سوشل میڈیا، نئی تحریکیں اور حقیقی تبدیلی کا سوال (1)-سائرہ رباب

جنوبی ایشیا میں جب بھی کوئی نیا احتجاج، عوامی تحریک یا مزاحمتی لہر سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے، اس کے ساتھ کئی غلط فہمیاں بھی جنم لینے لگتی ہیں: کیا سوشل میڈیا انقلاب لا سکتا ہے؟ ارے، یہ آن لائن انقلاب لانے والے لوگ کیا جانیں انقلاب کیا ہوتا ہے! پھر پرانی تنظیموں اور تحریکوں کی مثالیں دی جاتی ہیں: ہم نے بیس بیس سال تنظیمیں بنائیں، کارکن تیار کیے، تب جا کر تحریکیں کھڑی ہوئیں؛ یہ لوگ دو دن میں کیا تبدیلی لائیں گے؟ یہ تو ورچوئل ہے، حقیقی نہیں۔ یہ تو سوشل میڈیا کا انقلاب ہے؛ چند ہیش ٹیگ، پوسٹیں اور وائرل ویڈیوز کیا حقیقی سیاسی تبدیلی لا سکتی ہیں؟ یعنی سوشل میڈیا پر بننے والی تحریکوں کو محض عارضی شور، جذباتی ردِعمل یا ’’ورچوئل ایکٹیوزم‘‘ سمجھ کر ان کی سیاسی اہمیت ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ دونوں رویے دراصل نئی مزاحمت کو پرانے پیمانوں سے جانچنے کی کوشش ہیں۔

زینپ طفیکچی کی کتاب
“Twitter and Tear Gas: The Power and Fragility of Networked Protest” ان غلط فہمیوں کو دور کرنے میں بہت مدد دیتی ہے۔
انہوں نے 1990ء کی دہائی سے 2018ء تک دنیا بھر کی درجنوں احتجاجی تحریکوں میں براہِ راست شرکت، مشاہدہ اور تحقیق کی، جن میں زاپاتیستا، مصر اسکوائر، آکوپائی وال سٹریٹ امریکا ، گزی پارک ترکی اور دیگر نمایاں تحریکیں شامل ہیں۔ ان تجربات کی بنیاد پر وہ دکھاتی ہیں کہ ٹیکنالوجی خود انقلاب نہیں لاتی، لوگ لاتے ہیں۔ ٹیکنالوجی صرف یہ بدلتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے سے کیسے جڑتے ہیں، اپنی اجتماعی طاقت کو کیسے پہچانتے ہیں اور مزاحمت کو کس رفتار اور پیمانے پر منظم کرتے ہیں۔

دراصل آج کی تحریکوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کتنے لوگ سڑک پر آئے؟ بلکہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے تک کیسے پہنچے، انہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ اکیلے نہیں، اطلاعات کیسے پھیلیں اور ایک مقامی واقعہ بڑی اجتماعی حرکت میں کیسے بدل گیا۔

غصہ پہلے سے موجود ہوتا ہے، ٹیکنالوجی اسے جوڑتی ہے

کسی معاشرے میں صرف سوشل میڈیا آ جانے سے انقلاب نہیں آتا۔ اس کے پیچھے پہلے سے موجود محرومی، غصہ، ناانصافی، سیاسی جبر، معاشی مسائل اور بے اختیاری ہوتی ہے۔

عرب بہار (Arab Spring)کے پیچھے بھی صرف فیس بک نہیں تھا, سیاسی جبر، بے روزگاری، کرپشن اور ریاستی طاقت کے خلاف برسوں سے جمع ہوتی ہوئی ناراضگی اور غصہ موجود تھے۔ اسی طرح کسی بھی موجودہ احتجاج کو صرف اس لیے ’’سوشل میڈیا کا احتجاج‘‘ کہنا کہ اس کی ویڈیوز یا ہیش ٹیگ بہت تیزی سے پھیلتے ہیں، اصل مسئلے کو نظر انداز کرنا ہے۔

ٹیکنالوجی غصہ پیدا نہیں کرتی؛ وہ بکھرے ہوئے غصے کو ایک دوسرے سے ملنے کا موقع دیتی ہے۔

