کیمبرج سسٹم او لیول اردو کے تدریسی نظام، نصاب، امتحانی پرچے اور جانچ کے معیار نے طلبا اور اساتذہ کو مایوس کیا ہے/عفت نوید

کیمبرج سسٹم او لیول اردو کے تدریسی نظام، نصاب، امتحانی پرچے اور جانچ کے معیار نے طلبا اور اساتذہ کو مایوس کیا ہے۔
عفت نوید

پاکستان میں جب سرکاری نظامِ تعلیم کی خامیوں پر گفتگو ہوتی ہے تو عموماً کیمبرج سسٹم کو ایک ایسے متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں تعلیم، امتحان اور جانچ کا معیار زیادہ شفاف، منظم اور عالمی اصولوں کے مطابق ہے۔ لیکن جب اسی نظام کے ایک نسبتاً اہم مگر اکثر نظرانداز کیے جانے والے شعبے، یعنی او لیول اردو، کا قریب سے جائزہ لیا جائے تو کئی ایسے سوالات سامنے آتے ہیں جن کے جواب طلبہ، والدین اور اساتذہ کو ملنے چاہییں۔

برٹش کونسل کی طرف سے منعقد کیے جانے والے تربیتی ورکشاپس، سلیبس، امتحانی پرچے اور امتحانی پرچوں کو جانچنے والے استاد، مارکنگ اسکیم، جانچ شدہ پیپر۔۔۔۔۔
ان تمام مراحل میں کہیں انگریزی ترجیح بنیادوں پر ہے تو کہیں اردو کے ساتھ ناروا سلوک کہیں اساتذہ کے ساتھ تو کہیں طلبہ کے ساتھ۔
مگر لگتا ہے کہ انہیں نکیل ڈالنے والا کوئی نہیں۔
پاکستان کے نظام تعلیم کی طرح اب کیمبرج سسٹم بھی اساتذہ والدین اور طلبہ کو اپنی کارکردگی سے مطمئن کرنے میں ناکام رہا ہے۔
کیمبرج سسٹم میں خاص طور پر اساتذہ کی ٹریننگ سے لے کر امتحانی بورڈ میں اساتذہ کے تقرریوں کا معیار جانچنے کے لیے اکسفورڈ کی پبلش کردہ پرائمری، سیکنڈری اور او لیول کی درسی کتب کا جائزہ لینا ہی کافی ہے۔
پرائمری اور سیکنڈری میں نرد بان کے نام سے اردو قواعد کی کتاب بھی شامل ہے۔ ان کتب کا بیشتر مواد، اردو کی ٹیکسٹ بک کی پہلی جماعت سے آٹھویں جماعت کی سیریز میں بھی شامل ہے۔ پھر یہی نہیں، اکثر اسکول اپنے مونوگرام کے ساتھ ایک اور ورک بک بھی نصاب میں شامل کر دیتے ہیں۔
پاکستان کے انگلش میڈیم اسکولوں اور خاص طور پر کیمبرج سسٹم میں صرف ایک ہی سبجیکٹ اردو میں ہوتا ہے
باقی سب انگلش میں، اس لیے طلبا میں اردو کے لیے دلچسپی پیدا کرنا اور امتحان میں طلبا کی بہترین کار کردگی کی ذمہ داری بھی استاد پر ہی عائد ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اردو کے استاد کے انتخاب میں کچھ زیادہ تگ و دو بھی نہیں کی جا تی۔ اور کیمبرج سسٹم میں تو کسی بھی سبجیکٹ کے استاد کے لیے اشتہار نہیں دیا جا تا۔ جب کسی ٹیچر کی آسامی اچانک خالی ہوتی ہے تو استاد کے لیے آنے والی عرضیوں کو کھنگالا جا تا ہے۔ اگر کو ئی اردو کے استاد کی عرضی دیکھی تو اسے رسمی بات چیت اور دستاویزی خانہ پری کے بعد بطور استاد منتخب کر لیا جا تاہے۔ اگر کو ئی عرضی موجود نہ ہو تو اس دوران کسی بھی دوسرے سبجیکٹ کے لیے آئے ہوئے کسی امیدوار سے درخواست کی جاتی ہے کہ فی الحال تو اردو کے لیے ٹیچر کی فوری ضروت ہے۔ اگر اسے بھی فوری نوکری کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اردو پڑھانے کو تیار ہو جا تا ہے۔ سیشن کے اختتام پر ٹیچر کی بظاہر بری کارکردگی پر اسے ادارے سے ضرور نکال دیا جاتا ہے۔
نئی آسامیاں موسم گرما کی تعطیلات میں پر کی جاتی ہیں۔ نویں جماعت تک یہ معاملات متعلقہ کیمبرج سسٹم کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں تک محدود رہتے ہیں۔
لیکن، او اور اے لیول کے امتحانی پرچے، امتحانی مراکز،نگران اور ان کی جانچ کرنے والے ممتحن کا انتخاب، کیمبرج اسیسمنٹ انٹرنیشنل ایجوکیشن کے زیر اہتمام کیا جاتا ہے۔
امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے متعلق منصوبہ بندی ادارے کا استحقاق ہے، لیکن خاص طور پر امتحانی پرچے کی فائنل جانچ اور انتخاب کرتے وقت ضروری ہے کہ طلباء کی عمر کے حساب سے ان کی قابلیت، تخلیقی صلاحیت مد نظر رکھ کر امتحانی پرچہ مرتب کیا جا ئے۔انگریزی کے بے شمار الفاظ اب ہر طبقہ فکر و روزگار کی روز مرہ زندگی میں برتے جاتے ہیں۔
او اے لیول کے امتحانی پرچوں کی تمام ہدایات انگریزی زبان میں دی جاتی ہیں، لیکن امتحانی سوالات میں ان الفاظ کو بھی اردو میں لکھا جا تا ہے، جن کے بارے میں بچوں کے ساتھ بڑوں کو بھی آگاہی نہیں ہوتی۔
اپریل مئی میں ہونے والے او لیول کے اردو پرچے میں 14 نمبر کے ایک سوال میں کہا گیا کہ،
”آپ نے پچھلے ہفتے ایک عجائب گھر کا دورہ کیا تھا۔ اپنے دوست / سہیلی کو اس تجربے کے بارے میں بتانے کے لیے ایک ای میل لکھیں “۔
پاکستان کے بیشتر عجائب گھروں کے بورڈ پر میوزیم ہی لکھا ہوتا ہے۔ عام بول چال میں بھی عجائب گھر ادا نہیں کیا جاتا۔ پرچے میں
اس لفظ کے ذریعے طلبا کی تخلیقی اوراظہار کی صلاحیت کو جانچنا، سوال کرنے والے کی اہلیت پر بھی سوال ہے۔
یہاں سوال صرف اس بات کا نہیں کہ کس بچے نے کتنے نمبر حاصل کیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا امتحانی نظام اپنے ہی طے کردہ اصولوں کے مطابق ہر طالب علم کے علم، فہم، زبان اور اظہار کو منصفانہ انداز میں جانچ رہا ہے؟
سب سے زیادہ تشویش ناک معاملہ امتحانی جوابات کی پرکھ کا ہے۔
بعض طلبہ اور اساتذہ کی طرف سے یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ مارکنگ اسکیم میں جن نکات، طرزِ جواب اور مطلوبہ عناصر کو قابلِ قبول قرار دیا گیا، طلبہ کے جوابات میں وہی یا ان سے مطابقت رکھنے والے نکات موجود ہونے کے باوجود انہیں متوقع نمبر نہیں دیے گئے۔
یہ ایک معمولی شکایت نہیں۔
اگر ایک امتحانی بورڈ کسی سوال کے لیے واضح marking criteria مرتب کرتا ہے، پھر طالب علم اسی معیار کے مطابق جواب دیتا ہے، تو ممتحن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی معیار کی روشنی میں نمبر دے۔ اگر معیار کچھ اور ہو اور عملی جانچ کا نتیجہ کچھ اور، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ مارکنگ اسکیم کی حیثیت آخر کیا رہ جاتی ہے؟
کیمبرج خود اپنے اسکول سپورٹ ہب میں مختلف معیار کے candidate responses فراہم کرنے اور Principal Examiner کے ذریعے یہ وضاحت کرنے کا ذکر کرتا ہے کہ ان جوابات کو کس طرح نمبر دیے گئے۔
یہی چیز امتحانی شفافیت کی بنیاد بن سکتی ہے۔
لیکن اگر ایک استاد یا والدین کسی بچے کی کاپی سامنے رکھ کر یہ سوال کرے کہ،
”مارکنگ اسکیم کے مطابق اس جواب میں یہ نکتہ موجود ہے، پھر اس کے نمبر کیوں کاٹے گئے“۔
تو اس سوال کا واضح، قابلِ فہم اور دستاویزی جواب ملنا چاہیے۔
محض یہ کہہ دینا
کافی نہیں کہ ”ممتحن نے اپنے professional judgement کے مطابق نمبر دیے ہیں۔
پیشہ ورانہ پرکھ کابھی کوئی ضابطہ، معیار ہونا چاہیے۔
اگر ایک ہی سوال کے لیے،مارکنگ اسکیم میں ایک جواب قابلِ قبول ہے، لیکن کسی دوسرے طالب علم کے جواب میں اسی نوعیت کا مواد موجود ہونے کے باوجود کم نمبر دیے جاتے ہیں،تو یہ محض ایک طالب علم کا مسئلہ نہیں رہتا۔ یہ پرچہ جانچنے والے کی اہلیت پر بھی سوال ہے۔

(جاری ہے)

اپنا تبصرہ لکھیں