“یہ جبرِ مسلسل ہے، نہ دیوار کھڑی کر
آبادی بڑی ہے تو نئے گھر کی بنیاد رکھ”
کبھی کبھی قومیں نقشے نہیں بدلتیں، اپنے رہنے کا انداز بدلتی ہیں۔ گھر وہی رہتا ہے، مگر جب افراد بڑھ جائیں، ضرورتیں بدل جائیں اور زندگی کی رفتار کئی گنا تیز ہوجائے تو نئے کمرے بنائے جاتے ہیں۔ نئے کمرے گھر کو تقسیم نہیں کرتے، اسے بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے مطابق وسیع کرتے ہیں۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا سوال بھی اسی بنیادی حقیقت کو سمجھنے کا تقاضا کرتا ہے۔
ریاست کو چھوٹا نہیں، عوام کو قریب کرنا ہے
سب سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سب سے پہلے ہے۔ چار صوبے ہوں، پانچ، آٹھ یا اس سے زیادہ انتظامی اکائیاں، جب تک یہ سب آئینی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں، پاکستان پاکستان ہی رہے گا۔ صوبہ ملک نہیں، ریاستی انتظام کا ایک وسیلہ ہے۔
ہمارے ہاں صوبوں کی تعداد پر بحث یوں کی جاتی ہے جیسے نقشے پر نئی لکیر کھینچنا ملک کے وجود پر لکیر کھینچنا ہو۔ حالاں کہ ملک کی وحدت صوبائی حدوں سے نہیں، قومی شعور سے قائم ہوتی ہے۔ اگر چار صوبے مؤثر انداز میں ریاستی ذمہ داریاں پوری کر سکتے ہیں تو چار ہی کافی ہیں؛ لیکن جب آبادی کئی گنا بڑھ جائے، شہر پھیل جائیں، ضرورتیں بدل جائیں اور ایک انتظامی مرکز کروڑوں لوگوں تک بروقت نہ پہنچ سکے تو سوال یہ نہیں کہ “نئے صوبے کیوں؟” بلکہ یہ ہے کہ ریاستی نظام کو بدلتی ہوئی ضرورتوں کے مطابق کیسے مؤثر بنایا جائے؟
آبادی بڑھی تو انتظامی ڈھانچہ بھی بدلنا ہوگا
1951 میں پاکستان کی آبادی تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی، جو 2023 کی مردم شماری میں 24 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے ایک ایک صوبے کی آبادی دنیا کے کئی بڑے ممالک سے تجاوز کر چکی ہے، مگر نظامِ حکومت وہی پرانا ہے۔
سندھ، پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان بڑی آبادیوں، وسیع رقبوں اور دور دراز علاقوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ بدین سے گھوٹکی تک کے فیصلے کراچی میں، رحیم یار خان سے اٹک تک کے فیصلے لاہور میں، چترال سے ڈیرہ اسماعیل خان تک کے فیصلے پشاور میں اور ژوب سے گوادر تک کے فیصلے کوئٹہ میں ہوتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے ریاست تک رسائی فاصلے، وقت اور اخراجات کا مسئلہ بن جاتی ہے؛ مریض علاج کے لیے سفر کرتا ہے، طالب علم تعلیم کے لیے گھر چھوڑتا ہے، غریب معمولی سرکاری کام کے لیے چکر لگاتا ہے اور نوجوان روزگار کے لیے اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوتا ہے۔
یہ تقابل کسی صوبے کو کم تر ثابت کرنے کے لیے نہیں، بلکہ یہ دیکھنے کے لیے ہے کہ موجودہ انتظامی حجم آج کی آبادی، رقبے اور ضرورتوں کا بوجھ اٹھا بھی رہا ہے یا نہیں۔
موجودہ نظام آخر کیوں نہیں چل سکا؟
یہاں بنیادی سوال اٹھتا ہے: اگر آبادی، شہری پھیلاؤ، معاشی ضرورتیں اور عوامی توقعات کئی گنا بڑھ چکی ہیں تو انتظامی اختیار اور فیصلہ سازی اسی رفتار سے کیوں نہیں بدلی؟
