پڑھا لکھا پنجاب اور اس کے عملی نتائج/ اطہر شریف

پڑھا لکھا پنجاب کے نعرے اور عملی نتایج انتہائی مایوس کن مسلسل تعلیمی حالت تنزلی کا شکار جس کی تازہ جھلک
پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کی جانب سے 2 ستمبر 2026 میں جاری کردہ نویں جماعت (SSC Part-I) کے سالانہ امتحانات کے نتائج انتہائی مایوس کن رہے ہیں، جس میں 54 فیصد سے زائد طلبہ فیل ہو گئے ہیں۔ صوبے بھر کے تمام 9 تعلیمی بورڈز میں مجموعی طور پر تقریباً 13 لاکھ 95 ہزار سے زائد طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا، جن میں سے 7 لاکھ 53 ہزار سے زائد طلبہ امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے اور کامیابی کی مجموعی شرح صرف 45.98% رہی۔ اس تشویشناک صورتحال کے بعد پنجاب حکومت اور وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کی تعلیمی پالیسیوں پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ناقص نتائج کے بنیادی اعداد و شمار اور حقائقمختلف بورڈز کے نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی پرائیویٹ اسکولوں کے مقابلے میں بہت کمزور رہی ہے:سرکاری بمقابلہ پرائیویٹ اسکول: پرائیویٹ اسکولوں کے پاس ہونے کی شرح تقریباً 67% سے 70% رہی، جبکہ سرکاری اسکولوں کے محض 39% سے 40% طلبہ ہی پاس ہو سکے۔بورڈز کی کارکردگی: ملتان بورڈ 52.11% کامیابی کے ساتھ سرِفہرست رہا، جبکہ راولپنڈی بورڈ میں کامیابی کا تناسب سب سے کم یعنی 37.56% ریکارڈ کیا گیا۔ لاہور بورڈ میں بھی 50 فیصد سے زائد امیدوار فیل ہوئے۔صنف کا فرق: طالبات کی کامیابی کی شرح (58%) طلبہ (35%) کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی۔حکومتی حلقے کی صورتحال: خود صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات کے آبائی گاؤں ‘گلزار جاگیر’ کے سرکاری اسکول کا نتیجہ سب سے زیادہ چونکا دینے والا رہا، جہاں 18 میں سے صرف 1 طالب علم پاس ہو سکا

مورخہ 2 ستمبر 2026 کو پنجاب کے تمام تعلیمی بورڈ نے نویں کلاس کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا اس میں لاہور بورڈ میں 280676 (2 لاکھ 80 ہزار 676) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے 139543 ( 1 لاکھ 39 ہزار 543) اس طرح46.51% فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے 53.49% فیصد رہے-روالپنڈی بورڈ میں121739 ( 1 لاکھ 21 ہزار 739) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے45724 ( 45 ہزار 724)اس طرح 37.56 % فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے62.44% فیصد رہے-
فیصل آباد بورڈ میں196656 ( 1 لاکھ 96 ہزار 656) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے100708 ( 1 لاکھ 708) اس طرح 51.21 % فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے48.79 % فیصد رہے-ملتان بورڈ میں140675 (1 لاکھ 40 ہزار 675) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے73301 (73 ہزار 301) اس طرح 52.11% فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے47.88 % فیصد رہے- گجرانوالہ بورڈ میں 248352 (2 لاکھ 48 ہزار 352) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے 115916 (1 لاکھ 15ہزار 916) اس طرح46.51% فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے 53.49 % فیصد رہے-
سرگودہا بورڈ میں 107782 (1 لاکھ 7 ہزار 782) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے45925 ( 45 ہزار 925 ) اس طرح47.61 % فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے52.39 % فیصد رہے- ساہیوال بورڈ میں 87093 (87 ہزار 93) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے 37803 (37 ہزار 803) اس طرح43.41% فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہونے56.59 % فیصد رہے-
ڈی جی خان بورڈ106001 (1 لاکھ 6 ہزار 1) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے 51081 ( 51 ہزار 81)اس طرح48.18% فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہوئے 51.82 % فیصد رہے- بہاولپور بورڈ میں 105601 ( 1 لاکھ 5 ہزار 601) طلبہ نے امتحانات میں حصہ لیا پاس ہوئے40611 (40 ہزار 611)اس طرح 38.46% فیصد پاس ہونے والوں کا تناسب رہا اور فیل ہوئے 61.54 % فیصد رہے- سب سے کم روالپنڈی بورڈ میں کامیابی کا تناسب 37.56% -ٹوٹل پنجاب کے 9 تعلیمی بورڈ میں 1396175 (13 لاکھ 96 ہزار 175) طالب علموں نے نویں کے امتحان میں حصہ لیا اور ان میں سے پاس ہوئے 641612(6 لاکھ 41 ہزار 612) پاس ہونے والوں کا تناسب رہا 45.95% فیصد نصف سے بھی کم اور فیل ہونے والے طالب علم کی تعداد 754563 (7 لاکھ 54 ہزار 563) فیل ہونے والوں کا پنجاب بھر میں تناسب رہا 54.04% فیصد یہ نتائج ہے پڑھے لکھے پنجاب کے ابھی ان میں پرائیوٹ اداروں کا بھی رزلٹ شامل ہے اگر ان کو نکال دیا جائے تو سرکاری اداروں سے کامیابی کا تناسب 36% سے زائد نہیں ہوگا

صرف لاہور کے بورڈ کے نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کے نتائج کا ذکر کرتا ہو
لاہور بورڈ نےنویں جماعت کے امتحانات کےنتائج کا اعلان کردیا،لاہور کے سرکاری اسکولز کے صرف 39 %فیصد طلبا نویں جماعت کا امتحان پاس کرسکے،جبکہ 61 %فیصد طلبا فیل ہوگئے، سرکاری اسکولز کے 72 % فیصد لڑکے اور 52 % فیصد لڑکیاں امتحان میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

سرکاری اسکولز کےمقابلےمیں نجی اسکولز کےنتائج نمایاں طور پر بہتر رہے،جہاں %70 فیصد طلبا کامیاب ہوئے،لاہوربورڈ میں مجموعی طورپر 46 % فیصد طلبا نویں جماعت کا امتحان پاس کرسکے، پنجاب حکومت کی حالیہ تعلیمی پالیسیاں اور تبدیلیاںناقص نتائج کی ایک بڑی وجہ حکومت کی جانب سے امتحانی نظام میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیاں
اساتذہ کی کمی اور ایس ٹی آئی (STI) پالیسی: پبلک سیکٹر میں مستقل اساتذہ کی شدید کمی ہے، اور عارضی طور پر رکھے گئے اسکول ٹیچرز انٹرنز (STIs) کے کنٹریکٹ کے مسائل کی وجہ سے تعلیمی تسلسل برقرار نہیں رہ سکا۔عوامی اور تعلیمی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ حکومت نے نصاب اور امتحانی معیار تو بین الاقوامی طرز پر تبدیل کر دیا، لیکن سرکاری اسکولوں میں اساتذہ کو جدید تدریسی طریقوں کی تربیت فراہم نہیں کی گئ

Source :Dunya news. SAMAA news 02 sep 2026
BISB Rawalpindi
BISE LAHORE FAISALABAD GUJRANWALA ,D.G.khan ,Bahawalpur.sahiwal, multan,sargodha

اپنا تبصرہ لکھیں