یہ فرق بہت اہم ہے۔ اگر معاشرے میں ناانصافی کا تجربہ ہی موجود نہ ہو تو صرف ایک ہیش ٹیگ لوگوں کو طویل عرصے تک سڑک پر نہیں رکھ سکتا۔ لیکن جب محرومی پہلے سے موجود ہو تو نئی ٹیکنالوجی لوگوں کو یہ دریافت کرنے میں مدد دے سکتی ہے کہ میرا مسئلہ صرف میرا مسئلہ نہیں۔

اصل تبدیلی: ’’میں اکیلا ہوں‘‘ سے ’’ہم بہت ہیں‘‘

کچھ ماہرین نے طویل عرصے تک یہ تصور پیش کیا کہ انسان بنیادی طور پر خود غرض ہوتا ہے اپنے مفاد کا سوچتا ہے، اس لیے اجتماعی سطح پر قربانی دینا ایک غیر فطری چیز ہے۔ لیکن مصنف کے مطابق قدرتی آفات اور ہنگامی حالات اس تصور کو بار بار چیلنج کرتے ہیں۔

جب کوئی بڑا بحران آتا ہے جیسے قحط ، زلزلہ ،سیلاب تو لوگ اجنبیوں کی مدد کرتے ہیں، کھانا بانٹتے ہیں، زخمیوں کو اٹھاتے ہیں، اپنی گاڑیاں دوسروں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور کبھی اپنے وسائل بھی قربان کرتے ہیں۔ یعنی بعض حالات میں انسان کا رویہ محض خود غرض فرد کا نہیں رہتا بلکہ دوسرے انسان سے تعلق رکھنے والے فرد کا بن جاتا ہے۔

یہاں اصل چیز صرف مشترکہ مفاد نہیں بلکہ وابستگی کا احساس — کمیونٹی ہے۔ (a sense of belonging n connecteness)

سوشل میڈیا اسی احساس کو ایک نئی سطح پر پیدا کر سکتا ہے۔ ایک شخص جب دیکھتا ہے کہ ہزاروں دوسرے لوگ بھی وہی تکلیف محسوس کر رہے ہیں تو اس کا احساس بدل جاتا ہے:

’’میں اکیلا نہیں ہوں۔ ہم بہت سے ہیں۔‘‘

یہی وہ لمحہ ہے جب اجتماعی لاعلمی ٹوٹتی ہے۔ لوگ پہلے شاید یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ سب خاموش ہیں، اس لیے شاید صرف میں ناراض ہوں۔ لیکن جب انہیں ایک دوسرے کی آوازیں نظر آنے لگتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ خاموشی ہمیشہ رضامندی نہیں ہوتی۔

مزاحمت کا نظر آنے لگنا (Visibility)

نئی ٹیکنالوجی نے احتجاج کو صرف تیز نہیں کیا، اسے نظر آنے والا بھی بنایا ہے۔

پہلے کسی شہر میں ہونے والا واقعہ دوسرے شہر کے لوگوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دبایا جا سکتا تھا۔ اب ایک عام شخص موبائل سے ایک تصویر یا ویڈیو بنا کر اسے چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔

اس سے ایک اہم نفسیاتی تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔

لوگ صرف واقعہ نہیں دیکھتے، ایک دوسرے کو بھی دیکھتے ہیں۔

ایک مظاہرہ، ایک گرفتاری، پولیس تشدد کی ایک ویڈیو یا کسی متاثرہ شخص کی گواہی دوسرے لوگوں کے لیے یہ اشارہ بن سکتی ہے کہ کہیں اور بھی لوگ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

یعنی:

نظر آنا → دوسروں کو نظر آنا → اپنی تعداد کا احساس → عمل کا حوصلہ

کنیکٹڈ: مختلف لوگ ایک دوسرے تک پہنچ سکتے ہیں

سوشل میڈیا نے مختلف لوگوں کے درمیان ایسے رابطے ممکن کیے جو پہلے مشکل تھے۔

ایک شخص اپنے خاندان یا محلے کے لوگوں تک محدود نہیں رہتا۔ وہ کسی دوسرے شہر، طبقے، زبان یا پیشے کے ایسے شخص سے بھی جڑ سکتا ہے جس کا تجربہ مختلف ہونے کے باوجود مسئلہ مشترک ہو۔