دفاتر قائم ہونا اور ریاست کا شہری تک پہنچنا دو الگ چیزیں ہیں۔ نمائندگی موجود ہوسکتی ہے، مگر اگر فیصلہ سازی اور وسائل چند مراکز تک محدود رہیں تو عام آدمی کے لیے سرکاری نظام بدستور ایک دور کی دیوار بن جاتا ہے۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث محض نئی حد بندی کی خواہش نہیں؛ یہ موجودہ انتظامی ساخت کو آج کی ضرورت کے پیمانے پر پرکھنے کا مطالبہ بھی ہے۔ اگر موجودہ نظام کو بہتر اختیارات، بااختیار مقامی حکومت اور مؤثر وسائل کی تقسیم سے چلایا جاسکتا ہے تو ایسا ضرور ہونا چاہیے؛ لیکن اگر بڑھتی ہوئی آبادی، وسیع جغرافیہ اور انتظامی بوجھ موجودہ ساخت کو مؤثر حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ بنا چکے ہیں تو پھر نئے انتظامی یونٹس پر سنجیدگی سے غور کرنے سے انکار بھی مسئلے کا حل نہیں۔
اصل سوال یہ نہیں کہ موجودہ نظام کتنے برس چلتا رہا؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ آج کے پاکستان کی ضرورت پوری کرنے کے قابل بھی ہے؟
یہی نئے صوبوں اور انتظامی اکائیوں کی اصل بنیاد ہے۔ نقشہ ضرورت کے تابع ہونا چاہیے، ضرورت نقشے کے تابع نہیں۔
صوبہ شناخت نہیں، انتظامی وسیلہ ہے
لیکن اس بحث کو صوبائی یا لسانی تعصب کی عینک سے دیکھنا اصل مسئلے سے فرار ہے۔ کوئی نیا صوبہ کسی موجودہ صوبے کی شناخت یا تاریخ نہیں چھینتا؛ مقصد صرف انتظامی اختیار اور ریاستی سہولت عوام تک پہنچانا ہے۔ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان—سب ایک ہی قوم، ایک ہی ملک اور ایک ہی قومی مستقبل کا حصہ ہیں۔
تعصب وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں انتظامی اصلاح کو “ہمارا اور تمہارا” بنا دیا جائے؛ قومی سوچ وہاں شروع ہوتی ہے جہاں سوال یہ ہو کہ عوام کو بہتر حکومت کہاں اور کیسے مل سکتی ہے۔
“اپنے ہی شہر کے حاکم سے غریبی نہ گئی
فاصلے اتنے تھے، فریاد بھی پہنچے تو کہاں”
دنیا نے بھی بدلتے تقاضوں کے ساتھ انتظامی نقشے بدلے
دنیا کے انتظامی تجربات یہ بتاتے ہیں کہ ریاستیں اپنی آبادی، جغرافیے اور بدلتی ہوئی ضرورتوں کے مطابق اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی کرتی رہی ہیں۔ بھارت، امریکا، انڈونیشیا، ترکی اور کئی دوسرے ممالک نے مختلف ادوار میں اپنی انتظامی اکائیاں تشکیل دیں یا ان کی حدود تبدیل کیں، کیونکہ ریاست کا اصل مقصد نقشے پر کم لکیریں رکھنا نہیں بلکہ شہری تک مؤثر حکمرانی پہنچانا ہے۔ اصل راز تعداد نہیں، رسائی ہے۔
نیا صوبہ خود بخود ترقی نہیں لاتا
مگر ایک بنیادی احتیاط ضروری ہے: نیا صوبہ خود بخود ترقی نہیں لاتا۔ اگر نام، حدود اور سیکرٹریٹ بدل جائیں مگر مرکزیت اور طاقت کا پرانا ڈھانچہ برقرار رہے تو عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ نیا صوبہ بنانے کا مقصد صرف ایک نیا صوبائی سیکرٹریٹ بنانا نہیں، بلکہ اختیارات کو ضلع اور یونین کونسل کی سطح تک منتقل کرنا ہے تاکہ عام آدمی کو واقعی راحت ملے۔
صوبہ عوام کی منزل نہیں، ذریعہ ہے؛ منزل وہ دن ہے جب شہری کو علاج، تعلیم، انصاف، روزگار اور ریاستی اختیار کے لیے غیر ضروری فاصلے طے نہ کرنے پڑیں۔ اگر صوبہ صرف نئے حکمران پیدا کرے اور شہری کی مشکلات وہیں رہیں تو ہم نے انتظامی نقشہ تو بدل دیا ہوگا، ریاست نہیں۔
اصل سوال اختیار کی تقسیم کا ہے
