فرق نہیں۔ اس کے برعکس تسنگ نامے کا ’میں‘ میر محمد تقی نامی ایک متعین شخص ہے، جس کے پائنچے کیچڑ سے لت پت ہو جاتے ہیں، جو مخدوش سفر میں پالتو بلی ساتھ لے کر چلتا ہے، گم کر بیٹھتا ہے اور پھر اس پر بین کرتا ہے، یہ غزل والا خود بین و خود آرا شخص نہیں، کسی صاحب کی معیت میں ایسا خادم پیشہ ادیب ہے جس کی روٹی صاحب کے دسترخوان سے بندھی ہے:

پہنچے ہے ان کے روبرو سے طعام
صبح کا صبح مجھ کو شام کا شام

غزل کا عاشق اپنے دکھ کی سلطنت کا بادشاہ ہے، مثنوی کا مسافر اپنی روٹی کا محتاج۔

تیسرا فرق دکھ کی نوعیت کا ہے۔ غزل کا دکھ وجودی ہے، ہجر، فنا، موت، فلک کی جفا کاریاں۔ یہ وہ دکھ ہے جو سہنے والا ہنس کر سہتا ہے اور جتنا سہتا جاتا ہے، اس کا رتبہ بطور عاشق اتنا بڑھتا جاتا ہے۔ تسنگ نامہ کا دکھ عارضی، وقتی اور تڑپانے والا دکھ ہے۔ شاعر کو کھٹمل کاٹتے ہیں، دال پانی جیسی پتلی ملتی ہے، رات کو کیڑے مکوڑے ستاتے ہیں، کتے ہیں کہ سلیم احمد کے وسوسے، کہ ساری رات بھونک بھونک کر سونے نہیں دیتے۔ دونوں قسم کی شاعری شکایت نامہ ہی ہے، اور ویسے بھی شکایت میر کے مزاج کا بنیادی پتھر ہے، مگر غزل کا شکوہ آسمان سے ہے اور مثنوی کا بھٹیاری سے۔

گویا میر کی غزل اور میر کے تسنگ نامہ کے درمیان اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا شکوۂ فلک اور شکوۂ بھٹیاری کے درمیان جتنا فاصلہ ہے۔

چوتھا فرق زبان کا ہے۔ غزل کی زبان عمومی طور پر فصاحت کی چھلنی سے چھنی ہوئی ہے۔ تسنگ نامہ کی زبان وہ ٹھیٹ بولی ہے جسے غزل کا دربان دروازے ہی پر روک دیتا۔ چہلا، بھینس، ڈھینڈس، گھونس، چچڑی، بھٹیاری، چھپکلی، چھچھوندر، کسکسا آٹا، اروی، توری، تیل کی کپی، پنساری، نزلہ، زکام، کھانسی۔ صاف ظاہر ہے کہ ایک ہی شاعر کے پاس دو لغتیں ہیں، اور وہ موضوع اور صنف کی مناسبت سے اپنی مرضی کی لغت سے الفاظ چھانٹتا، چنتا اور برتتا ہے۔

اور پانچواں فرق، جو باقی سب پر بھاری ہے، استعارے کی سمت کا ہے، اور جو غزل میں عمودی اور یہاں افقی سمت میں چل رہا ہے۔ غزل کے میر کے ہاں دنیا کا جواز صرف اس حد تک ہے کہ وہ دل کا بیان کر سکے۔ غزل میں جب وہ اجڑے شہر کا ذکر کرتے ہیں تو وہ ایک شہر کا نہیں، دل کی بپتا بن جاتا ہے۔ جب میر شہاں کی آنکھوں میں سلائیاں پھرنے کی بات کرتے ہیں تو وہ ایک بادشاہ کا زوال نہیں، دنیا کی بےثبانی کا مرثیہ بن جاتا ہے۔ غزل کے میر کا ذاتی غم اس کا ذاتی غم نہیں، اس کے پورے عہد کا مجموعی غم بھی نہیں، ہر عہد، ہر زمانے، ہر مقام کا نوحہ ہے۔

تسنگ نامہ میں اسما کو آفاقی بنانے والا انجن بند پڑا ہے۔ یہاں کیچڑ کیچڑ رہتا ہے، کسی کائناتی حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کرتا، کتے کتے رہتے ہیں، بھوک بھوک رہتی ہے، اور بھنڈی بھنڈی۔ وہی میر جو غزل میں ایک اجڑے کوچے سے پوری کائنات کا ماتم کشید کر لیتا ہے، یہاں ایک اجڑی گڑھی سے صرف ایک اجڑی گڑھی برآمد کرتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ میر کے پاس بے پناہ منظر ہے، مگر منظر کا وہ دہرا عمل، یعنی شے کا شے رہتے ہوئے مادی سطح سے بلند ہو کر معنی بن جانا، اس مثنوی میں اور اس نوعیت کی دوسری مثنویوں میں معطل ہے۔

لیکن یہ بات بھی ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ یہ نارسائی نہیں، صنف کا تقاضا ہے۔ میر یہاں پر آفاقیت لانے کی کوشش کرتے تو جس ذاتی واردات کا وہ بیان کرنا چاہتے تھے، وہ سب گڈمڈ ہو جاتی۔ اگر وہ کیچڑ سے اٹی سڑک کو زندگی کے سفر کا استعارہ بنا دیتے یا کھوئی ہوئی بلی کے سر پر فنا کا سہرا باندھ دیتے تو ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا۔ میر عمودی پرواز کر سکتے تھے یا نہیں، اس کا جواب ان کی اٹھارہ سو غزلیں ہیں۔ ’خاک ہے ایسی زندگی کے بیچ‘ جیسا مصرع لمحہ بھر کو مثنوی کے درمیان چمکتا ہے، مگر اگلے شعر میں پھر منزلوں کی گنتی شروع ہو جاتی ہے۔

جاری ہے

بشکریہ فیسبک وال

اپنا تبصرہ لکھیں