یہاں کمزور روابط بہت اہم ہو جاتے ہیں۔

ہم اپنے قریبی دوستوں اور خاندان کے لوگوں سے مضبوط تعلق رکھتے ہیں، مگر نئی معلومات اکثر ان لوگوں کے ذریعے آتی ہیں جنہیں ہم بہت اچھی طرح نہیں جانتے۔ ایک شخص کسی دوسرے شہر کے کسی اجنبی کی پوسٹ دیکھتا ہے، اسے آگے پہنچاتا ہے، اور وہ اطلاع ایک ایسے نیٹ ورک تک پہنچ جاتی ہے جہاں پہلے اس کی کوئی رسائی نہیں تھی۔

اس طرح:

کمزور روابط → نئی معلومات → نئے لوگ → وسیع نیٹ ورک

اور یہی کمزور روابط بڑی تحریکوں کے لیے غیر معمولی طور پر کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔

ریپڈ: رفتار نے مزاحمت کی نوعیت بدل دی

دوسری بڑی تبدیلی رفتار ہے۔

پہلے کسی احتجاج کی اطلاع پھیلانے، لوگوں کو بلانے اور مختلف مقامات کو آپس میں جوڑنے میں بہت سا وقت اور بھاری ریسورسز درکار تھے۔ اب ایک واقعہ چند منٹ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ مزاحمت یا احتجاج کی اس ابتدائی اسٹیج کو سوشل میڈیا نے بہت تیز اور آسان بنا دیا۔۔

اسی لیے آج کی تحریکیں کبھی کبھی بہت اچانک بڑی ہوتی ہوئی نظر آتی ہیں۔

لیکن یہاں بھی ایک اہم فرق سمجھنا چاہیے:

تیزی سے لوگوں کو متحرک کرنا اور دیرپا سیاسی طاقت بنانا ایک ہی چیز نہیں۔

سوشل میڈیا کسی تحریک کو بہت جلد بڑا بنا سکتا ہے، لیکن اسے مستقل سیاسی تبدیلی میں بدلنے کے لیے حکمتِ عملی، اعتماد، تنظیم اور ادارہ جاتی صلاحیت پھر بھی درکار ہوتی ہے۔ (جسکا ذکر اگلے حصے میں کیا جائے گا)

ایک چھوٹی آواز بڑے نیٹ ورک تک

تیسری تبدیلی پیمانے کی ہے۔

ایک عام شخص کی آواز پہلے اس کے محدود حلقے تک رہ سکتی تھی۔ اب وہی شخص کسی ہیش ٹیگ، ویڈیو یا پوسٹ کے ذریعے ایسے لوگوں تک پہنچ سکتا ہے جنہیں وہ کبھی ملا ہی نہیں۔

یوں ایک مقامی مسئلہ قومی یا عالمی مسئلہ بن سکتا ہے۔

یہاں ٹیکنالوجی کا کمال یہ نہیں کہ اس نے انسان کو طاقتور بنا دیا، بلکہ یہ ہے کہ اس نے ایک انسان کو دوسرے انسانوں تک پہنچنے کی قیمت اور مشکل کم کر دی۔

ہیش ٹیگ صرف ایک نشان نہیں

اسی لیے ہیش ٹیگ کی اہمیت محض یہ نہیں کہ وہ کسی موضوع کو مقبول بنا دیتا ہے۔ ہیش ٹیگ بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک مشترکہ جگہ، مشترکہ مقصد اور شناخت فراہم کرتا ہے۔

پہلے کسی مسئلے پر معلومات پھیلانے کے لیے اخبار، ٹی وی یا کسی بڑے ادارے کی ضرورت زیادہ تھی۔ جو مکمل طور پر اسٹیٹ کنٹرول میں تھے ۔۔ اب ایک عام شخص بھی اپنی گواہی، تصویر، ویڈیو یا تجربہ اسی ہیش ٹیگ کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اب ایک عام آدمی بھی تخلیق کار ، ایڈیٹر اور پروڈیوسر ہے ۔۔

کیفے ہاؤس سے لِونگ ہاؤس تک

پہلے سیاسی اور فکری گفتگو کے لیے کیفے ہاؤس اہم جگہ تھا، جہاں محدود لوگ مل بیٹھ کر خیالات بناتے اور تحریکوں سے جڑتے تھے۔ مگر یہاں نسبتا امیر ، شہری ، کارکن اور پڑھے لکھے لوگ ہوتے تھے۔۔ آج سوشل میڈیا ایک طرح کا ڈیجیٹل لِونگ ہاؤس بن گیا ہے، لِونگ ہاؤس جیسا نیٹ ورک بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک مشترکہ تجربے اور تعلق میں جوڑ دیتا ہے۔ یوں سیاسی گفتگو صرف اشرافیائی یا محدود فکری حلقے تک نہیں رہتی بلکہ عام انسان بھی اپنی آواز، تجربے اور مشاہدے کے ساتھ اس گفتگو کا حصہ بن سکتا ہے۔