اسی تناظر میں نئے انتظامی ڈھانچے پر مختلف سیاسی و حکومتی ایوانوں سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ کہیں نئے صوبوں کی بات ہو رہی ہے، کہیں بااختیار ضلعی حکومتوں کی، جبکہ بعض حلقے 18ویں ترمیم کے حقیقی نفاذ کو بھی اسی بحث کا حصہ سمجھتے ہیں۔
مگر سیاسی آواز اور عوامی ضرورت میں فرق ہے۔ اصل فیصلہ کسی جماعت کی خواہش نہیں، عوام کی رائے ہونی چاہیے۔ جہاں لوگ برسوں سے کسی نئے صوبے یا انتظامی اکائی کا مطالبہ کر رہے ہوں، وہاں ان کی آواز کو سیاسی مصلحت کے بجائے آئینی، شفاف اور باقاعدہ عوامی طریقۂ کار سے سنا جانا چاہیے۔ کیونکہ جب انتظامی اصلاح عوام کی ضرورت سے نکل کر اقتدار کے مفادات سے ٹکرا جائے تو پھر سوال حدود کا نہیں، نیت کا بھی ہوتا ہے۔
یہ بحث بہت پہلے سنجیدگی سے شروع ہوجانی چاہیے تھی۔ آبادی، شہری پھیلاؤ اور انتظامی پیچیدگیاں برسوں سے بڑھ رہی تھیں۔ وقت پر ریاستی ڈھانچے کا جائزہ نہ لینے کی قیمت آج سیاسی کشمکش کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
ماتھے پر شکن: آخر خوف کس بات کا ہے؟
مگر سوال یہ ہے کہ جو شخص نئے انتظامی یونٹس کی بات پر ماتھے پر شکن لے آتا ہے، آخر اسے خوف کس بات کا ہے؟ کیا اسے ڈر ہے کہ اختیار کی تقسیم سے برسوں سے چند ہاتھوں میں مرتکز طاقت اور سیاسی گرفت کمزور پڑ جائے گی؟ کیا اسے اندیشہ ہے کہ متوسط طبقہ آگے آیا، فیصلہ سازی میں جگہ بنائی اور اپنی صلاحیت کے مطابق کام کرنے لگا تو مراعات اور طاقت کا وہ توازن بدل جائے گا جس نے عوام کو اسی مرکزیت کے ذریعے اپنے حصار میں رکھا ہے؟
ایک سوال ان سیاسی قوتوں سے بھی بنتا ہے جو مختلف علاقوں میں نئے صوبوں کے مطالبات پر مختلف پیمانے اختیار کرتی ہیں۔ اگر سرائیکی صوبے کے قیام کی حمایت میں سیاسی سرگرمیاں اور جدوجہد ہوسکتی ہے تو سندھ میں نئے صوبوں کی بات آتے ہی “دھرتی ماں” کا سوال کیوں کھڑا ہوجاتا ہے؟ کیا انتظامی تقسیم ایک جگہ عوام کا حق اور دوسری جگہ دھرتی کی تقسیم بن جاتی ہے؟ اگر انتظامی اکائی کا مقصد عوام کو قریب تر ریاستی اختیار، بہتر حکمرانی اور مؤثر نمائندگی دینا ہے تو پھر اس اصول کا اطلاق سب کے لیے یکساں کیوں نہ ہو؟ اصول اگر عوامی سہولت ہے تو اس کا پیمانہ بھی سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
دھرتی اور آخرت کا سوال
کہا گیا ہے: “قیامت کے دن بی بی شہید کو کیا منہ دکھاؤ گے؟” مگر ذرا یہ بھی بتائیے: اگر نئے صوبے عوام کی سہولت، آئین، انصاف اور خیرِ عامہ کے لیے بنیں تو کیا اللہ تعالیٰ ناراض ہوگا؟ اگر نہیں، تو پھر ان کی مخالفت کی کیا وجہ اور کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ اور اگر بی بی شہید نے خود پوچھ لیا کہ نئے صوبوں کی مخالفت کیوں کی تھی؟ تو پھر کیا جواب ہوگا؟ آخرکار حساب اللہ تعالیٰ کے سامنے ہی دینا ہے۔
یہ سوال صرف ایک صوبے یا ایک جماعت سے نہیں، پورے سیاسی و انتظامی نظام سے ہے۔ پنجاب ہو، سندھ ہو، خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان، ہر جگہ اقتدار، وسائل اور فیصلوں پر عوامی نگرانی ہونی چاہیے۔ کیونکہ جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں؛ اختیار کی منصفانہ تقسیم، وسائل تک منصفانہ رسائی اور عوام کے سامنے جواب دہی بھی جمہوری نظام کی بنیاد ہیں۔
پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی حدود اور انتظامی حیثیت وقتاً فوقتاً بدلتی رہی ہے، مگر اس سے پاکستان کی قومی وحدت یا شناخت متاثر نہیں ہوئی۔
اس لیے اصل خطرہ صوبوں کی تعداد نہیں؛ اصل خطرہ وہ نظام ہے جس میں شہری سوال کرتا رہے اور فیصلہ اس تک پہنچنے سے پہلے کئی دروازوں میں رک جائے۔
دنیا کا تجربہ یہ بھی بتاتا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے عوامی خدمات، جواب دہی اور مقامی ضرورتوں کے مطابق فیصلوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں؛ لیکن اگر احتساب، مالی خودمختاری اور ادارہ جاتی صلاحیت موجود نہ ہو تو یہی نظام مقامی اشرافیہ کے قبضے، سرپرستی اور بدعنوانی کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔
اسی لیے نئے انتظامی یونٹ کے ساتھ مالی خودمختاری، ادارہ جاتی صلاحیت اور مؤثر احتساب بھی لازم ہیں۔
لہٰذا ہمیں صرف نئے صوبے نہیں، ایسا انتظامی معاہدہ چاہیے جس میں صوبہ بڑا ہو یا چھوٹا، شہری بڑا یا چھوٹا نہ ہو؛ دارالحکومت دور ہو تو بھی ریاستی انصاف دور نہ ہو۔
کس کا صوبہ نہیں، کس کے لیے صوبہ؟
اسی لیے ہمیں بحث کو “کس کا صوبہ؟” سے نکال کر “کس کے لیے صوبہ؟” تک لانا ہوگا۔ اگر جواب عوام ہیں تو راستہ ہے؛ اگر جواب اقتدار ہے تو نئی حدیں بھی پرانے مسائل ختم نہیں کرسکتیں۔
یہی فرق فیصلہ کرے گا کہ نئی انتظامی اکائی اصلاح بنے گی یا صرف اقتدار کا نیا مرکز۔
ہمیں دیواریں نہیں، راستے بنانے ہیں۔ گھر میں نئے کمرے بنانا گھر کو تقسیم نہیں کرتا، اسے بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے مطابق وسیع کرتا ہے؛ اسی طرح ہمیں پاکستان کو تقسیم نہیں کرنا، پاکستان کی انتظامی صلاحیت بڑھانی ہے۔
پاکستان بھی ہمارا وہی گھر ہے، بس اسے آنے والے کل کے لیے قابلِ رہائش بنانا ہے۔
چار صوبے ہوں، پانچ ہوں، آٹھ ہوں یا اس سے زیادہ—اگر فیصلہ آئین، عوامی رضامندی اور قومی مفاد کے تحت ہو تو قومی وحدت برقرار رہتی ہے۔
کیونکہ پاکستان صوبوں سے نہیں بنتا؛ صوبے پاکستان سے بنتے ہیں۔
اب وقت ہے، ورنہ پچھتاوا رہ جائے گا
سلگتا اشارہ
اگر ہم صوبائی حدود میں الجھے رہے تو وقت ہمارے فیصلے کرے گا؛ اگر پاکستانی بن کر عوام کو مرکز بنایا تو ہم اپنے فاصلے کم کرکے دنیا کے برابر کھڑے ہونے کی صلاحیت پیدا کرسکتے ہیں۔ ہمیں کسی ایک صوبے کے فرد یا سیاست دان کی حیثیت سے نہیں، پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا؛ تب ہی پاکستان دنیا کے سامنے برابر کھڑا ہوسکے گا۔
اسی لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست سیاسی جذباتی نعروں سے بالاتر ہو کر ایک مستقل ’قومی انتظامی کمیشن‘ قائم کرے، جو آبادی، جغرافیے، انتظامی رسائی اور عوامی ضرورتوں کو بنیاد بنا کر نئے انتظامی یونٹس اور اختیارات کی تقسیم کے بارے میں غیر جانب دار سفارشات دے۔
اب بھی وقت ہے؛ لیکن اگر یہ وقت گزر گیا تو پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچے گا۔ آخرکار سوال صوبوں کی تعداد کا نہیں، اس ریاست کی صلاحیت کا ہے جو اپنے ہر شہری کو انصاف، تعلیم، علاج، روزگار اور فیصلہ سازی تک مؤثر رسائی دے سکے۔
“نئی حدود کی سرحد نہیں، سہولت مانگ
جہاں سے عدل کی خوشبو آئے، وہ دیار مانگ”