یہ تبدیلی اس لیے بھی اہم ہے کہ اب معلومات کا بہاؤ صرف اوپر سے نیچے نہیں آتا۔ بلکہ نیچے سے اوپر زیادہ جمہوری ہو گیا ہے۔۔ اور سوشل میڈیا پر پھیلنے کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا کو بھی کوریج دینا پڑتی ہے ۔

پہلے:

ریاست/ادارہ → میڈیا → عوام

زیادہ عام راستہ تھا۔

اب:

عام شہری → موبائل → نیٹ ورک → ہزاروں لوگ

بھی ممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عام شہری اب صرف خبر کا صارف نہیں؛ وہ گواہ، اطلاع دینے والا اور رابطہ کار بھی بن سکتا ہے۔

آن لائن اور آف لائن الگ دنیائیں نہیں

یہ بھی ایک بڑی غلط فہمی ہے کہ سوشل میڈیا کی تحریکیں صرف موبائل کی اسکرین پر ہوتی ہیں۔ اور اس بنا پر انکو کمتر سمجھا جاتا تھا

حقیقت میں آن لائن اور آف لائن ایک دوسرے کے ساتھ چلتے ہیں۔

ویڈیو آن لائن پھیلتی ہے، لوگ آف لائن جمع ہوتے ہیں۔ احتجاج سڑک پر ہوتا ہے، اس کی تصویر آن لائن پہنچتی ہے۔ آن لائن کسی دوسرے شہر کے لوگوں سے رابطہ ہوتا ہے، پھر وہ بھی سڑک پر نکلتے ہیں۔ (جیسا کہ ہمنے کوکروچ جنتا پارٹی کے کیس میں دیکھا)

یعنی:

آن لائن رابطہ → آف لائن عمل → آن لائن اطلاع → مزید آف لائن عمل

یہ ایک مسلسل چکر بن جاتا ہے۔

اس لیے سوشل میڈیا کو سڑک کا متبادل سمجھنا بھی غلط ہے۔ یہ زیادہ درست ہوگا کہ اسے سڑک تک پہنچنے اور سڑک پر ہونے والے عمل کو وسیع کرنے والے نئے رابطی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جائے۔ کتاب میں ایسے بیشمار واقعات کا ذکر ملتا ہے کہ کیسے آف لائن رابطے حقیقی تعلقات میں بدلے۔۔

اجتماعی عمل (collective action) سے رابطی عمل (connective action) تک

یہیں پرانا اور نیا فرق سب سے واضح ہوتا ہے۔

روایتی تحریک میں عموماً:

تنظیم → مرکزی قیادت → کارکن → ہدایات → اجتماعی عمل

ہوتا تھا۔ یعنی مرکزی قیادت پہلے تنظیم بناتی ہے پھر کارکن ، اوپر سے ہدایات اور اجتمائی عمل (centralized structure)

نیٹ ورک کے دور میں:

فرد → اپنا تجربہ → رابطہ → اشتراک → نیٹ ورک → اجتماعی عمل

کا راستہ بھی ممکن ہے۔ یعنی لوگ اپنی کہانیاں ، تجربات شیئر کرتے ہیں ، مشترکہ مسلہ پہچانتے ہیں ، آن لائن نیٹ ورک اور پھر آف لائن احتجاج یعنی (decentralized)

اسے اجتماعی عمل سے رابطی عمل کی طرف تبدیلی کہا جا سکتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ تنظیم ختم ہو گئی۔ بلکہ یہ کہ اب ہر شخص صرف کسی تنظیم کا ’’کارکن‘‘ بن کر ہی سیاسی عمل میں حصہ لینے کا پابند نہیں۔ وہ اپنی ذاتی شناخت، تجربے اور اظہار کے ساتھ بھی تحریک کا حصہ بن سکتا ہے۔
تاہم مصنف کا خیال ہے کہ افراد ، چھوٹے مقامی گروہ اور تنظیم سب مل کر ایک طاقتور تحریک بناتے ہیں۔۔
جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں